بسم اللہ الرحٰمن الرحیم
شان و شوکت’ وظائف اور فضیلت
قرآن مجید کی ایک ایسی آیت ہے جسے "کلیدِ قرآن" (قرآن کی کنجی) کہا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف تلاوت کا آغاز ہے بلکہ برکت، رحمت اور اللہ کی توحید کا ایک جامع اعلان ہے۔
ذیل میں اس کی شان و شوکت، اہمیت اور قرآنی تذکرے کی تفصیل دی گئی ہے:
قرآن مجید میں تذکرہ اور مقام
قرآن کریم میں تسمیہ (بسم اللہ) کا تذکرہ دو حوالوں سے بہت اہم ہے:
ہر سورت کا آغاز:
قرآن مجید کی 114 سورتوں میں سے 113 سورتوں کا آغاز اسی مبارک آیت سے ہوتا ہے (سوائے سورہ توبہ کے)۔
سورہ النمل میں تذکرہ:
یہ آیت قرآن کے متن کا حصہ بن کر سورہ النمل (آیت نمبر 30) میں نازل ہوئی، جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کو خط لکھا:
"اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ"
(بے شک یہ سلیمان کی طرف سے ہے اور یہ اللہ کے نام سے ہے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے)۔
تعداد: پورے قرآن میں یہ کلمہ 114 مرتبہ آیا ہے (113 سورتوں کے آغاز میں اور ایک بار سورہ النمل کے درمیان میں)۔
شان و شوکت اور فضیلت
"بسم اللہ" کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تمام آسمانی کتب کا خلاصہ سمجھی جاتی ہے۔
برکت کا ذریعہ:
حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ ہر وہ جائز کام جو بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے، وہ برکت سے خالی (ادھورا) رہتا ہے۔
شیطان سے حفاظت:
بسم اللہ پڑھ کر کام شروع کرنے سے انسان شیطانی مداخلت سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
اسمِ اعظم کا قرب:
بعض روایات کے مطابق بسم اللہ اور اللہ کے اسمِ اعظم کے درمیان اتنا ہی قرب ہے جتنا آنکھ کی سفیدی اور سیاہی کے درمیان۔
کلمات کی اہمیت (تفسیرِ مختصر)
اس مختصر سے جملے میں اللہ تعالیٰ کی تین عظیم صفات کا ذکر ہے:
لفظ اہمیت و مفہوم

اللہ
یہ اللہ کا ذاتی نام ہے جو کائنات کی ہر شے کے خالق اور معبودِ برحق ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
الرحمٰن
وہ ذات جس کی رحمت عام ہے، جو مومن، کافر، انسان اور چرند پرند سب کو رزق دیتا ہے۔
الرحیم
وہ ذات جس کی رحمت خاص ہے، جو خاص طور پر قیامت کے دن مومنوں پر کرم فرمائے گا۔
عملی زندگی میں اہمیت
اسلامی تعلیمات کے مطابق "بسم اللہ" پڑھنا صرف تلاوت تک محدود نہیں بلکہ:
کھانا کھانے، پانی پینے، گھر میں داخل ہونے اور سواری پر بیٹھنے سے پہلے اسے پڑھنا مسنون ہے۔
یہ اس بات کا اقرار ہے کہ بندہ اپنی طاقت سے نہیں بلکہ اپنے رب کی مدد اور توفیق سے کام کر رہا ہے۔
خلاصہ:
بسم اللہ الرحٰمن الرحیم اللہ کی رحمت کا وہ دروازہ ہے جسے کھول کر بندہ اپنے ہر کام کو عبادت کے درجے تک لے جا سکتا ہے۔
"بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کی فضیلت پر رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی آلِ پاک (اہلِ بیت علیہم السلام) کے ارشادات رشد و ہدایت کا وہ مینار ہیں جو اس آیت کی باطنی اور ظاہری عظمت کو واضح کرتے ہیں۔
