اسلام اور سماجی انصاف
قرآن، حدیث، سیرتِ نبوی ﷺ اور حضرت علیؑ کے عدل کی روشنی میں
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ صرف عبادات کا دین نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو معاشرتی، معاشی اور اخلاقی انصاف کو فروغ دیتا ہے۔ اسلام نے ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی تعلیم دی ہے جہاں ہر فرد کو اس کے حقوق ملیں، ظلم و زیادتی کا خاتمہ ہو اور انسانیت امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سماجی انصاف کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جس کی تعلیم ہمیں قرآن مجید، احادیثِ نبوی ﷺ، سیرتِ رسول ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے فرامین سے ملتی ہے۔
اسلام میں سماجی انصاف کا تصور
سماجی انصاف سے مراد ایسا معاشرہ ہے جہاں سب انسان برابر ہوں، کسی پر ظلم نہ ہو اور ہر فرد کو اس کا حق ملے۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی اس تصور کو واضح کر دیا تھا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے انصاف کو ایک بنیادی حکم قرار دیا ہے:
"بے شک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے منع کرتا ہے۔"
(سورۃ النحل: 90)
یہ آیت اسلام کے سماجی انصاف کی بنیاد ہے۔ اسلام انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، زبان اور قوم کی بنیاد پر کسی امتیاز کو قبول نہیں کرتا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔"
(سورۃ الحجرات: 13)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام میں برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے، نہ کہ دولت، طاقت یا نسل۔
معاشی انصاف اور اسلام
اسلام نے معاشی انصاف کو قائم کرنے کے لیے زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا نظام دیا۔ زکوٰۃ کا مقصد معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم اور غریبوں کی مدد ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
"اور ان کے مالوں میں مانگنے والے اور محروم کا حق ہے۔"
(سورۃ الذاریات: 19)
اسلام سود کو حرام قرار دیتا ہے کیونکہ سود معاشی ناانصافی اور استحصال کو جنم دیتا ہے۔ اس کے مقابلے میں زکوٰۃ اور صدقہ معاشرے میں ہمدردی اور مساوات پیدا کرتے ہیں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
"وہ شخص مومن نہیں جس کا پیٹ بھرا ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔"
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام ایک ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں کوئی شخص بھوکا نہ رہے۔
انسانی حقوق اور مساوات
اسلام نے ہر انسان کے حقوق کا تحفظ کیا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب، مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ رسول اکرم ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا:
"کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔"
اسلام نے عورتوں کو وہ حقوق دیے جو اس سے پہلے کسی معاشرے میں موجود نہ تھے۔ یتیموں، مسکینوں اور غلاموں کے حقوق پر بھی خاص زور دیا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔"
یہ تعلیمات سماجی انصاف کے بہترین اصول پیش کرتی ہیں۔
سیرتِ نبوی ﷺ میں سماجی انصاف
رسول اکرم ﷺ کی پوری زندگی انصاف اور مساوات کی عملی مثال ہے۔ آپ ﷺ نے مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں سب کو برابر حقوق حاصل تھے۔ میثاقِ مدینہ دنیا کا پہلا تحریری آئین تھا جس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے حقوق محفوظ کیے گئے۔
ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک عورت نے چوری کی، اور کچھ لوگوں نے سفارش کی کہ اسے سزا نہ دی جائے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
"اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔"
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلام میں قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔
رسول اکرم ﷺ یتیموں اور غریبوں کے ساتھ بہت شفقت کرتے تھے۔ آپ ﷺ خود غریبوں کے ساتھ بیٹھتے اور ان کے مسائل حل کرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں۔"
اہلِ بیت علیہم السلام اور سماجی انصاف
اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے ہمیشہ عدل و انصاف کی تعلیم دی۔ حضرت امام حسینؑ نے ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر حق اور انصاف کی مثال قائم کی۔ انہوں نے فرمایا:
"میں اصلاحِ امتِ محمد ﷺ کے لیے نکلا ہوں۔"
یہ جملہ ظاہر کرتا ہے کہ اہلِ بیتؑ کا مقصد معاشرے میں انصاف اور حق کا قیام تھا۔
حضرت فاطمہ الزہراؑ نے بھی معاشرتی انصاف اور حق کے لیے آواز بلند کی۔ آپؑ نے فرمایا کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا بھی ظلم کی حمایت ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کا نظامِ عدل
