والدین کے حقوق
قرآنِ مجید اور دیگر مذاہب کی روشنی میں ایک جامع اسلامی تجزیہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
انسانی معاشرے کی بنیاد خاندان ہے، اور خاندان کی بنیاد والدین۔
اسلام نے جہاں توحید کو سب سے پہلا اور بنیادی عقیدہ قرار دیا، وہیں والدین کے حقوق کو بھی انتہائی اہم مقام عطا فرمایا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا — جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ والدین کی خدمت محض اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ عبادت ہے۔
قرآنِ مجید میں والدین کے حقوق
عبادتِ الٰہی کے فوراً بعد والدین کا ذکر
سورۃ الاسراء (17:23-24) میں ارشاد ہے:
"اور تمہارے رب نے حکم دے دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو…"
اسی آیت میں فرمایا:
- اگر وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں "اُف" تک نہ کہو
- انہیں نہ جھڑکو
- ان سے عزت اور نرمی سے بات کرو
- ان کے لیے دعا کرو:
"اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔"
یہ آیت والدین کے ادب، خدمت اور دعا — تینوں پہلوؤں کو واضح کرتی ہے۔
ماں کی قربانی کا خصوصی ذکر
سورۃ لقمان (31:14) میں فرمایا:
"اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری جھیل کر پیٹ میں رکھا اور دو سال دودھ پلایا…"
یہ آیت ماں کی مشقت، تکلیف اور ایثار کی طرف توجہ دلاتی ہے۔
احسان اور شکرگزاری
سورۃ الاحقاف (46:15) میں
والدین کے ساتھ احسان اور ان کے لیے دعا کی تعلیم دی گئی ہے۔
یہ بتاتا ہے کہ والدین کی خدمت دراصل شکرگزاری کی عملی شکل ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں والدین کا مقام
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
"جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔"
ایک صحابی نے پوچھا:
"یا رسول اللہ ﷺ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"تمہاری ماں" (تین مرتبہ)
پھر فرمایا: "تمہارا باپ"
روایت میں آتا ہے کہ والد کی رضا میں اللہ کی رضا اور والد کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔
نافرمانی کی سنگینی
اسلام میں والدین کی نافرمانی (عقوقِ والدین) کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے۔
اہلِ بیتؑ کی روایات میں بھی والدین کی خدمت کو بہترین عبادت کہا گیا ہے۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"جو شخص اپنے والدین کی طرف محبت بھری نظر سے دیکھے، اللہ اس کے لیے مقبول حج کا ثواب لکھ دیتا ہے۔"
دیگر مذاہب میں والدین کا مقام
اسلام ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب بھی والدین کے احترام پر زور دیتے ہیں:
✝️ عیسائیت
بائبل (Ten Commandments) میں ہے:
"اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرو۔"
✡️ یہودیت
تورات میں بھی والدین کی عزت کو بنیادی حکم قرار دیا گیا ہے۔
🕉️ ہندومت
"ماتا، پتا، گرو دیوو بھوا"
یعنی ماں، باپ اور استاد دیوتا کے برابر ہیں۔
☸️ بدھ مت
والدین کی خدمت کو عظیم نیکی اور اعلیٰ اخلاقی عمل قرار دیا گیا ہے۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ والدین کا احترام فطری اور آفاقی قدر ہے۔
والدین کے عملی حقوق
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں والدین کے چند بنیادی حقوق:
- ادب اور احترام
- مالی معاونت
- خدمت اور تیمارداری
- ان کی دلجوئی
- ان کی اطاعت (جب تک اللہ کی نافرمانی نہ ہو)
- ان کے لیے دعا
- ان کے انتقال کے بعد بھی صدقہ و ایصالِ ثواب
والدین کا مقام الفاظ سے بلند ہے۔
قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم اللہ کی رضا چاہتے ہیں تو والدین کی رضا حاصل کریں۔ ان کی خدمت صرف معاشرتی ذمہ داری نہیں بلکہ جنت کا راستہ ہے۔
آج کے دور میں جہاں مصروفیات اور مادیت نے رشتوں کو کمزور کر دیا ہے، ہمیں چاہیے کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
کیونکہ سچ یہی ہے:
جس نے والدین کو راضی کر لیا، اس نے دنیا اور آخرت سنوار لی۔
والدین کے حقوق سے متعلق تمام آیات
سورۃ البقرہ (2:83)
عربی:
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا...
