ہر مسلمان کے لیے بنیادی اسلامی علم کی اہمیت
تعلیماتِ محمد و آلِ محمدؑ کی روشنی میں
اسلام ایک مکمل اور جامع دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اخلاق، معاشرت، عدل، محبت، انسانیت اور اجتماعی زندگی کے اصول بھی بیان کرتا ہے۔ اسلام انسان کو ایک ایسا متوازن نظامِ حیات دیتا ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ مگر اس عظیم دین کی صحیح پیروی اسی وقت ممکن ہے جب ہر مسلمان بنیادی اسلامی علم سے واقف ہو۔
بدقسمتی سے آج بہت سے مسلمان دین کے بنیادی احکام اور تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ وہ عبادات تو کرتے ہیں مگر ان کی حقیقت اور روح سے ناواقف رہتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہر مسلمان، خواہ مرد ہو یا عورت، دین کی بنیادی تعلیمات سے آگاہی حاصل کرے۔ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیمات ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ علم کے بغیر دین کی صحیح سمجھ ممکن نہیں۔
اسلام میں علم کی اہمیت
اسلام نے علم کو غیر معمولی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ مجید کی پہلی وحی ہی علم کے موضوع پر نازل ہوئی:
"اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ"
یعنی پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کی بنیاد ہی علم اور شعور پر رکھی گئی ہے۔ قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر علم والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ ایک مقام پر فرمایا گیا:
"کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟"
یہ سوال دراصل ایک حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ علم انسان کو بلندی عطا کرتا ہے اور جہالت اسے پستی میں لے جاتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے بھی علم حاصل کرنے کو ہر مسلمان پر فرض قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات سے واقفیت ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
تعلیماتِ محمد ﷺ میں علم کی تاکید
رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پوری زندگی علم اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ آپؐ نے اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ علم حاصل کرنے کی تلقین کی۔ آپؐ نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اس فرمان سے واضح ہوتا ہے کہ دین کی بنیادی سمجھ صرف علما کے لیے نہیں بلکہ ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔
آپؐ نے لوگوں کو جہالت سے نکال کر علم اور شعور کی روشنی عطا کی۔ زمانۂ جاہلیت میں جہاں معاشرہ جہالت اور ظلم میں ڈوبا ہوا تھا، وہاں آپؐ نے علم، عدل اور اخلاق کی بنیاد پر ایک بہترین معاشرہ قائم کیا۔ آپؐ کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ ایک باشعور مسلمان ہی ایک اچھا انسان اور بہترین معاشرے کا حصہ بن سکتا ہے۔
اہلِ بیت علیہم السلام اور علم کی روشنی
محمد و آلِ محمد علیہم السلام علم و حکمت کا وہ روشن مینار ہیں جن سے پوری امت نے رہنمائی حاصل کی۔
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
"میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں۔"
یہ حدیث اہلِ بیت علیہم السلام کے علمی مقام کو واضح کرتی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے ہمیشہ علم کی اہمیت پر زور دیا۔ آپؑ نے فرمایا کہ علم انسان کی سب سے بڑی دولت ہے۔ آپؑ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ علم ایسی میراث ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ حضرت علیؑ نے لوگوں کو نہ صرف عبادات بلکہ عدل، اخلاق، حکمت اور معاشرتی اصولوں کی بھی تعلیم دی۔
اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے اسلامی علوم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایسے علمی مراکز قائم کیے جہاں ہزاروں شاگردوں نے علم حاصل کیا۔ فقہ، حدیث، تفسیر اور اخلاقیات جیسے علوم اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے ہی فروغ پائے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں علم اور اہلِ بیتؑ کا تعلق انتہائی مضبوط ہے۔
بنیادی اسلامی علم کیا ہے؟
ہر مسلمان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ بنیادی اسلامی علم سے کیا مراد ہے۔ بنیادی اسلامی علم وہ ہے جس کے بغیر ایک مسلمان اپنی دینی زندگی کو صحیح طور پر نہیں گزار سکتا۔
