13 رجب المرجب نہایت عظمت، شان اور روحانی برکتوں کا حامل دن ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جب امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ کی ولادتِ باسعادت بیت اللہ الحرام (خانۂ کعبہ) کے اندر ہوئی۔ یہ واقعہ حضرت علیؑ کی عظمت، ولایت اور اللہ کے نزدیک بلند مقام کی واضح دلیل ہے، کیونکہ خانۂ کعبہ اللہ کا سب سے مقدس گھر ہے اور اسی کے اندر ولادت پانا ایک منفرد اعزاز ہے۔
حضرت علیؑ نہ صرف رسولِ خدا ﷺ کے پہلے ایمان لانے والے تھے بلکہ آپؑ وصیٔ رسولؐ، خلیفۂ بلا فصل اور امامِ اول ہیں۔ 13 رجب کا دن دراصل ولایتِ علیؑ کے ظہور اور اعلانِ عظمت کا دن ہے، جس پر اہلِ تشیع خوشی اور شکر کے جذبات کے ساتھ عبادات انجام دیتے ہیں۔

یہ دن ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ حضرت علیؑ کی پوری زندگی توحید، عدل، تقویٰ اور دفاعِ اسلام سے عبارت ہے۔ نہج البلاغہ میں محفوظ آپؑ کے خطبات اور اقوال، فکر کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ علماء کے نزدیک 13 رجب دراصل علم، شجاعت اور عدلِ علوی کے آغاز کا دن ہے، کیونکہ امام علیؑ ہی وہ ہستی ہیں جنہیں رسولِ خدا ﷺ نے “بابُ مدینۃِ العلم” قرار دیا۔
13 رجب دعا کی قبولیت، گناہوں کی مغفرت اور روحانی ترقی کا خاص موقع ہے۔ اسی لیے اس دن روزہ رکھنا، غسل کرنا، عبادت کرنا، صدقہ دینا اور اہلِ بیتؑ کی محبت کا اظہار کرنا مستحب اعمال میں شمار ہوتا ہے۔ اس دن مومنین ایک دوسرے کو ولادتِ امام علیؑ کی مبارکباد دیتے ہیں اور اپنی زندگی کو ولایتِ اہلِ بیتؑ کے مطابق ڈھالنے کا عہد کرتے ہیں۔
مختصراً، 13 رجب صرف ایک تاریخی دن نہیں بلکہ ولایت، امامت اور معرفتِ اہلِ بیتؑ کا روشن عنوان ہے، جو مومن کو اللہ کی قربت اور راہِ حق پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔
13 رجب المرجب مکتبِ فکر میں نہایت عظیم اور بابرکت دن ہے، کیونکہ اسی دن امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالبؑ کی ولادتِ باسعادت خانۂ کعبہ میں ہوئی۔ اسی نسبت سے اس دن مخصوص عبادات اور اعمال انجام دینا مستحب سمجھا جاتا ہے۔ کتبِ ادعیہ جیسے مفاتیح الجنان میں اس دن کے اعمال بیان ہوئے ہیں۔
13 رجب کے اعمال
1۔ روزہ رکھنا
13 رجب کا روزہ مستحب مؤکد ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ ماہِ رجب میں ایک دن کا روزہ بھی بڑے اجر و ثواب کا سبب بنتا ہے، اور خصوصاً 13 رجب کا روزہ حضرت علیؑ کی ولادت کی خوشی میں باعثِ قربِ الٰہی ہے۔
2۔ غسل کرنا
اس دن غسلِ مستحب انجام دینا بہت فضیلت رکھتا ہے۔ یہ غسل طہارتِ ظاہری و باطنی کی علامت ہے اور عبادات کے لیے آمادگی پیدا کرتا ہے۔
3۔ نمازِ مستحب
13 رجب کو مستحب ہے کہ دو رکعت نماز ادا کی جائے:
ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد سورۂ توحید پڑھی جائے، پھر نماز کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا اور استغفار کیا جائے۔
بعض روایات میں زیادہ نوافل اور عبادت کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔
4۔ ذکر و دعا
اس دن کثرت سے ذکرِ الٰہی کیا جائے، خصوصاً:
استغفار
درودِ محمد و آلِ محمدؐ
تسبیحاتِ اربعہ
اسی طرح حضرت علیؑ کی ولادت کی مناسبت سے شکرِ الٰہی ادا کیا جائے اور دعائیں مانگی جائیں۔
5۔ زیارتِ امیرالمؤمنینؑ
اگر نجف اشرف جانا ممکن ہو تو زیارتِ حضرت علیؑ بہت بڑی سعادت ہے۔ اگر ممکن نہ ہو تو دور سے زیارت پڑھنا بھی مستحب ہے۔
6۔ صدقہ و خیرات
اس دن صدقہ دینا، مومنین کی مدد کرنا اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔
7۔ سیرتِ امیرالمؤمنینؑ پر عمل کا عہد
13 رجب کا اہم ترین عمل یہ ہے کہ انسان حضرت علیؑ کے عدل، تقویٰ، صبر اور حق پسندی کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے کا عہد کرے۔
مختصراً، 13 رجب کے اعمال عبادت، معرفتِ اہلِ بیتؑ اور عملی اصلاح کا حسین امتزاج ہیں، جو انسان کو اللہ کے قریب اور ولایتِ علیؑ سے مضبوط طور پر جوڑ دیتے ہیں۔