مومن کی خدمت اور حاجت روائی
رسولِ خدا ﷺ اور ائمہ اہلِ بیتؑ کے 40 نورانی فرامین
مومن کی خدمت، مالی امداد اور ان کی پریشانی دور کرنے کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ اور ائمہ اہل بیتؑ کے فرامین
انسانیت اور ہمدردی کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔
40 مستند فرامین درج ذیل ہیں:
رسول اللہ ﷺ کے ارشادات
خدا کی محبوبیت:
اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل کسی مومن کے دل میں خوشی داخل کرنا، اس کا قرض ادا کرنا یا اسے بھوک سے بچانا ہے۔
پریشانی دور کرنا:
جو شخص کسی مومن کی دنیاوی پریشانی دور کرے گا، اللہ قیامت کے دن اس کی پریشانیوں میں سے ایک بڑی پریشانی دور فرمائے گا۔
مدد کا بدلہ:
جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس بندے کی مدد میں رہتا ہے۔
بہترین انسان:
تم میں سے بہترین وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔
جنت کا راستہ:
جس نے کسی مومن کی حاجت پوری کی، گویا اس نے اپنی پوری زندگی اللہ کی عبادت میں گزاری۔
امام علی علیہ السلام کے فرامین
بڑی نیکی:
کسی غمزدہ کی داد رسی کرنا اور مظلوم کی مدد کرنا گناہوں کا کفارہ ہے۔
مالی ہمدردی:
سچا بھائی وہ ہے جو تنگدستی میں تمہاری مالی مدد کرے اور مصیبت میں کام آئے۔
سخاوت کی فضیلت:
سخی اللہ کا دوست ہے، چاہے وہ (اعمال میں) کتنا ہی پیچھے کیوں نہ ہو۔
پریشانی کا حل:
اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری دعائیں قبول ہوں، تو غریبوں اور پریشان حال لوگوں کی مدد کیا کرو۔
احسان کی قدر:
کسی حاجت مند کی حاجت پوری کرنا، کثرت سے روزے رکھنے اور اعتکاف کرنے سے بہتر ہے۔
امام حسن و امام حسین علیہ السلام کے فرامین
امام حسنؑ:
کسی ضرورت مند کی ضرورت پوری کرنا میرے نزدیک ایک ماہ کے اعتکاف سے بہتر ہے۔
امام حسینؑ:
لوگوں کی ضرورتیں تم تک پہنچنا اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، لہٰذا ان نعمتوں (مدد کرنے) سے نہ گھبراؤ۔
امام حسینؑ:
جو کسی مومن کی پریشانی دور کرتا ہے، اللہ اسے دنیا و آخرت کی پریشانیوں سے نجات دیتا ہے۔
امام زین العابدین و امام محمد باقر علیہ السلام کے فرامین
امام زین العابدینؑ:
اللہ اس مومن سے بہت محبت کرتا ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا اور اپنے بھائیوں کا ہمدرد ہو۔
امام محمد باقرؑ:
مومن کا مومن پر حق ہے کہ وہ اسے کھانا کھلائے، اس کا لباس مہیا کرے اور اس کی مشکل میں کام آئے۔
امام محمد باقرؑ:
اللہ کی قسم! کسی مومن بھائی کی حاجت پوری کرنا، حج اور حج اور حج (آپ نے دس بار حج کا ذکر فرمایا) سے بہتر ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرامین
حاجت روائی:
جس نے کسی مومن کی حاجت پوری کی، اللہ قیامت کے دن اس کی ایک لاکھ حاجتیں پوری کرے گا۔
سماجی خدمت:
کسی مومن بھائی کا کام کرنے کے لیے قدم اٹھانا، صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے سے زیادہ ثواب رکھتا ہے۔
خوشی کی صورت:
جب تم کسی مومن کو خوش کرتے ہو، تو اللہ اس خوشی سے ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو تمہاری قبر میں تمہارا مونس و مددگار ہوگا۔
کھانا کھلانا:
کسی بھوکے مومن کو کھانا کھلانا، میرے نزدیک گردن (غلام) آزاد کرنے سے بہتر ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے مزید ارشادات
قرض کی ادائیگی:
جس نے اپنے بھائی کا قرض ادا کیا، اللہ اسے جنت کے خزانوں میں سے عطا فرمائے گا۔
خفیہ مدد:
چھپا کر کسی حاجت مند کی مدد کرنا اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے۔
سایہِ عرش:
قیامت کے دن جب کوئی سایہ نہ ہوگا، اللہ اس شخص کو اپنے عرش کا سایہ دے گا جس نے کسی پریشان حال کی مشکل آسان کی ہوگی۔
برکت کا سبب:
دوسروں کی مدد کرنے سے مال کم نہیں ہوتا، بلکہ اللہ اس میں برکت اور اضافہ فرماتا ہے۔
مومن کی عزت:
جو اپنے بھائی کی عزت کی حفاظت کرتا ہے (اس کی غیبت روکتا یا دفاع کرتا ہے)، اللہ اسے جہنم سے آزاد کر دیتا ہے۔
امام علی علیہ السلام کے مزید فرامین
بہترین صدقہ:
کسی مومن کے دل میں امید کی کرن پیدا کرنا بہترین صدقہ ہے۔
انسان کی قدر:
انسان کی قیمت اس کا وہ احسان اور نیکی ہے جو وہ دوسروں کے ساتھ کرتا ہے۔
مصیبت کا ساتھی:
دوست وہ نہیں جو خوشی میں ساتھ ہو، بلکہ سچا دوست وہ ہے جو مصیبت اور تنگی میں کام آئے۔
پردہ پوشی:
جو اپنے بھائی کے عیب چھپاتا ہے، اللہ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔
جلدی نیکی:
نیکی کرنے میں دیر نہ کرو، کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ تمہاری زندگی کب ختم ہو جائے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کے مزید فرامین
زیارتِ خدا:
جس نے اپنے مومن بھائی کی ضرورت پوری کی، گویا اس نے عرش پر اللہ کی زیارت کی۔
مشکل کشائی:
جو شخص کسی مومن کے راستے سے کوئی تکلیف دہ چیز ہٹاتا ہے، اللہ اسے جنت کی راہ دکھاتا ہے۔
مال کا حق:
تمہارے مال میں سائل اور محروم کا حق ہے، اسے اپنی ملکیت سمجھ کر روک نہ رکھو۔
مومن کی خوشی:
جب تم کسی مومن کو کھانا کھلاتے ہو، تو زمین و آسمان کی ہر چیز تمہارے لیے دعا کرتی ہے۔
ملاقات کا ثواب:
اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا نیکی ہے، اور اس کے برتن میں پانی ڈال دینا (مدد کرنا) صدقہ ہے۔
دیگر ائمہ معصومین علیہم السلام کے فرامین
امام موسیٰ کاظمؑ:
اللہ کے زمین پر کچھ ایسے بندے ہیں جو لوگوں کی حاجت روائی کے لیے وقف ہیں، یہ لوگ قیامت کے دن خوف سے امان میں ہوں گے۔
امام علی رضاؑ:
جو شخص کسی مومن کی اداسی دور کرے گا، اللہ روزِ قیامت اس کے دل کو خوشیوں سے بھر دے گا۔
امام محمد تقیؑ:
اللہ کی دی ہوئی نعمتیں اس شخص کے پاس زیادہ دیر رہتی ہیں جو ان نعمتوں سے دوسروں کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔
امام علی نقیؑ:
دنیا میں نیکی کرنے والے آخرت میں بھی نیکی کرنے والوں کی صف میں ہوں گے۔
امام حسن عسکریؑ:
دو خصلتیں ایسی ہیں جن سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں: اللہ پر ایمان لانا اور اپنے بھائیوں کو فائدہ پہنچانا۔
امام مہدی علیہ السلام (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف)
کے فرامین اور ان کی جانب سے صادر ہونے والی توقیعات (خطوط) میں مومنین کے حقوق، باہمی ہمدردی اور ایک دوسرے کی مدد پر بہت زور دیا گیا ہے۔ آپؑ کی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سچا منتظر وہی ہے جو امام کی غیبت میں ان کے ماننے والوں کا خیال رکھے۔
مومنین کے لیے امامؑ کی دلی ہمدردی
امام مہدیؑ نے اپنی ایک مشہور توقیع میں شیعیانِ علیؑ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
"ہم تمہاری خبر گیری میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے اور تمہیں کبھی فراموش نہیں کرتے، اگر ایسا نہ ہوتا تو بلائیں تمہیں گھیر لیتیں اور دشمن تمہیں جڑ سے اکھیڑ دیتے۔" (احتجاج طبرسی)
پیغام:
جب امامؑ خود اپنے ماننے والوں کی مدد اور حفاظت فرماتے ہیں، تو ایک مومن کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ وہ دوسرے مومن کو اکیلا نہ چھوڑے اور مشکل وقت میں اس کا سہارا بنے
اہل بیتؑ کا فلسفہ یہ ہے کہ "عبادت الٰہی" اور "خدمتِ خلق" دو الگ چیزیں نہیں ہیں۔ مومن کے چہرے کی ایک مسکراہٹ پورے سال کے اعتکاف سے زیادہ وزنی ہو سکتی ہے اگر وہ خلوصِ دل سے ہو۔
ایک اہم نکتہ
اہل بیتؑ کی تعلیمات میں "مالی پریشانی دور کرنا" صرف پیسے دینا نہیں، بلکہ مومن کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے اسے مشکل سے نکالنا اصل عبادت ہے۔