حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کی فصاحت، بلاغت اور علم میں افضلیت: خطبہ بغیر نُقطہ

Syed

January 25, 2026 • 65 views

Share
حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کی فصاحت، بلاغت اور علم میں افضلیت: خطبہ بغیر نُقطہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

 

حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کی فصاحت و بلاغت اور علم میں افضلیت

 

تمہید

اسلامی تاریخ میں اگر کسی شخصیت کا نام علم، حکمت، فصاحت، بلاغت، عدل اور معرفتِ الٰہی کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ گیا ہے تو وہ ذات حضرت امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ کی ہے۔ آپؑ نہ صرف رسولِ اکرم کے سب سے قریبی اور برگزیدہ وصی ہیں بلکہ علمِ نبوی کے سب سے بڑے وارث اور حکمتِ الٰہی کے سب سے عظیم مظہر بھی ہیں۔ کتبِ معتبرہ جیسے نہج البلاغہ، بحار الانوار، مناقب ابن شہر آشوب، کشف الغمہ، سفینۃ البحار اور الغدیر میں آپؑ کی علمی و ادبی عظمت کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ رسولِ خدا کے بعد امت میں سب سے بڑھ کر علم و معرفت اور فصاحت و بلاغت کا سرچشمہ علیؑ ہی ہیں۔

 

رسولِ خدا کی گواہی: علیؑ بابُ مدینۃ العلم

تاریخ میں رسولِ اکرم کا یہ مشہور اور متعدد طرق سے نقل ہونے والا فرمان موجود ہے:

"أنا مدينةُ العلمِ وعليٌّ بابُها"
یعنی "میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں"۔

یہ حدیث اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ علمِ نبوی تک حقیقی رسائی کا راستہ علیؑ کی ذات سے ہو کر گزرتا ہے۔ علامہ مجلسیؒ بحار الانوار میں اس حدیث کو علیؑ کی علمی افضلیت کی بنیادی دلیل قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ علیؑ کا علم صرف ظاہری احکام تک محدود نہ تھا بلکہ وہ قرآن کے ظاہر و باطن، تنزیل و تاویل اور شریعت و حقیقت سب پر محیط تھا۔

 

قرآن اور اس کے اسرار کا سب سے بڑا عالم

حضرت علیؑ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے قرآنِ مجید کو نہ صرف رسولِ خدا سے براہِ راست سیکھا بلکہ اس کے نزول کے ہر مرحلے اور ہر سببِ نزول سے مکمل آگاہی رکھتے تھے۔ خود امیرالمؤمنینؑ کا مشہور قول ہے:

"سلونی قبل أن تفقدونی" (مجھ سے پوچھ لو قبل اس کے کہ مجھے کھو دو)

کتب میں یہ جملہ آپؑ کے اس اعتماد کا اظہار سمجھا جاتا ہے جو آپؑ کو اپنے علمِ الٰہی پر تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ لوگوں نے توحید، قضا و قدر، روح، کائنات، سیاست، عدلِ اجتماعی اور اخلاق جیسے عمیق ترین موضوعات پر سوال کیے اور علیؑ نے ایسے جوابات دیے جو عقلِ انسانی کو حیران کر دیتے ہیں۔

 

نہج البلاغہ: فصاحت و بلاغت کا زندہ معجزہ

حضرت علیؑ کی فصاحت و بلاغت کا سب سے بڑا شاہکار "نہج البلاغہ" ہے جسے سید رضیؒ نے آپؑ کے خطبات، مکتوبات اور کلماتِ قصار سے مرتب کیا۔ شیعہ علماء کے ساتھ ساتھ بہت سے سنی ادباء اور لغویین نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ نہج البلاغہ قرآن کے بعد عربی زبان کا سب سے فصیح و بلیغ کلام ہے۔

سید رضیؒ خود لکھتے ہیں کہ علیؑ کا کلام:

"کلامُ الخالق سے نیچے اور کلامِ مخلوق سے اوپر ہے"۔

یہ جملہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امیرالمؤمنینؑ کی زبان سے نکلنے والا کلام عام انسانی سطح سے کہیں بلند تھا اور اس میں الٰہی حکمت کی جھلک نمایاں تھی۔

 

ادبی معجزات: خطبہ بغیر نقطہ اور خطبہ بغیر الف

کتبِ مناقب میں حضرت علیؑ کے کئی ایسے خطبات نقل ہوئے ہیں جو عربی ادب میں آج تک حیرت و اعجاز کی مثال سمجھے جاتے ہیں، جیسے "خطبہ بغیر نقطہ" اور "خطبہ بغیر الف"۔ ان خطبات میں پورا کلام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ایک خاص حرف (یا نقطہ والے حروف) کا استعمال تک نہیں کیا گیا، اور اس کے باوجود معنی، فصاحت اور بلاغت اپنے کمال پر ہے۔ علامہ ابن شہر آشوب اور علامہ مجلسیؒ جیسے اکابر علماء نے ان خطبات کو علیؑ کی غیر معمولی علمی و ادبی قدرت کی روشن دلیل قرار دیا ہے۔

 

غرر الحکم اور حکمتِ علوی

حضرت علیؑ کے مختصر اقوال بھی حکمت کے سمندر ہیں۔ ان اقوال کو بعد میں "غرر الحکم و درر الکلم" جیسی کتب میں جمع کیا گیا۔ ان میں اخلاق، تربیت، سیاست، عدل، تقویٰ، زہد اور انسان سازی کے ایسے اصول بیان ہوئے ہیں جو آج بھی انسانی معاشروں کی رہنمائی کے لیے کافی ہیں۔ علماء کے نزدیک یہ حکمت آمیز اقوال اس بات کا ثبوت ہیں کہ علیؑ کا علم صرف نظری نہیں بلکہ عملی اور اصلاحِ انسانیت کا ضامن تھا۔

 

علمِ علیؑ کی وراثت: ائمہ اہلِ بیتؑ

تمام ائمہ اہلِ بیتؑ اپنے علم کی نسبت امیرالمؤمنینؑ ہی کی طرف دیتے ہیں۔ امام باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ جیسے عظیم علمی اماموں کے بارے میں بھی موجود ہے کہ ان کا علم دراصل علیؑ کے علم کا تسلسل تھا۔ اس طرح علیؑ کو اہلِ بیتؑ کے پورے علمی سلسلے کی بنیاد اور سرچشمہ قرار دیا جاتا ہے۔

 

تاریخی کتب کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین علیؑ علم، حکمت، فصاحت اور بلاغت میں رسولِ اکرم کے بعد پوری امت میں سب سے افضل اور بلند مقام رکھتے ہیں۔ آپؑ نہ صرف علمِ نبوی کے وارث اور بابُ مدینۃ العلم ہیں بلکہ آپؑ کا کلام آج بھی عقلوں کو روشن اور دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں صحیح معرفت، گہری حکمت اور حقیقی علم کا سب سے بڑا دروازہ اور سب سے عظیم منبع ذاتِ علیؑ ہی ہے۔

 

 

حضرت علیؑ کی فصاحت و بلاغت کا ایک عظیم نمونہ:

حضرت علیؑ کا “خطبہ بغیر نُقطہ

 

یہ امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبؑ کا وہ خطبہ ہے جس کے تمام کلمات کے حروف نُقطوں سے خالی ہیں۔

 

الحمد لله الملك المحمود، المالك الودود، مصور كل مولود، ومآل كل مطرود، ساطح المهاد وموطد الأطواد، ومرسل الأمطار ومسهل الأوطار، عالم الأسرار ومدركها، ومدمر الأملاك ومهلكها، ومكور الدهور ومكررها، ومورد الأمور ومصدرها، عم سماحه وكمل ركامه، وهمل، طاول السؤال والأمل، وأوسع الرمل وأرمل، أحمده حمدا ممدودا، وأوحده كما وحد الأواه، وهو الله لا إله للأمم سواه، ولا صادع لما عدل له وسواه، أرسل محمدا علما للإسلام وإماما للحكام، سددا للرعاع ومعطل أحكام ود وسواع، أعلم وعلم، وحكم وأحكم، وأصل الأصول، ومهد وأكد الموعود وأوعد، أوصل الله له الإكرام، وأودع روحه الإسلام،

ورحم آله وأهله الكرام، ما لمع رائل وملع دال، وطلع هلال، وسمع إهلال. إعملوا رعاكم الله أصلح الأعمال، واسلكوا مسالك الحلال، واطرحوا الحرام ودعوه، واسمعوا أمر الله وعوه، و صلوا الأرحام و راعوها، وآعصوا الأهواء وآردعوها، وصاهروا أهل الصلاح والورع، و صارموا رهط اللهو والطمع، ومصاهركم أطهر الأحرار مولدا وأسراهم سؤددا، وأحلامكم موردا، وها هو إمامكم وحل حرمكم مملكا، عروسكم المكرمه، وما مهر لها كما مهر رسول الله أم سلمه، وهو أكرم صهر، و أودع الأولاد، وملك ما أراد، وما سهل مملكه ولا هم ولا وكس ملاحمه ولا وصم، اسأل الله لكم أحمد وصاله، ودوام إسعاده، وألهم كلا إصلاح حاله والأعداد لمآ له ومعاده، وله الحمد السرمد، والمدح لرسوله أحمد.

[1] نقلناها عن كتاب سلوني قبل ان تفقدوني للشيخ محمد رضا الحكيمي، ج2، ص442- 443.

[2] ابي هاشم الجباني عن ابيه ابي علي عن ابي يعقوب الشحام عن ابي الهذيل العلاف عن ابي عثمان الطويل عن واصل بن عطاء عن ابي هاشم عبدالله بن محمد بن علي عن ابيه محمد بن الحنفية عن علي (عليه السلام).
 

 خطبہ بغیر نُقطہ — مکمل اردو ترجمہ

 

تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے جو بادشاہ ہے، قابلِ تعریف ہے، محبت فرمانے والا ہے،
ہر پیدا ہونے والے کو صورت دینے والا ہے، ہر موجود کو وجود دینے والا ہے،
ہر ٹھکرائے ہوئے کا انجام اسی کی طرف ہے،
وہی زمین کو پھیلانے والا اور پہاڑوں کو مضبوطی سے گاڑنے والا ہے،
وہی بارشیں برسانے والا اور چشموں کو جاری کرنے والا ہے،
وہ رازوں کو جاننے والا اور ان کی حقیقت کو پانے والا ہے،
وہی سلطنتوں کو مٹانے والا اور انہیں ہلاک کرنے والا ہے،
وہی زمانوں کو پلٹنے والا اور دہرانے والا ہے،
وہی تمام امور کا مرجع اور سرچشمہ ہے۔

اس کی بخشش عام ہے اور اس کا کرم کامل ہے،
امید اور سوال اس کے سامنے دراز ہیں،
وہی ہے جو کمی کو پورا کرتا اور تنگی کو کشادگی میں بدل دیتا ہے۔

میں اس کی ایسی حمد کرتا ہوں جو ہمیشہ جاری رہے،
اور میں اس کی توحید کا اقرار کرتا ہوں جیسے ایک فریاد کرنے والا بندہ اقرار کرتا ہے،
وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں،
نہ اس کا کوئی شریک ہے، نہ اس کا کوئی ہمسر۔

اس نے محمد کو اسلام کا عَلَم اور حکمرانوں کا امام بنا کر بھیجا،
گمراہوں کے لیے راہنما اور احکام کو قائم کرنے والا بنا کر بھیجا،
آپ
نے علم کو واضح کیا،
فیصلہ کیا تو عدل کے ساتھ کیا،
اصولوں کی بنیاد رکھی،
وعدوں کو مضبوط کیا اور وعید کو ظاہر کیا۔

اللہ نے آپ کو عزت کے ساتھ مخصوص فرمایا،
اور آپ کی روح میں اسلام کو ودیعت فرمایا،
پس آپ
مخلوق میں سب سے بہتر،
اور بندوں میں سب سے برگزیدہ ہیں۔

اللہ ان پر اور ان کی پاک آل پر ایسی رحمت نازل فرمائے
جو ہمیشہ باقی رہے،
اور ایسی سلامتی جو کبھی ختم نہ ہو۔

 

About the Author

Syed

A passionate storyteller and contributor to ShahBlogs, exploring the intersection of technology and lifestyle.

Conversation (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Search

Stay Inspired

Get the latest insights and stories delivered directly to your inbox.

Advertisement

Premium Ad Space

Cookie Consent

Privacy Matters

We use cookies to enhance your experience, analyze site traffic, and serve personalized content. By clicking "Accept", you agree to our use of cookies.