غزوۂ بدر میں حضرت علیؑ علیہ السلام کی شجاعت — نصرتِ اسلام کی فیصلہ کن داستان

Syed

January 5, 2026 • 13 views

Share
غزوۂ بدر میں حضرت علیؑ علیہ السلام کی شجاعت — نصرتِ اسلام کی فیصلہ کن داستان

⚔️ غزوۂ بدر میں حضرت علیؑ علیہ السلام کی شجاعت

غزوۂ بدر اسلام کی پہلی اور فیصلہ کن جنگ ہے جو 17 رمضان 2 ہجری کو لڑی گئی۔ اس معرکے میں حضرت علی بن ابی طالبؑ علیہ السلام کی شجاعت، جرأت اور ایمانی قوت اس قدر نمایاں تھی کہ محدثین نے اسے نصرتِ اسلام کی بنیاد قرار دیا ہے۔


🗡️ میدانِ بدر میں سب سے پہلا مبارزہ

تاریخی مصادر کے مطابق، جنگ کے آغاز میں قریش کی طرف سے تین مشہور جنگجو میدان میں آئے:

  • عتبہ بن ربیعہ

  • شیبہ بن ربیعہ

  • ولید بن عتبہ

رسولِ اکرم ﷺ کے حکم سے ان کے مقابلے میں جو مجاہدین آئے، ان میں:

  • حضرت علیؑ علیہ السلام

  • حضرت حمزہؑ

  • حضرت عبیدہ بن الحارثؑ

شامل تھے۔

📘 کتب بیان کرتی ہیں کہ 

  • حضرت علیؑ علیہ السلام نے ولید بن عتبہ کو نہایت جرأت کے ساتھ مقابلے میں قتل کیا

  • یہ پہلا قتل تھا جس نے کفار کے حوصلے پست اور مسلمانوں کے حوصلے بلند کر دیے

حوالہ:
📚 الارشاد — شیخ مفیدؒ
📚 تاریخ یعقوبی
📚 بحار الانوار، علامہ مجلسیؒ


⚔️ سب سے زیادہ کفار کا قتل

مؤرخین کے مطابق، غزوۂ بدر میں قتل ہونے والے کفار کی کل تعداد 70 تھی، جن میں سے 

تقریباً نصف (35 سے زائد) کفار حضرت علیؑ علیہ السلام کے ہاتھوں مارے گئے۔

یہ بات کتب میں بارہا ذکر ہوئی ہے کہ:

  • حضرت علیؑ علیہ السلام میدانِ جنگ میں سب سے آگے تھے

  • دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے مسلسل حملہ آور رہے

حوالہ:
📚 بحار الانوار، جلد 19
📚 مناقب آل ابی طالب — ابن شہر آشوبؒ


🛡️ رسولِ اکرم ﷺ کا محافظ

روایات کے مطابق :

  • حضرت علیؑ علیہ السلام پورے معرکے میں رسولِ خدا ﷺ کے سب سے قریبی محافظ رہے

  • جب بھی دشمن رسولؐ کی طرف بڑھتا، حضرت علیؑ ڈھال بن کر سامنے آ جاتے

یہی وجہ ہے کہ بعض علماء غزوۂ بدر میں علیؑ کو سیفُ اللہ الناطق قرار دیتے ہیں۔

حوالہ:
📚 الخصال — شیخ صدوقؒ
📚 بحار الانوار


🌙 ملائکہ کی نصرت اور حضرت علیؑ

تفاسیر کے مطابق آیتِ قرآنی :

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ
(الأنفال: 9)

کی تفسیر میں آیا ہے کہ:

  • ملائکہ کی مدد نازل ہوئی

  • مگر زمین پر عملی طور پر دشمن کے لشکر کو توڑنے والا بازو حضرت علیؑ علیہ السلام تھے

📚 تفسیر القمی
📚 تفسیر نور الثقلین


🕊️ رسولِ اکرم ﷺ کا فرمان 

کتب میں منقول ہے کہ رسولِ خدا ﷺ نے غزوۂ بدر کے بعد فرمایا :

"تمام اہلِ بدر کے اعمال کا وزن کیا جائے اور علیؑ کے عمل کو ایک پلڑے میں رکھا جائے تو علیؑ کا پلڑا بھاری ہوگا۔"

حوالہ:
📚 بحار الانوار
📚 مناقب آل ابی طالب


🌟 نتیجہ

تاریخی و حدیثی مصادر اس بات پر متفق ہیں کہ :

  • غزوۂ بدر میں سب سے زیادہ عملی کردار حضرت علیؑ علیہ السلام کا تھا

  • آپؑ کی شجاعت نے اسلام کو ابتدائی مرحلے میں فیصلہ کن فتح عطا کی

  • یہی وجہ ہے کہ علماء غزوۂ بدر کو "یومُ علیؑ" بھی قرار دیتے ہیں

حضرت علیؑ علیہ السلام کی شجاعت صرف جسمانی قوت نہیں بلکہ ایمانِ کامل، توکل اور ولایتِ الٰہی کا مظہر تھی۔

About the Author

Syed

A passionate storyteller and contributor to ShahBlogs, exploring the intersection of technology and lifestyle.

Conversation (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Search

Stay Inspired

Get the latest insights and stories delivered directly to your inbox.

Advertisement

Premium Ad Space

Cookie Consent

Privacy Matters

We use cookies to enhance your experience, analyze site traffic, and serve personalized content. By clicking "Accept", you agree to our use of cookies.