1. عقائد کا علم
سب سے پہلے ہر مسلمان کو اپنے بنیادی عقائد کا علم ہونا چاہیے۔ توحید، نبوت، امامت اور قیامت جیسے عقائد ایمان کی بنیاد ہیں۔ اگر عقیدہ درست ہو تو انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور وہ ہر حال میں اپنے رب پر یقین رکھتا ہے۔
2. عبادات کا علم
نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات اسلام کے ستون ہیں۔ ان عبادات کو صحیح طریقے سے ادا کرنے کے لیے ان کے احکام کا جاننا ضروری ہے۔ بغیر علم کے عبادت کرنے سے انسان غلطی کا شکار ہو سکتا ہے اور عبادت کی روح سے محروم رہ جاتا ہے۔
3. اخلاقیات کا علم
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ اچھے اخلاق بھی دین کا اہم حصہ ہیں۔ سچائی، امانت داری، صبر، عدل، حسنِ سلوک اور احترامِ انسانیت جیسی صفات ایک مسلمان کی پہچان ہیں۔ اہلِ بیت علیہم السلام نے ہمیشہ اچھے اخلاق پر زور دیا اور فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جس کا اخلاق بہترین ہو۔
4. معاملات اور معاشرت
اسلامی تعلیمات میں معاملات اور معاشرت کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ تجارت، لین دین، رشتے، پڑوسیوں کے حقوق اور معاشرتی ذمہ داریوں کا علم ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ ایک اچھا شہری اور ذمہ دار انسان بن سکے۔
بنیادی اسلامی علم کے فوائد
بنیادی اسلامی علم انسان کی زندگی میں کئی مثبت تبدیلیاں لاتا ہے۔
ایمان کی مضبوطی
جب انسان اپنے دین کو سمجھتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ وہ ہر مشکل میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور صبر و شکر کا دامن نہیں چھوڑتا۔
درست عبادات
علم کے ذریعے انسان اپنی عبادات کو درست طریقے سے ادا کرتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا مقصد کیا ہے اور اسے کس طرح ادا کرنا ہے۔
اچھا کردار
اسلامی علم انسان کے اخلاق کو بہتر بناتا ہے۔ وہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے اور معاشرے میں محبت اور امن کو فروغ دیتا ہے۔
گمراہی سے بچاؤ
آج کے دور میں مختلف نظریات اور فتنوں نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے۔ اگر مسلمان دین کا بنیادی علم رکھتے ہوں تو وہ گمراہی سے محفوظ رہتے ہیں اور صحیح راستہ اختیار کرتے ہیں۔
موجودہ دور میں اسلامی علم کی ضرورت
آج کا دور معلومات کا دور ہے مگر دینی علم کی کمی بھی نمایاں ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے جہاں معلومات کو آسان بنایا ہے، وہیں غلط معلومات بھی تیزی سے پھیلتی ہیں۔ ایسے میں ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مستند اسلامی علم حاصل کرے۔
محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیمات ہمیں اعتدال اور محبت کا درس دیتی ہیں۔ اگر مسلمان ان تعلیمات کو سمجھ لیں تو معاشرے میں نفرت، انتہاپسندی اور انتشار کم ہو سکتا ہے۔ اسلامی علم انسان کو برداشت، صبر اور حکمت سکھاتا ہے، جو آج کے معاشرے کی اہم ضرورت ہے۔
نئی نسل کی ذمہ داری
والدین اور اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نئی نسل کو بنیادی اسلامی علم سے روشناس کرائیں۔ بچوں کو بچپن ہی سے دین کی بنیادی تعلیمات، نماز، اخلاق اور اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت سے آگاہ کیا جائے۔ اگر نئی نسل دین کو سمجھ کر اپنائے گی تو وہ ایک باکردار اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دے سکے گی۔
گھروں میں دینی ماحول، مساجد اور تعلیمی اداروں میں دینی تعلیم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت کا مطالعہ نئی نسل کے لیے نہایت مفید ہے۔ اس طرح ایک ایسا معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے جو علم، اخلاق اور انسانیت کی بنیاد پر قائم ہو۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ بنیادی اسلامی علم ہر مسلمان کی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیمات ہمیں واضح طور پر بتاتی ہیں کہ علم ہی وہ روشنی ہے جو انسان کو ہدایت کی راہ دکھاتی ہے۔ علم کے بغیر نہ ایمان مضبوط ہو سکتا ہے اور نہ عبادات کی حقیقت سمجھ آ سکتی ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ دینی علم حاصل کرنے کی کوشش کرے، قرآن اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کو سمجھے اور اپنی زندگی کو ان اصولوں کے مطابق ڈھالے۔ جب مسلمان علم اور عمل کو ساتھ لے کر چلیں گے تو نہ صرف ان کی اپنی زندگی سنورے گی بلکہ پورا معاشرہ امن، محبت اور عدل کا گہوارہ بن جائے گا۔ یہی اسلام کا حقیقی پیغام اور محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیمات کا مقصد ہے۔
بنیادی اسلامی علم نہ ہونے کے نقصانات
اگر ایک مسلمان بنیادی اسلامی علم سے محروم ہو تو اس کی ذاتی، روحانی اور معاشرتی زندگی پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے، اس لیے اس کی بنیادی تعلیمات سے ناواقفیت انسان کو مختلف قسم کے نقصانات میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ذیل میں چند اہم نقصانات کو ہیڈنگز کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے:
1. ایمان کی کمزوری
بنیادی اسلامی علم نہ ہونے کی صورت میں انسان اپنے عقائد کو صحیح طور پر نہیں سمجھ پاتا۔ توحید، نبوت، امامت اور قیامت جیسے بنیادی عقائد سے ناواقفیت ایمان کو کمزور کر دیتی ہے۔
ایمان کی کمزوری کی وجہ سے انسان معمولی مشکلات میں بھی مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے اور اللہ پر کامل بھروسہ نہیں رکھ پاتا۔
2. عبادات میں غلطیاں
جب کسی مسلمان کو نماز، روزہ اور دیگر عبادات کے احکام کا صحیح علم نہ ہو تو وہ عبادات تو ادا کرتا ہے مگر صحیح طریقے سے نہیں کر پاتا۔
اس طرح عبادات کی روح اور مقصد حاصل نہیں ہوتا اور بعض اوقات عبادت قبول بھی نہیں ہوتی۔ بنیادی علم عبادات کو درست اور بامقصد بناتا ہے۔
3. گناہوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ
دینی علم کی کمی کی وجہ سے انسان کو حلال اور حرام کا فرق معلوم نہیں ہوتا۔ وہ انجانے میں ایسے کام کر سکتا ہے جو اسلام میں منع ہیں۔
اسی طرح بعض اوقات لوگ معاشرتی رسم و رواج کو دین سمجھ کر غلط اعمال کرتے رہتے ہیں۔ علم نہ ہونے سے انسان گناہوں میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
4. غلط عقائد اور گمراہی
اگر کسی شخص کے پاس بنیادی اسلامی علم نہ ہو تو وہ ہر بات پر آسانی سے یقین کر لیتا ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا اور مختلف نظریات کی بھرمار ہے۔ علم نہ ہونے کی وجہ سے انسان غلط عقائد، بدعات اور گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔
محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ علم انسان کو حق اور باطل میں فرق کرنا سکھاتا ہے۔
5. اخلاقی کمزوری
اسلامی علم نہ ہونے سے انسان کے اخلاق پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ وہ سچائی، صبر، برداشت اور عدل جیسے اسلامی اصولوں کو نہیں سمجھ پاتا۔
اس کے نتیجے میں معاشرے میں جھوٹ، دھوکہ، حسد اور نفرت بڑھتی ہے۔ جب کہ اسلامی تعلیمات اچھے اخلاق اور حسنِ سلوک پر زور دیتی ہیں۔
6. معاشرتی انتشار
جب معاشرے کے افراد دینی علم سے محروم ہوں تو معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
لوگ ایک دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتے، ناانصافی اور بداعتمادی بڑھتی ہے اور بھائی چارہ ختم ہونے لگتا ہے۔
اسلامی علم انسان کو دوسروں کے حقوق کا احترام اور معاشرتی ذمہ داریوں کا شعور دیتا ہے۔
7. دین سے دوری
بنیادی اسلامی علم نہ ہونے کی وجہ سے انسان آہستہ آہستہ دین سے دور ہونے لگتا ہے۔
جب اسے دین کی خوبصورتی اور حکمت سمجھ نہیں آتی تو وہ اسے مشکل یا غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے۔
علم دین انسان کے دل میں دین سے محبت پیدا کرتا ہے اور اسے اللہ کے قریب لاتا ہے۔
8. نئی نسل کی غلط تربیت
اگر والدین خود اسلامی علم سے ناواقف ہوں تو وہ اپنی اولاد کی صحیح دینی تربیت نہیں کر سکتے۔
اس طرح نئی نسل بھی دین سے دور ہو جاتی ہے اور معاشرہ اخلاقی و روحانی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔
بنیادی اسلامی علم ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونا ضروری ہے۔
حاصل ماخذ
بنیادی اسلامی علم نہ ہونا فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سے ایمان کمزور، عبادات ناقص، اخلاق متاثر اور معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی تعلیمات ہمیں واضح طور پر بتاتی ہیں کہ علم ہی انسان کو ہدایت، شعور اور کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دین کا بنیادی علم حاصل کرے اور اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالے تاکہ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکے۔