اردو ترجمہ:
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے اور والدین کے ساتھ نیکی کرو گے...
سورۃ النساء (4:36)
عربی:
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا...
اردو ترجمہ:
اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور والدین کے ساتھ نیکی کرو...
سورۃ الانعام (6:151)
عربی:
قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ... وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا...
اردو ترجمہ:
کہہ دیجیے آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں... اور والدین کے ساتھ نیکی کرو...
سورۃ الاسراء (17:23-24)
عربی:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ
إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا
وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا
اردو ترجمہ:
اور تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔
اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، اور ان سے عزت والی بات کہو۔
اور ان کے لیے عاجزی کے ساتھ رحمت کے بازو جھکائے رکھو اور کہو: اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں پالا۔
سورۃ لقمان (31:14-15)
عربی:
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ...
وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا...
اردو ترجمہ:
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے بارے میں تاکید کی...
اور اگر وہ تم پر زور دیں کہ تم میرے ساتھ کسی کو شریک کرو جس کا تمہیں علم نہیں، تو ان کی اطاعت نہ کرو، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔
سورۃ الاحقاف (46:15)
عربی:
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا...
اردو ترجمہ:
اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی تاکید کی...
سورۃ نوح (71:28)
عربی:
رَّبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ...
اردو ترجمہ:
اے میرے رب! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے...
سورۃ ابراہیم (14:41)
عربی:
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ...
اردو ترجمہ:
اے ہمارے رب! مجھے اور میرے والدین کو اور سب مؤمنوں کو بخش دے...
قرآنی آیات کو تعلیماتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں
سورۃ الاسراء (17:23-24)
"فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ…"
تفسیر اہلِ بیتؑ کے مطابق
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
اگر "اُف" سے بھی ہلکا کوئی لفظ ہوتا جو اذیت کا سبب بنتا، تو اللہ اسے بھی منع فرما دیتا۔
یعنی والدین کو ادنیٰ سی تکلیف دینا بھی ناجائز ہے۔
امام علیؑ کا فرمان:
والدین کی ناراضگی انسان کی زندگی میں برکت ختم کر دیتی ہے۔
➡️ مطلب یہ کہ یہ آیت صرف زبان کے ادب تک محدود نہیں، بلکہ دل، لہجے اور رویّے کی اصلاح بھی مطلوب ہے۔
سورۃ لقمان (31:14-15)
ماں کی مشقت کا ذکر
امام زین العابدینؑ "رسالۃ الحقوق" میں فرماتے ہیں:
تمہاری ماں کا حق یہ ہے کہ تم جان لو اس نے تمہیں وہاں اٹھایا جہاں کوئی کسی کو نہیں اٹھاتا، اس نے تمہیں اپنے دل کا پھل کھلایا، اپنی سماعت، بصارت اور تمام وجود سے تمہاری حفاظت کی۔
یہ تعلیم ہمیں احساس دلاتی ہے کہ ماں کی خدمت محض رسمی احترام نہیں بلکہ زندگی بھر کا قرض ہے۔
