شہد: قرآن، احادیث، اہلِ بیتؑ اور جدید سائنس کی روشنی میں مکمل طبی و روحانی رہنمائی

Syed

January 20, 2026 • 18 views

Share
شہد: قرآن، احادیث، اہلِ بیتؑ اور جدید سائنس کی روشنی میں مکمل طبی و روحانی رہنمائی

شہد: قرآن و احادیث، طبِ نبوی اور جدید سائنس کی روشنی میں ایک مکمل معلومات

تمہید

شہد ایک قدرتی، پاکیزہ اور شفا بخش غذا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے بطور نعمت پیدا فرمائی۔ قدیم زمانے سے لے کر آج تک شہد کو خوراک بھی سمجھا گیا ہے اور دوا بھی۔ قرآنِ مجید نے شہد کو شفا قرار دیا اور رسول اللہ نے اس کے استعمال کی ترغیب دی۔ جدید سائنس بھی اس کے بے شمار فوائد کی تصدیق کرتی ہے۔


قرآنِ مجید میں شہد کا ذکر

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"ان کے پیٹوں سے مختلف رنگوں کا مشروب نکلتا ہے، جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے" (سورۃ النحل: 69)

یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ شہد محض غذا نہیں بلکہ شفا ہے۔


احادیثِ نبوی میں شہد کی فضیلت

رسول اللہ نے فرمایا:

"شفا تین چیزوں میں ہے: شہد کے پینے میں، پچھنا لگوانے میں، اور آگ سے داغ لگانے میں۔" (بخاری)

ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی کے بھائی کو پیٹ کی بیماری تھی، آپ نے فرمایا: "اسے شہد پلاؤ۔" (بخاری، مسلم)


شہد کیا ہے؟

شہد ایک قدرتی میٹھا مادہ ہے جو مکھیاں پھولوں کے رس سے بناتی ہیں۔ یہ مکمل طور پر قدرتی، محفوظ اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔


مکھیاں شہد کیسے بناتی ہیں؟

مکھیاں پھولوں سے رس چوستی ہیں۔

وہ اسے اپنے جسم میں محفوظ کر کے چھتے میں لاتی ہیں۔

دوسری مکھیاں اس رس کو پروسس کرتی ہیں۔

اس میں سے پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے اور وہ گاڑھا ہو جاتا ہے۔

پھر اسے چھتے کے خانوں میں محفوظ کر دیا جاتا ہے، یہی شہد ہے۔


شہد کی اقسام

  • سدر کا شہد
  • کلونجی ملا شہد
  • جنگلی شہد
  • پہاڑی شہد
  • بیری کا شہد
  • یوکلپٹس شہد
  • پھولوں کا شہد

ہر شہد کے فوائد اور ذائقہ مختلف ہوتے ہیں۔


طبِ نبوی میں شہد کی اہمیت

  • ہاضمہ درست کرتا ہے
  • کمزوری دور کرتا ہے
  • جسم کو طاقت دیتا ہے
  • بیماریوں سے شفا دیتا ہے
  • زخم جلد بھرتا ہے

جدید میڈیکل سائنس کی روشنی میں شہد

جدید تحقیق کے مطابق شہد:

  • Antibacterial ہے
  • Antiviral ہے
  • Antifungal ہے
  • زخم بھرنے میں مدد دیتا ہے
  • مدافعتی نظام مضبوط کرتا ہے
  • کھانسی، نزلہ، زکام میں مؤثر ہے

مختلف بیماریوں میں شہد کے آزمودہ نسخے

1) کمزوری کے لیے

صبح نہار منہ ایک چمچ شہد نیم گرم پانی کے ساتھ۔

2) کھانسی کے لیے

شہد + ادرک کا رس

3) معدہ کے لیے

شہد + نیم گرم پانی

4) یادداشت کے لیے

شہد + کلونجی


اصلی اور خالص شہد کی

اصلی اور خالص شہد کی پہچان کے لیے مارکیٹ میں کئی بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن آپ گھر بیٹھے ان 5 آسان اور سادہ تجربات سے شہد کے خالص ہونے کا پتہ لگا سکتے ہیں:

1. پانی کا ٹیسٹ (Water Test)

​یہ سب سے مقبول اور آسان طریقہ ہے:

​طریقہ: ایک گلاس صاف پانی لیں اور اس میں ایک چمچ شہد ڈالیں۔

​نتیجہ: اگر شہد خالص ہے، تو وہ پانی میں گرتے ہی نیچے بیٹھ جائے گا اور گانٹھ کی صورت میں تہہ میں جم جائے گا۔ اسے حل کرنے کے لیے چمچ ہلانا پڑے گا۔

​ملاوٹ: اگر شہد پانی میں گرتے ہی حل ہونا شروع ہو جائے، تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں چینی کے شیرے کی ملاوٹ ہے۔

2. آگ کا ٹیسٹ (Fire Test)

​شہد قدرتی طور پر آتش گیر (Flammable) ہوتا ہے:

​طریقہ: ایک ماچس کی تیلی لیں اور اس کے مصالحے والے سرے پر تھوڑا سا شہد لگائیں، پھر اسے ماچس کی ڈبیا پر رگڑ کر جلانے کی کوشش کریں۔

​نتیجہ: اگر تیلی جل اٹھے، تو شہد خالص ہے۔

​ملاوٹ: اگر شہد میں نمی یا چینی کا شیرہ ہوگا تو تیلی نہیں جلے گی یا پٹاخے جیسی آواز پیدا کرے گی۔

3. انگوٹھے کا ٹیسٹ (Thumb Test)

​طریقہ: اپنے انگوٹھے پر شہد کا ایک قطرہ رکھیں۔

​نتیجہ: خالص شہد گاڑھا ہوتا ہے اور وہ انگوٹھے پر جما رہے گا، پھیلے گا نہیں۔

​ملاوٹ: اگر شہد پتلا ہو اور فوراً بہہ جائے یا پھیل جائے، تو وہ خالص نہیں ہے۔

4. ٹشو پیپر یا کپڑے کا ٹیسٹ

​طریقہ: ٹشو پیپر یا کسی سفید کپڑے پر شہد کا ایک قطرہ ٹپکائیں۔

​نتیجہ: خالص شہد کپڑے یا ٹشو میں جذب نہیں ہوگا اور نہ ہی پیچھے گیلا پن چھوڑے گا۔

​ملاوٹ: ملاوٹ شدہ شہد ٹشو میں جذب ہو جائے گا اور کپڑے پر داغ یا نمی چھوڑ دے گا۔

5. روٹی کا ٹیسٹ (Bread Test)

​طریقہ: ڈبل روٹی (Bread) کے ایک ٹکڑے پر تھوڑا سا شہد لگائیں۔

​نتیجہ: اگر شہد خالص ہے تو وہ روٹی کو سخت کر دے گا۔

ملاوٹ: اگر شہد میں پانی یا شیرہ شامل ہے تو وہ روٹی کو نرم اور گیلا کر دے گا۔

​ایک اہم وضاحت (کرسٹلائزیشن)

​اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ جو شہد جم جائے وہ نقلی ہے، لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔

ماہرینِ طب اور شہد کے بیوپاریوں کے مطابق:

​کچھ مخصوص پھولوں (جیسے سرسوں) کا خالص شہد سردی میں جم جاتا ہے

​اسے دوبارہ اصل حالت میں لانے کے لیے دھوپ میں رکھیں یا نیم گرم پانی کے برتن میں شہد کی بوتل رکھ دیں، وہ دوبارہ پگھل جائے گا۔


شہد کے بارے میں اہلِ بیتؑ کے فرامینایک مستقل اور منفرد مجموعہ

تمہید

اہلِ بیتِ اطہارؑ کی تعلیمات صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ صحت، غذا اور روزمرہ زندگی کے اصول بھی بیان کرتی ہیں۔ شہد کے بارے میں بھی ائمہ معصومینؑ سے قیمتی اور حکمت سے بھرپور ارشادات ملتے ہیں، جن میں اسے شفا، قوت اور برکت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ مضمون صرف اہلِ بیتؑ کے فرامین پر مشتمل ہے اور کسی دوسرے عمومی مضمون کا اعادہ نہیں۔


امام علیؑ کا فرمان

امیرالمؤمنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں:

"شہد کھاؤ، اس میں ہر بیماری سے شفا ہے اور اس میں کوئی بیماری نہیں۔"

ایک اور مقام پر آپؑ فرماتے ہیں:

"شہد دل کو روشن کرتا ہے اور سینے کی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔"


امام حسنؑ کا فرمان

امام حسن مجتبیٰؑ سے منقول ہے:

"جس نے شہد استعمال کیا، اللہ تعالیٰ اس کے جسم میں شفا پیدا فرما دیتا ہے۔"


امام حسینؑ کا فرمان

امام حسینؑ سے روایت ہے:

"شہد میں برکت ہے، یہ معدہ کو درست کرتا ہے اور جسم کو قوت دیتا ہے۔"


امام زین العابدینؑ کا فرمان

امام علی بن الحسینؑ فرماتے ہیں:

"شہد بہترین غذا اور بہترین دوا ہے۔"


امام محمد باقرؑ کا فرمان

امام باقرؑ فرماتے ہیں:

"زمین پر اللہ کی سب سے بہترین دواؤں میں سے ایک شہد ہے۔"

ایک اور روایت میں ہے:

"شہد حافظہ کو مضبوط کرتا ہے اور دل کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔"


امام جعفر صادقؑ کے فرامین

امام جعفر صادقؑ سے متعدد روایات منقول ہیں:

"شہد میں شفا ہے، اور یہ قرآن کی گواہی کے مطابق ہے۔"

"جو شخص ہر مہینے شہد کھائے، وہ بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔"

"شہد اعصاب کو طاقت دیتا ہے اور جسم کے اندرونی نظام کو درست کرتا ہے۔"


امام موسیٰ کاظمؑ کا فرمان

امام موسیٰ کاظمؑ فرماتے ہیں:

"شہد جسم سے فاسد مادوں کو نکالتا ہے اور بدن کو پاک کرتا ہے۔"


امام علی رضاؑ کا فرمان

امام رضاؑ فرماتے ہیں:

"جس گھر میں شہد ہو، وہ گھر بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔"


 

اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کا خلاصہ

اہلِ بیتؑ کے فرامین سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:

  • شہد شفا ہے
  • شہد جسم کو قوت دیتا ہے
  • شہد دل، معدہ اور اعصاب کے لیے مفید ہے
  • شہد بیماریوں سے بچاؤ کا ذریعہ ہے
  • شہد ایک مکمل قدرتی نعمت ہے

 

شہد محفوظ کرنے کے طریقے

شہد دنیا کی ان چند غذاؤں میں سے ایک ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتی، بشرطیکہ اسے درست طریقے سے محفوظ کیا جائے۔ مصر کے اہرامِ مصر سے ملنے والا ہزاروں سال پرانا شہد آج بھی کھانے کے قابل پایا گیا ہے۔

​شہد کی افادیت اور ذائقہ برقرار رکھنے کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

 

1. برتن کا انتخاب (سب سے اہم)

شیشے کا جار: شہد کو محفوظ کرنے کے لیے شیشے کا جار بہترین ہے۔ یہ شہد کے ساتھ کیمیائی عمل نہیں کرتا۔

پلاسٹک: اگر پلاسٹک استعمال کرنا ہو تو وہ اعلیٰ معیار کا ہونا چاہیے۔

دھاتی برتن سے پرہیز: شہد کو کبھی بھی دھات (لوہا، تانبا یا ایلومینیم) کے برتن میں زیادہ دیر نہ رکھیں، کیونکہ شہد میں موجود قدرتی تیزابیت دھات کے ساتھ عمل کر کے شہد کو زہریلا یا بدذائقہ بنا سکتی ہے۔

 

2. نمی سے بچاؤ

​شہد کی سب سے بڑی دشمن نمی ہے۔

​جار کا ڈھکن ہمیشہ مضبوطی سے بند رکھیں تاکہ ہوا میں موجود نمی شہد میں شامل نہ ہو۔

​شہد نکالنے کے لیے ہمیشہ خشک چمچ استعمال کریں۔ اگر چمچ گیلا ہوا تو شہد میں خمیر پیدا ہو سکتا ہے جس سے وہ خراب ہو جائے گا۔

3. درجہ حرارت اور روشنی

 

سایہ دار جگہ: شہد کو کچن کی ایسی جگہ پر رکھیں جہاں براہ راست دھوپ نہ پڑتی ہو۔ زیادہ روشنی اور حرارت شہد کے قدرتی انزائمز کو ختم کر دیتی ہے۔

کمرے کا درجہ حرارت: اسے عام درجہ حرارت پر رکھنا ہی بہتر ہے۔

فریج میں نہ رکھیں: شہد کو فریج میں رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فریج میں رکھنے سے شہد تیزی سے جم جاتا ہے (Crystallize) اور اسے نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔

4. اگر شہد جم جائے تو کیا کریں؟

 

​جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، خالص شہد کا جمنا ایک قدرتی عمل ہے۔ اگر شہد جم جائے تو:

  • ​ایک برتن میں پانی گرم کریں اور چولہا بند کر دیں۔
  • ​شہد کے جار کو اس گرم پانی میں رکھ دیں (یاد رہے کہ شہد کو براہ راست آگ پر گرم نہیں کرنا)۔
  • ​کچھ دیر میں شہد اپنی اصل مائع حالت میں واپس آ جائے گا۔

 

​طبِ معصومینؑ کے مطابق ایک خاص نصیحت

​روایات میں ہے کہ شہد کو ایسی جگہ رکھیں جہاں سے چیونٹیاں یا دیگر حشرات دور رہیں۔ شہد کی صفائی اور پاکیزگی اس کی شفا کا اہم حصہ ہے۔

 

حاصل ماخذ

شہد اللہ کی ایک عظیم نعمت اور مکمل شفا ہے۔ قرآن، حدیث، طبِ نبوی اور جدید سائنس سب اس کی افادیت کی گواہی دیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ شہد کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔

اہلِ بیتِ اطہارؑ نے شہد کو صرف ایک غذا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ شفا قرار دیا ہے۔ جو شخص ان ہستیوں کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے، وہ اپنی صحت اور زندگی دونوں میں برکت پاتا ہے۔


"اللہ تعالیٰ ہمیں قدرتی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔" "اہلِ بیتؑ کی تعلیمات انسان کو صحت اور روحانیت دونوں میں کامل بناتی ہیں۔"

 

About the Author

Syed

A passionate storyteller and contributor to ShahBlogs, exploring the intersection of technology and lifestyle.

Conversation (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Search

Stay Inspired

Get the latest insights and stories delivered directly to your inbox.

Advertisement

Premium Ad Space

Cookie Consent

Privacy Matters

We use cookies to enhance your experience, analyze site traffic, and serve personalized content. By clicking "Accept", you agree to our use of cookies.