ذیل میں منتخب احادیث اور فرامینِ اہل بیت درج ہیں:
فرامینِ رسول اللہ ﷺ
حضور اکرم ﷺ نے بسم اللہ کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اسے ہر خیر کی بنیاد قرار دیا:
برکت کی کنجی:
آپ ﷺ نے فرمایا:
"ہر وہ ذی شان کام جو 'بسم اللہ' سے شروع نہ کیا جائے، وہ ناقص اور ادھورا ہے (اس کی برکت کاٹ دی جاتی ہے)۔"
عظیم ترین آیت:
ایک روایت کے مطابق آپ ﷺ نے فرمایا:
"مجھ پر ایک ایسی آیت نازل ہوئی ہے جو حضرت سلیمان (ع) کے علاوہ کسی نبی پر نازل نہیں ہوئی، اور وہ 'بسم اللہ الرحمٰن الرحیم' ہے۔"
حفاظت کا ذریعہ:
آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ جب بندہ بسم اللہ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے درمیان سے پردے ہٹ جاتے ہیں اور یہ کلمہ بلاؤں سے ڈھال بن جاتا ہے۔
فرامینِ اہل بیت علیہم السلام
اہلِ بیت اطہار نے اس کلمے کے اسرار و رموز اور اس کی گہرائی کو بیان فرمایا ہے:
حضرت علی بن ابی طالب (ع):
مولائے کائنات، جو بابِ علم ہیں، آپ نے بسم اللہ کی وسعت کے بارے میں فرمایا:
"تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ قرآن ہے، قرآن کا خلاصہ سورہ فاتحہ ہے، سورہ فاتحہ کا خلاصہ 'بسم اللہ' ہے اور بسم اللہ کا خلاصہ اس کی 'ب' (باء) ہے۔"
ایک مشہور قول ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا: "میں اس 'ب' کے نیچے کا نقطہ ہوں" (یعنی میں اس علم کا مرکز اور ترجمان ہوں)۔
امام جعفر صادق (ع):
آپ نے بسم اللہ کی عظمت کو اسمِ اعظم سے تشبیہ دی:
اسمِ اعظم کے قریب:
"بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ کے اسمِ اعظم سے اس قدر قریب ہے جتنا آنکھ کی پتلی اس کی سفیدی سے قریب ہوتی ہے۔"
آپ (ع) نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ہر سورت کا جزو ہے، فرمایا: "انہوں نے (مخالفین نے) قرآن کی سب سے بڑی آیت کو چرایا ہے، اور وہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ہے۔"
امام علی رضا (ع):
آپ نے بسم اللہ کو دعا کی قبولیت کی علامت قرار دیا:
"جب کوئی بندہ بسم اللہ پڑھ کر کسی کام کا آغاز کرتا ہے تو گویا وہ اللہ کی مہر اس کام پر لگا دیتا ہے، اور اللہ کی مہر لگی ہوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔"
بسم اللہ کے حروف کی حکمت (اہلِ بیت کی نظر میں)
فرامینِ اہل بیت میں بسم اللہ کے حروف کی بھی تشریح ملتی ہے:
ب: بَہَاءُ اللّٰہ (اللہ کی چمک/خوبصورتی)
س: سَنَاءُ اللّٰہ (اللہ کی رفعت/بلندی)
م: مَجْدُ اللّٰہ (اللہ کی بزرگی)
خلاصہ و اثرات
اہلِ بیت کے ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ بسم اللہ محض ایک رسمی جملہ نہیں بلکہ:
یہ توحید کا عملی اقرار ہے۔
یہ شیطان کے لیے دیوار ہے۔
