اسلام میں ذہنی سکون کا راز — ذہنی پریشانی اور بے چینی سے نجات کا مکمل حل

Syed

January 26, 2026 • 21 views

Share
اسلام میں ذہنی سکون کا راز — ذہنی پریشانی اور بے چینی سے نجات کا مکمل حل

ذہنی سکون کیسے حاصل کریں؟ قرآن و سنت کی روشنی میں 5 مؤثر طریقے
 

​آج کے تیز رفتار دور میں جہاں ٹیکنالوجی نے زندگی آسان بنا دی ہے، وہیں انسان کی ذہنی بے چینی اور پریشانیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہر دوسرا شخص ڈپریشن، اینگزائٹی یا کسی نہ کسی ذہنی دباؤ کا شکار نظر آتا ہے۔ لوگ سکون کی تلاش میں مہنگی فلموں، سیر سپاٹوں اور موسیقی کا سہارا لیتے ہیں، مگر یہ سکون عارضی ثابت ہوتا ہے۔

​اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی سکون باہر کی دنیا میں نہیں بلکہ انسان کے اندر اور اس کے خالق سے تعلق میں چھپا ہے۔
 

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

​"الَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" > (خبردار! اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا اطمینان ہے) — سورہ الرعد: 28

 

​اگر آپ بھی ذہنی سکون کی تلاش میں ہیں، تو درج ذیل 5 اسلامی طریقے آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں:

​1. نماز: اللہ سے براہِ راست گفتگو

​نماز صرف ایک فریضہ نہیں بلکہ خالقِ کائنات سے رابطے کا ذریعہ ہے۔ جب ایک بندہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، تو وہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ جدید سائنس بھی یہ مانتی ہے کہ سجدے کی پوزیشن دماغ سے تناؤ (Stress) کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

مشورہ: جب بھی دل بوجھل ہو، دو رکعت نفل پڑھیں اور سجدے میں اپنے دل کی ساری باتیں اللہ کے سامنے رکھ دیں۔

 

​2. تلاوتِ قرآن: روح کی غذا

​قرآن پاک صرف کتابِ ہدایت ہی نہیں بلکہ "شفاء" بھی ہے۔ قرآن کی تلاوت دلوں کے زنگ کو دور کرتی ہے اور انسان کو ایک نئی امید دیتی ہے۔

مشورہ: روزانہ کم از کم 10 منٹ ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ جب آپ اللہ کا کلام سمجھتے ہیں، تو آپ کو اپنی ہر پریشانی کا حل اس میں نظر آنے لگتا ہے۔

 

 

​3. شکر گزاری (Gratitude): پریشانی کا حل

​انسان کی آدھی سے زیادہ پریشانیاں اس لیے ہوتی ہیں کہ وہ ان چیزوں پر نظر رکھتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہیں۔ اسلام ہمیں "شکر" کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا"۔

مشورہ: روزانہ رات کو سونے سے پہلے ان 3 نعمتوں کے بارے میں سوچیں جو اللہ نے آج آپ کو دیں (جیسے اچھی صحت، کھانا، یا اپنوں کا ساتھ)۔ اس سے آپ کی سوچ مثبت ہوگی۔

 

​4. استغفار اور ذکر کی کثرت

​اکثر اوقات ہمارے گناہ اور کوتاہیاں ہمارے دل پر بوجھ بن جاتی ہیں، جو بے چینی کا باعث بنتی ہیں۔ "استغفار" یعنی اللہ سے معافی مانگنا، رزق کے دروازے بھی کھولتا ہے اور ذہنی سکون بھی عطا کرتا ہے۔

مشورہ: چلتے پھرتے "لا حول ولا قوة إلا بالله" اور "استغفراللہ" کا ورد کریں۔ یہ کلمات پریشانیوں کے تالے توڑنے کی چابی ہیں۔

 

​5. توکل: اللہ پر مکمل بھروسہ

​ذہنی دباؤ کی ایک بڑی وجہ "مستقبل کا خوف" ہے۔ ہم کل کے بارے میں سوچ کر آج کا سکون برباد کر دیتے ہیں۔ توکل کا مطلب ہے کہ آپ اپنی پوری کوشش کریں اور پھر نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

​یاد رکھیں: جو اللہ آپ کو کل تک لے کر آیا ہے، وہ کل بھی آپ کا ساتھ نہیں چھوڑے گا۔
 