اگر والدین شرک پر مجبور کریں (لقمان 15)
اہلِ بیتؑ کی تفسیر کے مطابق:
- دین کے معاملے میں اطاعت نہیں
- لیکن دنیاوی معاملات میں حسنِ سلوک باقی رہے گا
امام باقرؑ فرماتے ہیں:
اگر وہ مشرک بھی ہوں تو ان کے ساتھ نرمی اور اچھا برتاؤ کرو۔
یہ اسلام کی اعتدال پسند تعلیم ہے — عقیدہ الگ، اخلاق الگ۔
والدین کے لیے دعا (14:41، 71:28)
اہلِ بیتؑ فرماتے ہیں:
زندہ ہوں تو خدمت کرو
وفات پا جائیں تو دعا، صدقہ اور ایصالِ ثواب جاری رکھو
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
بعض اوقات اولاد کی دعا والدین کے درجات جنت میں بلند کر دیتی ہے۔
اہلِ بیتؑ کے نزدیک عقوقِ والدین
روایات میں آیا ہے:
- عقوقِ والدین کبیرہ گناہ ہے
- ایسے شخص کی نماز اور اعمال قبول نہیں ہوتے
- والدین کو غصے سے دیکھنا بھی گناہ ہے
امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
اللہ نے والدین کی نافرمانی کو شرک کے قریب قرار دیا ہے۔
رسالۃ الحقوق (امام زین العابدینؑ)
امامؑ نے والد کے حق کے بارے میں فرمایا:
جان لو کہ وہ تمہاری اصل ہے، اگر وہ نہ ہوتا تو تم نہ ہوتے۔
اور فرمایا:
ان کے سامنے آواز بلند نہ کرو، ان سے آگے نہ چلو، ان سے پہلے نہ بیٹھو۔
یہ مکمل عملی ضابطۂ اخلاق ہے۔
نتیجہ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں
قرآن نے اصول دیا
اہلِ بیتؑ نے اس کی عملی تشریح کی
- ادب
- خدمت
- دعا
- مالی مدد
- نرم لہجہ
- حتیٰ کہ نظر تک میں احترام
یہ سب والدین کے حقوق میں شامل ہیں۔
والدین کے حقوق
قرآن، احادیثِ نبوی ﷺ اور تعلیماتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں
اسلام میں توحید کے بعد جس حق کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی وہ والدین کا حق ہے۔ قرآنِ مجید نے متعدد مقامات پر اللہ کی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا۔ اہلِ بیتؑ کی روایات نے ان آیات کی عملی تشریح کر کے والدین کی خدمت کو نجات اور قربِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
قرآنِ مجید کی تعلیمات
1. سورۃ الاسراء (17:23-24)
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا...
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ والدین کے ساتھ احسان محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ الٰہی حکم ہے۔
علامہ طباطبائیؒ (تفسیر المیزان) فرماتے ہیں:
والدین کے ساتھ "احسان" مطلق ذکر ہوا ہے، یعنی ہر حال میں نیکی، چاہے وہ موافق ہوں یا مخالف۔
احادیثِ رسول اکرم ﷺ
1. جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے
(بحار الانوار، ج 74)
2. رضا الرب فی رضا الوالد
(کافی، ج 2، باب بر الوالدین)
3. کبیرہ گناہ میں شمار
رسول اللہ ﷺ نے والدین کی نافرمانی کو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ قرار دیا۔
(وسائل الشیعہ، ج 15)
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات
امام علی علیہ السلام
نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، کیونکہ وہ تمہاری دنیا اور آخرت کی کامیابی کا سبب ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام
الکافی (ج 2، باب بر الوالدین) میں روایت ہے:
اگر "اُف" سے کم تر کوئی لفظ ہوتا جو اذیت کا سبب بنتا، تو اللہ تعالیٰ اسے بھی حرام قرار دیتا۔
یہ روایت سورۃ الاسراء کی عملی تفسیر ہے۔
