اسلامی حکومت کا عدالتی اور فلاحی نظام: حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کے دورِ خلافت میں

Syed

January 29, 2026 • 16 views

Share
اسلامی حکومت کا عدالتی اور فلاحی نظام: حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کے دورِ خلافت میں

اسلامی حکومت کا عدالتی اور فلاحی نظام

(حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کے دورِ خلافت کی روشنی میں)

 

اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو فرد، معاشرہ اور ریاست تینوں کے لیے واضح اصول فراہم کرتا ہے۔ اسلامی نظامِ حکومت کی بنیاد عدل، انصاف، مساوات اور فلاحِ عامہ پر رکھی گئی ہے۔ تاریخِ اسلام میں اگر کسی دور کو حقیقی معنوں میں نمونۂ عدل و فلاحی ریاست کہا جا سکتا ہے تو وہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا دورِ خلافت ہے۔

آپؑ کی حکومت محض سیاسی اقتدار نہیں تھی بلکہ انسانی کرامت، سماجی انصاف اور خدا ترسی پر مبنی ایک انقلابی نظام تھا۔


اسلامی حکومت کا بنیادی مقصد

 

اسلامی حکومت کا مقصد:

• عدل کا قیام
• ظلم کا خاتمہ
• کمزوروں کی حفاظت
• حقوق کی ادائیگی
• اور معاشرے میں توازن پیدا کرنا ہے

 

قرآن فرماتا ہے:

"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے" (النحل: 90)

 

حضرت علیؑ فرماتے ہیں:

"حکومت کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں چل سکتی"


حضرت علیؑ کا تصورِ حکومت

 

امیرالمؤمنینؑ کے نزدیک حکومت:

"عوام کی امانت اور اللہ کی ذمہ داری" تھی، نہ کہ ذاتی اقتدار۔

آپؑ نے فرمایا:

"خدا کی قسم! تمہاری یہ حکومت میرے نزدیک بکری کی چھینک سے بھی کم قیمت ہے، اگر اس کے ذریعے حق قائم نہ کیا جائے اور باطل کو نہ مٹایا جائے۔"
(نہج البلاغہ)


عدالتی نظامِ حکومتِ علیؑ

 

1. قانون کی نظر میں سب برابر

حضرت علیؑ کے دور میں:

• خلیفہ اور عام شہری برابر تھے
• امیر اور غریب میں کوئی فرق نہ تھا
• قاضی بھی امیرالمؤمنین
ؑ کے خلاف فیصلہ دے سکتا تھا

 

مشہور واقعہ: یہودی کے ساتھ مقدمہ

 

حضرت علیؑ کی زرہ گم ہو گئی۔ ایک یہودی کے پاس پائی گئی۔
مقدمہ قاضی شریح کے سامنے پیش ہوا۔

قاضی نے گواہ مانگے — حضرت علیؑ گواہ پیش نہ کر سکے — قاضی نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

یہودی یہ دیکھ کر مسلمان ہو گیا اور بولا:

"یہ تو انبیاء کا نظامِ عدل ہے!"


2. قاضیوں کے لیے سخت معیار

 

حضرت علیؑ نے مالک اشتر کو خط میں لکھا:

"قاضی ایسا مقرر کرو جو:
• رشوت نہ لے
• غصے میں فیصلہ نہ کرے
• حق کے سامنے نہ جھکے
• اور غلطی پر اڑ نہ جائے"
(نہج البلاغہ)


3. حکمران بھی قانون کا پابند

 

اسلامی حکومتِ علیؑ میں:

• خلیفہ خود کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھتا تھا
• خود احتسابی کا اعلیٰ ترین معیار تھا


فلاحی نظامِ حکومتِ علیؑ

 

1. بیت المال عوام کی امانت

حضرت علیؑ فرماتے تھے:

"یہ مال نہ میرا ہے نہ تمہارا، یہ مسلمانوں کا ہے"

 

بیت المال کی تقسیم:

• عرب و عجم میں کوئی فرق نہیں
• آزاد و غلام برابر
• قریشی و غیر قریشی برابر


2. غرباء، یتیموں اور بیواؤں کا خاص خیال

 

راتوں کو:

• خود آٹا اٹھا کر
• بیواؤں اور یتیموں کے گھروں تک پہنچاتے
• کسی کو خبر نہ ہوتی کہ یہ خلیفہ ہے

جب شہادت کے بعد پتا چلا تو لوگ رو پڑے۔


3. اقلیتوں کے حقوق

 

حضرت علیؑ نے فرمایا:

"اگر کسی غیر مسلم کی حکومتِ اسلامی میں حق تلفی ہو تو اس کا ذمہ دار میں ہوں"

 

ایک بوڑھا عیسائی بھیک مانگ رہا تھا — آپؑ نے فرمایا:

"جوانی میں اس سے کام لیا اور بڑھاپے میں چھوڑ دیا؟ اس کا وظیفہ بیت المال سے مقرر کرو!"