​ذہنی سکون کسی میڈیسن یا دنیاوی آسائش میں نہیں، بلکہ اللہ کی رضا میں چھپا ہے۔ جب آپ کا دل اس بات پر مطمئن ہو جاتا ہے کہ میرا رب میرے ساتھ ہے، تو دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی مشکل بھی آپ کا سکون نہیں چھین سکتی۔

​ اس پیغام کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ کسی اور کی زندگی میں بھی سکون آ سکے۔

 

ویسے تو ذہنی سکون اور اطمنان قلب کے لیے بہت زیادہ ہدایات اور طریقہ کار پر مشتمل مواد موجود ہے لیکن یہاں میں ایک خاص دعا کا تذکرہ کررہا ہوں جو امام حسین علیہ السّلام کے بیٹے امام ذین العابدین علیہ السّلام سے منسوب ہے

 

صحیفہ سجادیہ: ساتویں دعا کی وضاحت

 

 

 

1. تاریخی پس منظر اور اہمیت

امام سجاد (ع) نے یہ دعائیں اس دور میں لکھیں جب حق بات کہنا مشکل تھا، اور آپ نے دعا کے پیرائے میں لوگوں کو توحید اور زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا۔ اس ساتویں دعا کو "دعاِ مہمات" بھی کہا جاتا ہے، یعنی وہ دعا جو کسی بڑے کام یا شدید پریشانی کے وقت پڑھی جاتی ہے۔

 

2. مرکزی نکتہ: "گرہ کھولنے والی ذات"

اس دعا کا پہلا جملہ ہی دل کو سکون دے دیتا ہے:

"يَا مَنْ تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ الْمَكَارِهِ..."

(اے وہ ذات جس کے ذریعے ناگواریوں اور سختیوں کی گرہیں کھولی جاتی ہیں...)

 

زندگی کی مشکلات ایک "گرہ" کی طرح ہوتی ہیں۔ ہم جتنا اپنے زور پر اسے کھولنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ اتنی ہی الجھتی جاتی ہے۔ امام (ع) ہمیں سکھا رہے ہیں کہ ان گرہوں کو کھولنے کی چابی صرف اللہ کے پاس ہے۔ جب آپ یہ مان لیتے ہیں کہ حل اللہ کے ہاتھ میں ہے، تو آدھی پریشانی وہیں ختم ہو جاتی ہے۔

 

3. اسباب اور مسبب الاسباب

دعا میں آگے ایک بہت خوبصورت جملہ ہے:

"تَسَبَّبَتْ بِلُطْفِكَ الْأَسْبَابُ"

(تیرے ہی لطف و کرم سے تمام اسباب وجود میں آتے ہیں...)

 

ہم اکثر پریشان ہوتے ہیں کہ "میرا کام کیسے بنے گا؟ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ بیماری کیسے ٹھیک ہوگی؟" امام (ع) فرماتے ہیں کہ اسباب پیدا کرنا اللہ کا کام ہے۔ آپ کا کام صرف اللہ سے رجوع کرنا ہے۔ جب وہ ارادہ کرتا ہے، تو وہاں سے راستہ نکلتا ہے جہاں سے انسان گمان بھی نہیں کر سکتا۔

 

4. اللہ کے ارادے کی طاقت

دعا کے ایک حصے میں امام (ع) فرماتے ہیں کہ اے اللہ! ہر چیز تیرے ارادے کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔ اگر تو چاہے تو سختی کو نرمی میں بدل دے۔

 

یہ نکتہ "توکل" کی انتہا ہے۔ یعنی اگر پوری دنیا بھی آپ کے خلاف ہو جائے، لیکن اللہ کا ارادہ آپ کو بچانے کا ہو، تو کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ یقین ہی انسان کو "ڈیپریشن" سے نکالتا ہے۔

 

ترجمہ دعا

 

شُروع اَللہ کے پاک نام سے جو بڑا مہر بان نہايت رحم والا ہے

اے وہ جس کے ذریعہ مصیبتوں کے بندھن کھل جاتے ہیں ۔ اے وہ جس کے باعث سختیوں کی باڑھ کند ہو جاتی ہے اے وہ جس سے (تنگی ودشواری سے ) وسعت وفراخی کی آسائش کی طرف نکال لے جانے کی التجا کی جاتی ہے۔ تو وہ ہے کہ تیری قدرت کے آگے دشواریاں آسان ہو گئیں ۔