امام زین العابدین علیہ السلام — رسالۃ الحقوق
امامؑ فرماتے ہیں:
تمہاری ماں کا حق یہ ہے کہ تم جان لو اس نے تمہیں وہاں اٹھایا جہاں کوئی کسی کو نہیں اٹھاتا…
تمہارا باپ تمہاری اصل ہے، پس اس کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو۔
(تحف العقول، رسالۃ الحقوق)
امام رضا علیہ السلام
والدین کی اطاعت واجب ہے جب تک وہ اللہ کی معصیت کا حکم نہ دیں۔
(عیون اخبار الرضا)
عقوقِ والدین (نافرمانی)
اسلام میں عقوقِ والدین کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
عاق والدین جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا۔
(الکافی، ج 2)
پنجم: وفات کے بعد حقوق
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق:
والدین کے لیے دعا
ان کی طرف سے صدقہ
نماز و روزہ کی قضا ادا کرنا
ان کے دوستوں کا احترام کرنا
امام باقرؑ فرماتے ہیں:
اولاد کی دعا سے والدین کے درجات بلند ہوتے رہتے ہیں۔
(وسائل الشیعہ)
حاصل ماخذ
والدین کے حقوق:
- واجب الاطاعت حیثیت رکھتے ہیں (غیر معصیت میں)
- ان کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے
- ان کی خدمت جنت کا راستہ ہے
- ان کے لیے دعا اور ایصالِ ثواب دائمی ذمہ داری ہے
قرآن نے اصول دیا، رسول اللہ ﷺ نے تاکید فرمائی، اور اہلِ بیتؑ نے عملی تفسیر کر کے اسے زندگی کا مکمل نظام بنا دیا۔
والدین کی نافرمانی (عقوقِ والدین) اور ان کی ناراضگی
قرآنِ مجید کی روشنی میں
سورۃ الاسراء (17:23)
فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا
انہیں "اُف" تک نہ کہو اور نہ جھڑکو۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے معمولی سی بے ادبی کو بھی منع فرمایا۔
یعنی صرف مارنا یا گالی دینا ہی نافرمانی نہیں — لہجہ، انداز، آنکھوں کا گھمانا، جھنجھلاہٹ… سب اس میں آ سکتے ہیں۔
سورۃ لقمان (31:15)
اگر والدین دین کے خلاف بھی کہیں تو فرمایا:
ان کی اطاعت نہ کرو، لیکن دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔
یعنی اختلاف ہو سکتا ہے، بدتمیزی نہیں۔
سخت انجام کی طرف اشارہ
سورۃ محمد (47:22-23) میں ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو رشتے توڑتے ہیں:
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں اندھا اور بہرا کر دیا۔
علماء نے بیان کیا کہ والدین سے قطع تعلق بھی اس میں شامل ہو سکتا ہے۔
احادیثِ رسول اکرم ﷺ
کبیرہ گناہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟
اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔
(صحیح بخاری)
یعنی شرک کے فوراً بعد عقوقِ والدین کا ذکر۔
اللہ کی ناراضگی
"سخطُ اللهِ في سخطِ الوالد"
اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔
اگر والدین دل سے ناراض ہوں تو انسان کی عبادتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
جنت سے محرومی
روایت میں آیا ہے:
عاق والدین جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔
یہ بہت سخت وعید ہے۔
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات
امام جعفر صادقؑ
جو شخص اپنے والدین کو غصے کی نظر سے دیکھے، چاہے وہ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کر رہے ہوں، اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا۔
(الکافی)
یہ کتنا حساس معاملہ ہے — صرف غصے سے دیکھنا بھی خطرناک۔