4. معذوروں اور ناداروں کا وظیفہ

 

• اندھوں
• اپاہجوں
• ناداروں
• اور بے سہارا لوگوں کے لیے مستقل وظائف مقرر تھے

یہ تھا دنیا کا پہلا باقاعدہ فلاحی ریاستی نظام۔


حکمرانوں اور افسروں کے لیے اصول

 

حضرت علیؑ کا فرمان:

"لوگ یا تو دین میں تمہارے بھائی ہیں یا انسانیت میں تمہارے جیسے"

حکام کو حکم:

• عوام پر رحم کریں
• غرور نہ کریں
• ظلم سے بچیں
• سادہ زندگی گزاریں


حاصل ماخذ

 

 عدل پر مبنی ریاست
 قانون کی بالادستی
 فلاحی نظام
 انسانی مساوات
 احتسابِ حکمران
 کمزوروں کی کفالت


آج کے دور کے لیے پیغام

 

اگر آج:

• اسلامی ممالک
• مسلم حکمران
• اور اسلامی نظام

واقعی حضرت علیؑ کے نقشِ قدم پر چلیں تو:

 ظلم ختم ہو
 کرپشن ختم ہو
 غربت کم ہو
 اور معاشرہ جنت کا نمونہ بن جائے


 

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا دورِ حکومت تاریخِ انسانی کا سب سے روشن، پاکیزہ اور عادلانہ دور تھا۔ یہ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے نمونہ ہے۔

 

 

حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کے عدل سے متاثر ہو کر غیر مسلموں کا مسلمان ہونا

 

اسلام تلوار سے نہیں بلکہ عدل، اخلاق اور کردار سے پھیلا ہے۔ تاریخِ اسلام میں اگر کسی شخصیت نے اپنے کردار اور انصاف کے ذریعے دلوں کو مسخر کیا تو وہ حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔ آپؑ کا عدل ایسا تھا کہ غیر مسلم بھی اسلام کی حقانیت ماننے پر مجبور ہو جاتے تھے۔


1) یہودی کا مسلمان ہونا (زرہ والا مشہور مقدمہ)

 

حضرت علیؑ کی زرہ گم ہو گئی، وہ ایک یہودی کے پاس ملی۔
آپ
ؑ اسے قاضی شریح کی عدالت میں لے گئے۔

 

عدالت میں:

  • حضرت علیؑ مدعی تھے
  • قاضی نے گواہ طلب کیے
  • شرعی گواہ مکمل نہ ہونے پر قاضی نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا

یہودی حیران ہو گیا اور بولا:

"امیرالمؤمنین خود مجھے عدالت میں لائے اور قاضی نے بھی ان کے خلاف فیصلہ دیا! یہ بادشاہوں کا طریقہ نہیں، یہ تو انبیاء کا عدل ہے!"

چنانچہ:

 وہ فوراً مسلمان ہو گیا
 زرہ واپس کر دی
 اور اسلام کی حقانیت کا اقرار کیا

 (بحار الأنوار، ج 40، باب عدل امیرالمؤمنینؑ)


2) نصرانی بوڑھا اور اسلامی فلاحی عدل

 

آپؑ نے فرمایا:

"جب تک طاقت تھی اس سے کام لیتے رہے، اب چھوڑ دیا؟ یہ انصاف نہیں!"

 فوراً اس کا وظیفہ بیت المال سے مقرر کر دیا

 اگرچہ بعض روایات میں اس کے مسلمان ہونے کا واضح جملہ نہیں، مگر مورخین لکھتے ہیں کہ اس عدل سے کئی نصرانی اسلام کی طرف مائل ہوئے۔


 

3) قبطی (غیر مسلم مصری) کا انصاف اور اسلام

ایک غیر مسلم قبطی پر ایک مسلمان افسر نے ظلم کیا۔
جب معاملہ حضرت علی
ؑ تک پہنچا:

 افسر کو سزا دی گئی
 قبطی کو اس کا پورا حق دلایا گیا

تاریخی روایات کے مطابق:

وہ اس عدل سے اتنا متاثر ہوا کہ اسلام قبول کر لیا۔


 

4) جنگوں کے قیدیوں کا اسلام کی طرف مائل ہونا

 

جنگ جمل اور صفین کے بعد:

 قیدیوں کے ساتھ رحم
 زخمیوں کا علاج
 کسی کو زبردستی مسلمان نہیں کیا گیا

مورخین لکھتے ہیں:

"بہت سے مخالفین اور غیر مسلم علیؑ کے اخلاق اور عدل سے متاثر ہو کر خود اسلام کی طرف آئے۔"


 

5) خوارج اور مخالفین کے ساتھ عدل

 

حضرت علیؑ فرماتے ہیں:

"جب تک یہ تلوار نہ اٹھائیں، ان کے تین حق ہیں:

  1. مسجد سے نہ روکا جائے
  2. بیت المال سے نہ روکا جائے
  3. ان سے جنگ نہ کی جائے"

یہ کردار دیکھ کر:

 بہت سے لوگ جو اسلام سے بدظن تھے، حق کی طرف پلٹ آئے


علمی دیانت کا تقاضا

 

 کتب میں صرف یہودی والا واقعہ صراحت کے ساتھ مسلمان ہونے کا ذکر کرتا ہے۔
باقی واقعات میں الفاظ ہیں:

"اسلام سے متاثر ہوا"
"اسلام کی حقانیت کا قائل ہوا"
"لوگ مسلمان ہوئے"

یہی علمی دیانت ہے۔


حاصل ماخذ

 

معتبر کتب کی روشنی میں ثابت ہے کہ:

 ایک یہودی یقیناً مسلمان ہوا (زرہ والا واقعہ)
 کئی نصرانی اور غیر مسلم اسلام سے متاثر ہوئے
 قبطی نے اسلام قبول کیا
 قیدی اور مخالفین ہدایت کی طرف مائل ہوئے


 

لوگ علیؑ کی تلوار سے نہیں، علیؑ کے عدل سے مسلمان ہوئے۔

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا عدل آج بھی پوری انسانیت کے لیے بہترین دعوتِ اسلام ہے۔

 

About the Author

Syed

A passionate storyteller and contributor to ShahBlogs, exploring the intersection of technology and lifestyle.

Conversation (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Search

Stay Inspired

Get the latest insights and stories delivered directly to your inbox.

Advertisement

Premium Ad Space

Cookie Consent

Privacy Matters

We use cookies to enhance your experience, analyze site traffic, and serve personalized content. By clicking "Accept", you agree to our use of cookies.