 تیرے لطف سے سلسلہ اسباب برقرار رہا اورتیری قدرت سے قضا کا نفاذ ہوا اورتمام چیزیں تیرے ارادہ کے رخ پر گامزن ہیں۔ وہ بن کہے تیری مشیت کی پابند اور بن روکے خود ہی تیرے ارادہ سے رکی ہوئی ہیں ۔

 مشکلات میں تجھے ہی پکارا جاتا ہے اور اسی بلیات میں تو ہی جائے پناہ ہے ۔ ان میں سے کوئی مصیبت ٹل نہیں سکتی مگر جسے تو ٹال دے اور کوئی مشکل حل نہیں سکتی مگر جسے توحل کر دے۔

پروردگارا ! مجھ پر ایک ایسی مصیبت نازل ہوئی ہے جس کی سنگینی نے مجھے گراں بار کر دیا ہے اور ایسی آفت آ پڑی ہے جس سے میری قوت برداشت عاجز ہو چکی ہے تو نے اپنی قدرت سے اس مصیبت کو مجھ پر وارد کیا ہے اور اپنے اقتدار سے میری طرف متوجہ کیا ہے ۔ تو جسے وارد کرے اسے کوئی ہٹانے والا ، اورجسے تومتوجہ کرے اسے کوئی پلٹانے والا ، اورجسے تو بند کرے اسے کوئی کھولنے والا اورجسے تو کھولے اسے کوئی بند کرنے والا اورجسے تو دشوار بنائے اسے کوئی آسان کرنے والا اورجسے تو نظر انداز کرے اسے کوئی مدد دینے والا نہیں ہے ۔

رحمت نازل فرما محمد اوران کی آل پر ، اور اپنی کرم فرمائی سے اے میرے پالنے والے میرے لیے آسائش کا دروازہ کھول دے اوراپنی قوت وتوانائی سے غم و اندوہ کھول دے اوراپنی قوت وتوانائی سے غم واندوہ کا زور توڑ دے اورمیرے اس شکوہ کے پیش نظر اپنی نگاہ کرم کا رخ میری طرف موڑ دے اورمیری حاجت کو پورا کرکے شیرینی احسان سے مجھے لذت اندوز کر ۔ اور اپنی طرف سے رحمت اورخوشگوار آسودگی مرحمت فرما اورمیرے لیے اپنے لطف خاص سے جلد چھٹکارے کی راہ پیدا کر اور اس غم واندوہ کی وجہ سے اپنے فرائض کی پابندی اورمستحبات کی بجا آوری سے غفلت میں نہ ڈال دے ۔ کیونکہ میں مصیبت کے ہاتھوں تنگ آچکا ہوں اوراس حادثہ کے ٹوٹ پڑنے سے دل رنج واندوہ سے بھر گیا ہے جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کے دور کرنے اورحسن بلا میں پھنسا ہوا ہوں اس سے نکالنے پر تو ہی قادر ہے۔

 لہذا اپنی قدرت کو میرے حق میں کار فرما کر ۔ اگرچہ تیری طرف سے میں اس کا سزا وار نہ قرار پا سکوں ۔ اے عرش عظیم کے مالک ۔

 

جب بھی آپ کو لگے کہ اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا، تو وضو کریں اور سکون سے بیٹھ کر اس دعا کا اردو ترجمہ پڑھیں۔

رہبرِ معظم یا آیت اللہ بہجت جیسے بزرگ علماء نے بھی مشکل وقت میں اس دعا کی کثرت کی تاکید کی ہے۔

 

" یاد رکھیں کہ پریشانی آپ کی ہمت آزمانے آتی ہے، آپ کو توڑنے نہیں۔ صحیفہ سجادیہ کی یہ دعا ہمیں اللہ سے لاڈ کرنا سکھاتی ہے۔ آج ہی اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور دیکھیں کیسے آپ کے دل کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔"

About the Author

Syed

A passionate storyteller and contributor to ShahBlogs, exploring the intersection of technology and lifestyle.

Conversation (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Search

Stay Inspired

Get the latest insights and stories delivered directly to your inbox.

Advertisement

Premium Ad Space

Cookie Consent

Privacy Matters

We use cookies to enhance your experience, analyze site traffic, and serve personalized content. By clicking "Accept", you agree to our use of cookies.