امام علی علیہ السلام
والدین کو رُلانا عرشِ الٰہی کو ہلا دیتا ہے۔
اور فرمایا:
جس نے اپنے والدین کو ناراض کیا، اس نے اپنی ہلاکت کو خود دعوت دی۔
امام رضا علیہ السلام
عقوقِ والدین کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیونکہ یہ اللہ کی ناشکری اور قطعِ رحم ہے۔
ماں کو رُلانے کا انجام
(بحارالانوار، ج 74 — باب بر الوالدین)
روایت ہے کہ ایک شخص امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں عبادت بھی کرتا ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں، لیکن دل کو سکون نہیں ملتا۔
امامؑ نے پوچھا:
کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟
اس نے کہا: جی ہاں۔
امامؑ نے فرمایا:
کیا کبھی تم نے اسے رنج پہنچایا؟
وہ رونے لگا اور کہا: جی، میں نے غصے میں آواز بلند کی تھی۔
امامؑ نے فرمایا:
جب تک تم اپنی ماں کو راضی نہ کرو، تمہاری عبادت کا اثر ظاہر نہیں ہوگا۔
وہ شخص فوراً گیا، ماں سے معافی مانگی، اور روایت میں ہے کہ اس کے حالات بدل گئے۔
سبق: عبادت سے پہلے والدین کی رضا۔
نظرِ غضب کا انجام
(الکافی، ج 2، باب عقوق الوالدین)
امام صادقؑ فرماتے ہیں:
جو شخص اپنے والدین کی طرف غصے کی نظر سے دیکھے، اللہ اس کی نماز قبول نہیں کرتا۔
ایک راوی نے پوچھا: اگر والدین ظالم ہوں تب بھی؟
فرمایا:
ہاں، اگر وہ اس پر ظلم بھی کریں۔
یعنی بے ادبی کا جواز کسی حال میں نہیں۔
عقوق کرنے والے کی محرومی
(وسائل الشیعہ، ج 15)
روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک جوان بسترِ مرگ پر تھا۔ اسے کلمہ پڑھنے کو کہا گیا مگر زبان سے ادا نہ ہو سکا۔
رسول اللہ ﷺ نے پوچھا:
کیا اس کی ماں زندہ ہے؟
کہا گیا: جی ہاں، لیکن وہ اس سے ناراض ہے۔
آپ ﷺ نے ماں کو بلایا اور فرمایا:
اگر تم اسے معاف نہ کرو تو ہم اسے آگ میں ڈالنے کا حکم دیں گے۔
ماں پکار اُٹھی: یا رسول اللہ ﷺ! میں اسے معاف کرتی ہوں۔
روایت میں ہے کہ فوراً اس کی زبان سے کلمہ جاری ہو گیا۔
ماں کی ناراضگی آخرت تک اثر انداز ہوتی ہے۔
(یہ روایت شیعہ مصادر جیسے بحارالانوار میں بھی نقل ہوئی ہے۔)
امام زین العابدینؑ کا طرزِ عمل
(تحف العقول)
روایت ہے کہ امام زین العابدینؑ اپنی والدہ کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر کھانا نہیں کھاتے تھے۔
کسی نے پوچھا:
آپ تو سب سے زیادہ ماں کی خدمت کرنے والے ہیں، پھر ایسا کیوں؟
فرمایا:
مجھے خوف ہوتا ہے کہ کہیں میرا ہاتھ اس لقمے کی طرف نہ بڑھ جائے جس پر پہلے ان کی نظر ہو چکی ہو — اور میں نادانستہ ان کی بے ادبی کا مرتکب نہ ہو جاؤں۔
یہ ادب کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔
عاق والدین کا انجام
(الکافی)
امام باقرؑ فرماتے ہیں:
بے شک عاقِ والدین پر دنیا میں بھی تنگی اور آخرت میں بھی عذاب ہے۔
اور فرمایا:
تین گناہ ایسے ہیں جن کی سزا دنیا میں بھی جلدی ملتی ہے:
ظلم، قطعِ رحم، اور والدین کی نافرمانی۔
نافرمانی کن چیزوں سے ہوتی ہے؟
آواز بلند کرنا
بدتمیزی کرنا
خدمت سے انکار
مالی مدد نہ کرنا (جب ضرورت ہو)
ان کو تنہا چھوڑ دینا
ان کی دل آزاری کرنا
ان سے تعلق توڑ لینا
ایک امید بھی ہے
اگر کسی سے غلطی ہو گئی ہو تو:
- سچے دل سے معافی مانگے
- والدین سے معذرت کرے
- ان کے لیے دعا کرے
- صدقہ دے
- خدمت کا سلسلہ شروع کرے
اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا ہے۔