یہ رزق میں وسعت اور کاموں میں آسانی کا وظیفہ ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کو محض ایک آیت نہیں بلکہ ہر مشکل کی چابی اور ہر بیماری کی شفا قرار دیا گیا ہے۔ ائمہ اہل بیت سے مروی چند اہم وظائف اور ان کے طریقے درج ذیل ہیں:
ہر حاجت اور مشکل کے لیے (امام جعفر صادق ع)
امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ جو شخص کسی مشکل میں گھرا ہو یا کوئی بڑی حاجت رکھتا ہو، وہ اس عمل کو اپنائے:
وظیفہ:
روزانہ 786 مرتبہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھیں۔
فائدہ:
یہ عدد اس آیت کے حروف کے ابجد کے مطابق ہے۔ اہل بیت کے چاہنے والے اسے بلاؤں کے ٹلنے اور رزق کی فراخی کے لیے بہت مجرب مانتے ہیں۔
بیماری سے شفا کے لیے (امام علی رضا ع)
روایات میں آتا ہے کہ ایک شخص نے امام علی رضا علیہ السلام سے بیماری کی شکایت کی، تو آپ نے "بسم اللہ" کے ذریعے شفا کا یہ طریقہ بتایا:
عمل:
درد کی جگہ پر ہاتھ رکھ کر 3 مرتبہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھیں اور پھر اللہ کی عزت و قدرت کے واسطے سے دعا کریں۔
تاثیر:
امام کا فرمان ہے کہ جو شخص پورے یقین کے ساتھ اسے پڑھتا ہے، اللہ اسے شفا عطا فرماتا ہے۔
دشمن کے شر اور خوف سے نجات (مولیٰ علی ع)
حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ جب تم کسی ظالم حاکم یا دشمن کے سامنے جاؤ یا تمہیں کسی چیز سے خوف محسوس ہو تو یہ پڑھو:
وظیفہ:
"بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ"۔
فائدہ
آپ (ع) نے فرمایا کہ جو شخص یہ کلمات کہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ستر (70) قسم کی بلاؤں کو دور فرما دیتا ہے جن میں غم اور پریشانی بھی شامل ہے۔
سوتے وقت حفاظت کا وظیفہ (رسول اللہ ﷺ و اہل بیت ع)
آلِ محمد کی تعلیمات کے مطابق رات کو بستر پر لیٹتے وقت کا وظیفہ:
عمل
سونے سے پہلے 21 مرتبہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھیں۔
فائدہ
اس کی برکت سے وہ رات شیطان کے شر سے محفوظ گزرتی ہے، چوری اور اچانک موت سے حفاظت رہتی ہے اور ہر سانس کے بدلے نیکی لکھی جاتی ہے۔
بسم اللہ کے وظائف کے لیے اہم ہدایات
اہل بیت کے فرامین کی روشنی میں وظائف کی قبولیت کے لیے چند شرائط ضروری ہیں:
یقینِ کامل
یہ کہ اللہ کے نام میں ہر طاقت موجود ہے۔
درود شریف کا اضافہ: کسی بھی وظیفے کے اول و آخر اللہم صل علی محمد و آل محمد پڑھنا دعا کی قبولیت کی ضمانت ہے۔
لقمہ حلال
دعا کے اثر کے لیے رزقِ حلال بنیادی شرط ہے۔
ایک خاص نکتہ
حضرت علی (ع) کا فرمان ہے کہ اگر کوئی شخص کاغذ کے ٹکڑے پر "بسم اللہ" لکھ کر اس نیت سے کسی پاک جگہ یا دیوار پر لگائے کہ اس کی تعظیم کرے، تو اللہ اسے بخش دیتا ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں، آپ کی ضرورت (رزق، صحت یا سکون) کے مطابق مخصوص اور مجرب وظائف درج ذیل ہیں:
وسعتِ رزق اور برکت کے لیے
اگر آپ معاشی تنگی کا شکار ہیں یا چاہتے ہیں کہ آپ کے مال میں برکت ہو، تو ائمہ اہل بیت سے یہ عمل منسوب ہے:
وظیفہ
نمازِ فجر کے فوراً بعد، دنیاوی بات چیت کرنے سے پہلے 100 مرتبہ مکمل "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھیں۔
اضافہ
اس کے بعد 3 مرتبہ درود شریف (اللہم صل علی محمد و آل محمد) پڑھیں۔
فائدہ
روایات کے مطابق، یہ عمل رزق کو اس طرح کھینچتا ہے جیسے سیلاب کا پانی ڈھلوان کی طرف تیزی سے جاتا ہے۔
ذہنی سکون اور پریشانی کے خاتمے کے لیے
اگر دل گھبراتا ہو، وسوسے آتے ہوں یا ذہنی تناؤ ہو، تو مولائے کائنات حضرت علی (ع) کا یہ بتایا ہوا ذکر بہت پر اثر ہے:
وظیفہ
جب بھی پریشانی محسوس ہو، اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر 19 مرتبہ "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھیں۔
حکمت
بسم اللہ کے حروف کی تعداد بھی 19 ہے اور جہنم کے پہرے دار فرشتوں کی تعداد بھی 19 ہے۔ ائمہ فرماتے ہیں کہ یہ عدد ہر قسم کی "آگ" (چاہے وہ فکر کی ہو یا غصے کی) کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اکسیر ہے۔
جسمانی بیماری اور درد سے نجات کے لیے
امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے کہ جب جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو یہ عمل کریں:
ترکیب: اپنا سیدھا ہاتھ (Right Hand) درد والی جگہ پر رکھیں اور 7 مرتبہ یہ پڑھیں:
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، اَعُوْذُ بِعِزَّۃِ اللّٰہِ وَ اَعُوْذُ بِقُدْرَۃِ اللّٰہِ عَلٰی مَا اَجِدُ۔
فائدہ
اس کلمے کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس تکلیف کو زائل فرما دیتا ہے۔
ہر مشکل کام میں کامیابی کے لیے (نقشِ باطنی)
اگر کوئی کام اٹکا ہوا ہو یا کسی سے اپنی بات منوانی ہو (جائز مقصد کے لیے):
وظیفہ
گھر سے نکلتے وقت 11 مرتبہ بسم اللہ پڑھیں اور اس کے بعد یہ دعا پڑھیں جو امام علی (ع) اکثر پڑھا کرتے تھے:
"تَوَکَّلْتُ عَلَی الْحَیِّ الَّذِی لَا یَمُوتُ"
(میں نے اس زندہ ہستی پر توکل کیا جسے کبھی موت نہیں آئے گی)۔
ضروری گزارش:
اہلِ بیت کے وظائف میں "خلوصِ نیت" اور "پنجتن پاک (ع)" کی محبت بنیادی شرط ہے۔ جب آپ بسم اللہ پڑھیں، تو یہ تصور کریں کہ آپ کائنات کی سب سے بڑی طاقت کا سہارا لے رہے ہیں۔
اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں ان وظائف کے لیے بہترین اور مقرر اوقات درج ذیل ہیں، جن میں دعا کی قبولیت کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں:
نمازِ فجر کے بعد (رزق اور برکت کے لیے)
وقت
طلوعِ آفتاب سے پہلے، جب آپ نمازِ فجر سے فارغ ہوں اور اپنی جگہ پر بیٹھے ہوں۔
عمل
اس وقت 100 مرتبہ "بسم اللہ" پڑھنا معاشی استقامت کے لیے سب سے زیادہ مجرب ہے۔ اس وقت کو "بین الطلوعین" کہا جاتا ہے اور یہ رزق کی تقسیم کا وقت ہے۔
رات کو سونے سے پہلے (حفاظت کے لیے)
وقت
جب آپ بستر پر لیٹ جائیں اور تمام دنیاوی کاموں سے فارغ ہو جائیں۔
عمل
اکیس مرتبہ بسم اللہ پڑھ کر اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پر دم کریں۔ یہ رات بھر کی حفاظت کے لیے مقررہ وقت ہے۔
ہر نماز کے فوراً بعد (حاجات کے لیے)
وقت
پنجگانہ نمازوں کے بعد، تسبیحِ فاطمہ (س) پڑھنے کے بعد۔
عمل
19 مرتبہ یا 33 مرتبہ بسم اللہ پڑھنا آپ کے ہر جائز کام میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ ائمہ اطہار فرماتے ہیں کہ نماز کے بعد کی دعا رد نہیں ہوتی۔
نیم شب یا نمازِ شب کے وقت (مشکل ترین مسائل کے لیے)
وقت
آدھی رات کے بعد یا نمازِ تہجد (نمازِ شب) کے وقت۔
عمل
اگر کوئی بہت بڑی مصیبت ہو تو اس وقت 786 مرتبہ بسم اللہ پڑھنا پہاڑ جیسی مشکل کو بھی رائی بنا دیتا ہے۔ یہ اللہ سے خلوت اور راز و نیاز کا بہترین وقت ہے۔
گھر سے نکلتے وقت (کامیابی کے لیے)
وقت
جیسے ہی آپ گھر کی دہلیز پار کریں یا سواری پر بیٹھیں۔
عمل
بسم اللہ پڑھ کر سفر کا آغاز کرنا حادثات سے بچاتا ہے اور جس کام کے لیے جا رہے ہوں اس میں کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔
مختصر مشورہ:
اگر آپ کوئی ایک وقت مقرر کرنا چاہتے ہیں تو نمازِ فجر کے بعد کا وقت سب سے افضل ہے، کیونکہ اس وقت ذہن پرسکون ہوتا ہے اور روحانی فیض عروج پر ہوتا ہے۔
اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں ان وظائف کے لیے بہترین اور مقرر اوقات درج ذیل ہیں، جن میں دعا کی قبولیت کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں:
نمازِ فجر کے بعد (رزق اور برکت کے لیے)
وقت
طلوعِ آفتاب سے پہلے، جب آپ نمازِ فجر سے فارغ ہوں اور اپنی جگہ پر بیٹھے ہوں۔
عمل
اس وقت 100 مرتبہ "بسم اللہ" پڑھنا معاشی استقامت کے لیے سب سے زیادہ مجرب ہے۔ اس وقت کو "بین الطلوعین" کہا جاتا ہے اور یہ رزق کی تقسیم کا وقت ہے۔
رات کو سونے سے پہلے (حفاظت کے لیے)
وقت
جب آپ بستر پر لیٹ جائیں اور تمام دنیاوی کاموں سے فارغ ہو جائیں۔
عمل
21 مرتبہ بسم اللہ پڑھ کر اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پر دم کریں۔ یہ رات بھر کی حفاظت کے لیے مقررہ وقت ہے۔
ہر نماز کے فوراً بعد (حاجات کے لیے)
وقت
پنجگانہ نمازوں کے بعد، تسبیحِ فاطمہ (س) پڑھنے کے بعد۔
عمل
19 مرتبہ یا 33 مرتبہ بسم اللہ پڑھنا آپ کے ہر جائز کام میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ ائمہ اطہار فرماتے ہیں کہ نماز کے بعد کی دعا رد نہیں ہوتی۔
نیم شب یا نمازِ شب کے وقت (مشکل ترین مسائل کے لیے)
وقت
آدھی رات کے بعد یا نمازِ تہجد (نمازِ شب) کے وقت۔
عمل
اگر کوئی بہت بڑی مصیبت ہو تو اس وقت 786 مرتبہ بسم اللہ پڑھنا پہاڑ جیسی مشکل کو بھی رائی بنا دیتا ہے۔ یہ اللہ سے خلوت اور راز و نیاز کا بہترین وقت ہے۔
گھر سے نکلتے وقت (کامیابی کے لیے)
وقت
جیسے ہی آپ گھر کی دہلیز پار کریں یا سواری پر بیٹھیں۔
عمل
بسم اللہ پڑھ کر سفر کا آغاز کرنا حادثات سے بچاتا ہے اور جس کام کے لیے جا رہے ہوں اس میں کامیابی کی ضمانت بنتا ہے۔
مختصر مشورہ:
اگر آپ کوئی ایک وقت مقرر کرنا چاہتے ہیں تو نمازِ فجر کے بعد کا وقت سب سے افضل ہے، کیونکہ اس وقت ذہن پرسکون ہوتا ہے اور روحانی فیض عروج پر ہوتا ہے۔