حضرت علیؑ کو تاریخ کا عظیم ترین عادل حکمران کہا جاتا ہے۔ آپؑ کے دورِ خلافت میں انصاف کا ایسا نظام قائم ہوا جس کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے۔
آپؑ نے فرمایا:
"معاشرہ کفر کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم کے ساتھ نہیں۔"
یہ قول سماجی انصاف کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
اسلام میں معاشرتی انصاف محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔ اہل بیتِ اطہار علیہم السلام، اور بالخصوص حضرت علی علیہ السلام کی زندگی اس عدل و انصاف کا عملی نمونہ ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔
حضرت علیؑ کا قول ہے:
"عدل یہ ہے کہ تم دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے کرتے ہو۔"
ذیل میں ان کی تعلیمات اور عملی مثالوں کا خلاصہ پیش ہے:
1. قانون کی بالادستی (برابری)
اہل بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق قانون کے سامنے حکمران اور عام شہری برابر ہیں۔
عملی مثال:
حضرت علیؑ کے دورِ خلافت میں آپ کی زرہ گم ہو گئی۔ آپؑ نے اسے ایک غیر مسلم کے پاس دیکھا، لیکن اسے زبردستی لینے کے بجائے قاضی کی عدالت میں مقدمہ لے گئے۔ جب قاضی نے آپؑ کو "یا ابا الحسن" (کنیت) کہہ کر پکارا اور دوسرے فریق کو نام سے، تو آپؑ نے اعتراض کیا کہ یہیں سے ناانصافی شروع ہوتی ہے، عدالت میں فریقین کے ساتھ برابری کا سلوک ہونا چاہیے۔
2. بیت المال کی منصفانہ تقسیم
حضرت علیؑ نے آتے ہی معاشی تفاوت کو ختم کیا اور بیت المال کو ضرورت کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق کی بنیاد پر برابر تقسیم کیا۔
عملی مثال:
آپؑ کے بھائی جنابِ عقیل نے اپنی غربت کا واسطہ دے کر بیت المال سے کچھ اضافی رقم مانگی۔ حضرت علیؑ نے ایک تپتا ہوا لوہا ان کے قریب کیا، جب وہ پیچھے ہٹے تو آپؑ نے فرمایا: "اے عقیل! تم اس آگ سے ڈرتے ہو جسے ایک انسان نے روشن کیا، اور مجھے اس آگ کی طرف دھکیلتے ہو جسے خدا نے اپنے غضب سے بھڑکایا ہے؟"
3. غریبوں اور یتیموں کی سرپرستی
اہل بیتؑ نے ہمیشہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کو گلے لگایا۔
تعلیمات:
حضرت علیؑ نے مالک اشتر کو لکھے گئے اپنے مشہور خط (عہد نامہ) میں فرمایا: "خدا سے ڈرو ان طبقوں کے بارے میں جن کا کوئی سہارا نہیں، جو مسکین، حاجت مند اور آفت زدہ ہیں۔"
عملی مثال:
آپؑ راتوں کو بھیس بدل کر یتیموں کے گھروں میں کھانا پہنچاتے تھے اور ان کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تاکہ انہیں احساسِ کمتری نہ ہو۔
4. انسانی حقوق اور غیر مسلموں کے ساتھ انصاف
اسلامی معاشرتی انصاف میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں رکھی گئی۔
جب آپؑ نے ایک بوڑھے غیر مسلم (عیسائی) کو بھیک مانگتے دیکھا تو ناراض ہوئے اور فرمایا: "تم نے اس سے جوانی میں کام لیا اور بڑھاپے میں اسے بے سہارا چھوڑ دیا؟" پھر اس کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر کیا۔
اہل بیتؑ کا تصورِ انصاف صرف عدالتی فیصلوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ معاشرے کے معاشی، سیاسی اور اخلاقی ڈھانچے کو درست کرنے کا نام تھا
گورنروں کو ہدایات
حضرت علیؑ نے اپنے گورنروں کو عدل و انصاف کی سختی سے تلقین کی۔ مالک اشتر کے نام خط میں لکھا:
"لوگ دو قسم کے ہیں: یا تو تمہارے دینی بھائی ہیں یا انسانیت میں تمہارے برابر۔"
یہ جملہ انسانی مساوات اور سماجی انصاف کا بہترین اصول ہے۔
موجودہ دور میں اسلامی سماجی انصاف کی اہمیت
آج دنیا میں ناانصافی، غربت، کرپشن اور ظلم عام ہیں۔ ایسے حالات میں اسلام کی تعلیمات نہایت اہم ہیں۔
اگر اسلامی اصولوں پر عمل کیا جائے تو:
امیر و غریب کا فرق کم ہو سکتا ہے
کرپشن ختم ہو سکتی ہے
غریبوں کو حقوق مل سکتے ہیں
معاشرے میں امن اور بھائی چارہ قائم ہو سکتا ہے
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور ظلم کے خلاف کھڑے ہوں۔
نتیجہ
اسلام ایک ایسا دین ہے جو مکمل سماجی انصاف کا نظام پیش کرتا ہے۔ قرآن مجید نے انصاف کو بنیادی حکم قرار دیا، رسول اکرم ﷺ نے عملی طور پر ایک منصفانہ معاشرہ قائم کیا، اور اہلِ بیت علیہم السلام نے عدل و حق کے لیے عظیم مثالیں پیش کیں۔ خصوصاً حضرت علی علیہ السلام کا دورِ حکومت انصاف، مساوات اور دیانت کی روشن مثال ہے۔
اگر آج مسلمان اور پوری انسانیت اسلامی تعلیمات کو اپنائیں تو دنیا میں امن، بھائی چارہ اور انصاف قائم ہو سکتا ہے۔ اسلام ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہر انسان کے ساتھ انصاف کیا جائے اور ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جہاں سب کو برابر حقوق حاصل ہوں۔
اسلام کا پیغام واضح ہے:
انصاف، مساوات اور انسانیت — یہی ایک پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں