کردار سازی میں قرآن کا کردار
(مکتبِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں ایک فکری و عملی جائزہ)
انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی چیز اس کا کردار ہے۔ دولت، تعلیم، شہرت اور طاقت وقتی طور پر متاثر کر سکتے ہیں، مگر مستقل عزت صرف اچھے اخلاق اور مضبوط کردار سے ملتی ہے۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ کے مطابق اگر کسی ایک سرچشمے کو انسانی کردار سازی کی بنیاد کہا جائے تو وہ قرآن ہے۔ یہ صرف عبادات کی کتاب نہیں بلکہ انسان کی باطنی تربیت، فکری رہنمائی اور عملی زندگی کا مکمل نظام پیش کرتی ہے۔
قرآن: کتابِ ہدایت سے کتابِ تربیت تک
قرآن خود اعلان کرتا ہے کہ وہ “ھُدًی لِّلنَّاسِ” ہے — یعنی تمام انسانوں کے لیے ہدایت۔ لیکن مکتبِ اہلِ بیتؑ کی نگاہ میں ہدایت کا مفہوم محض راستہ دکھا دینا نہیں، بلکہ انسان کو اس راستے پر چلنے کے قابل بنانا ہے۔ صرف یہ بتا دینا کہ حق کیا ہے کافی نہیں، اصل کام یہ ہے کہ دل کو اس حق کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کیا جائے۔
قرآن محض قوانین کی کتاب نہیں؛ یہ دلوں کی تعمیر کا منشور ہے۔ یہ انسان کے ظاہر سے پہلے اس کے باطن کو مخاطب کرتا ہے۔ وہ باطن جہاں کبھی غرور چُھپا ہوتا ہے، کبھی حسد کی ہلکی سی چنگاری، کبھی کینہ کی دبے لفظوں میں موجود تلخی، اور کبھی خود غرضی کی خاموش خواہش۔ قرآن ان پردوں کو ہٹاتا ہے۔ وہ انسان کو آئینہ دکھاتا ہے — ایسا آئینہ جس میں صرف چہرہ نہیں، نیت بھی نظر آتی ہے۔
باطن کی اصلاح:
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں تربیت کا آغاز دل سے ہوتا ہے۔ اگر دل درست ہو جائے تو اعمال خود بخود سنورنے لگتے ہیں۔ قرآن بار بار “قلب” کا ذکر کرتا ہے، کیونکہ کردار کا مرکز وہی ہے۔
جب قرآن تقویٰ کی بات کرتا ہے تو وہ صرف ظاہری پرہیزگاری کی دعوت نہیں دیتا بلکہ ایک مسلسل داخلی بیداری پیدا کرتا ہے — یہ احساس کہ خدا ہر لمحہ دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے، جان رہا ہے۔ یہی احساس انسان کو تنہائی میں بھی گناہ سے روکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں “محاسبۂ نفس” پر بہت زور دیا گیا ہے۔ حضرت علیؑ فرماتے ہیں کہ اپنے نفس کا حساب لو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے۔ یہ جملہ صرف نصیحت نہیں، کردار سازی کا عملی اصول ہے۔
تزکیۂ نفس: اندرونی انقلاب
قرآن جس باطنی تبدیلی کی بات کرتا ہے اسے “تزکیۂ نفس” کہا گیا ہے۔ تزکیہ کا مطلب صرف گناہوں سے بچنا نہیں بلکہ دل کو پاک کرنا، نیت کو خالص کرنا اور خواہشات کو قابو میں لانا ہے۔
تزکیہ ایک تدریجی عمل ہے۔ یہ ایک دن میں نہیں ہوتا۔ کبھی انسان اپنے اندر حسد کو پہچانتا ہے، کبھی تکبر کو، کبھی ریاکاری کو۔ قرآن انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ اصل دشمن باہر نہیں، اندر ہے۔ جب نفس قابو میں آ جائے تو کردار مضبوط ہو جاتا ہے۔
مکتبِ اہلِ بیتؑ کے مطابق قرآن کی تلاوت کا اصل مقصد یہی باطنی بیداری ہے۔ صرف الفاظ دہرا دینا کافی نہیں، بلکہ ہر آیت کو اپنے اوپر منطبق کرنا ضروری ہے۔ اگر قرآن صبر کی تعلیم دیتا ہے تو ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم مشکل وقت میں کتنا ثابت قدم رہتے ہیں۔ اگر وہ عدل کا حکم دیتا ہے تو ہمیں جانچنا ہوگا کہ ہم اپنے فیصلوں میں کتنے منصف ہیں۔
خوف اور محبت کا توازن
قرآن کی تربیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ ہے کہ وہ انسان کو صرف خوف سے نہیں چلاتا، بلکہ امید اور محبت بھی دیتا ہے۔ وہ عذاب کا ذکر کرتا ہے تو رحمت کا دروازہ بھی کھلا رکھتا ہے۔ یہی توازن کردار کو سخت بھی بناتا ہے اور نرم بھی۔
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں یہ توازن اہلِ بیتؑ کی سیرت میں واضح نظر آتا ہے۔ عبادت میں خشوع بھی ہے، انسانوں کے ساتھ شفقت بھی۔ یہی قرآن کی حقیقی تربیت ہے — ایسا انسان بنانا جو خدا کے سامنے عاجز ہو اور بندوں کے لیے رحمت۔
ہدایت سے عادت تک
جب قرآن کی ہدایت انسان کے دل میں اترتی ہے تو وہ صرف معلومات نہیں رہتی، بلکہ عادت بن جاتی ہے۔ سچ بولنا کوشش نہیں رہتا، طبیعت بن جاتا ہے۔ انصاف کرنا مجبوری نہیں رہتا، فطرت بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن “کتابِ ہدایت” سے “کتابِ تربیت” بن جاتا ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ جب دل سنور جائے تو کردار خود سنور جاتا ہے — اور جب کردار سنور جائے تو معاشرہ بھی بدلنے لگتا ہے۔
اہلِ بیتؑ: قرآن کی زندہ تفسیر
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق قرآن صرف ایک مقدس متن نہیں بلکہ الٰہی ہدایت کا زندہ نظام ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نظام کو صحیح طور پر سمجھا کیسے جائے؟ الفاظ موجود ہیں، آیات موجود ہیں، مگر ان کی گہرائی، ان کا باطنی مفہوم اور عملی اطلاق کس کے ذریعے واضح ہوگا؟
یہیں اہلِ بیتؑ کا مقام سامنے آتا ہے۔
حدیثِ ثقلین میں حضرت محمد صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: قرآن اور میری عترت۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ اس حدیث کو محض فضیلت کا بیان نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک اصولِ ہدایت قرار دیتا ہے۔ یعنی قرآن کو تنہا نہیں سمجھا جا سکتا؛ اس کی حقیقی روح اہلِ بیتؑ کی سیرت اور تعلیمات کے ذریعے واضح ہوتی ہے۔
گویا قرآن نظریہ ہے، اور اہلِ بیتؑ اس نظریے کی عملی تصویر۔
حضرت علیؑ: قرآنِ ناطق کی عملی جھلک
حضرت علیؑ کو “قرآنِ ناطق” کہا جاتا ہے۔ اس تعبیر کا مطلب یہ نہیں کہ آپؑ قرآن سے الگ کوئی حیثیت رکھتے تھے، بلکہ یہ کہ آپؑ کی زندگی قرآن کی مجسم تفسیر تھی۔ جو کچھ قرآن نے اصولوں کی صورت میں بیان کیا، وہ آپؑ کی زندگی میں عمل کی صورت میں نظر آیا۔
عدل کی مثال
قرآن عدل کا حکم دیتا ہے — حتیٰ کہ اپنے خلاف بھی انصاف کرو۔ حضرت علیؑ کی خلافت کا ہر لمحہ اس اصول کی تفسیر ہے۔ بیت المال کے معاملے میں آپؑ کی سختی مشہور ہے۔ جب آپؑ سرکاری چراغ کو ذاتی گفتگو کے لیے بجھا دیتے ہیں تو یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں؛ یہ اس شعور کی علامت ہے کہ عوامی امانت میں ذرا سی خیانت بھی کردار کو مجروح کر دیتی ہے۔
یہ وہ معیار ہے جو انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ دیانت داری موقع کی محتاج نہیں، بلکہ ایمان کا تقاضا ہے۔
زہد اور سادگی
قرآن دنیا کی محبت سے خبردار کرتا ہے۔ حضرت علیؑ کی سادہ زندگی اس آیت کی عملی تصویر تھی۔ اقتدار کے باوجود معمولی لباس، سادہ غذا اور عام لوگوں جیسا رہن سہن — یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کردار کا اصل حسن اقتدار میں عاجزی ہے۔
شجاعت اور حق گوئی
قرآن حق پر قائم رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ حضرت علیؑ نے کبھی مصلحت کے نام پر حق کو ترک نہیں کیا۔ چاہے جنگ کا میدان ہو یا منبرِ خطابت، آپؑ نے ہمیشہ اصول کو ترجیح دی۔ یہی وہ استقامت ہے جو کردار کو عظمت دیتی ہے۔
امام حسینؑ: قرآن کے عدل کی عملی معراج
اگر حضرت علیؑ قرآن کے عدل کی مثال ہیں تو امام حسین علیہ السلام اس عدل پر قربان ہو جانے کی مثال ہیں۔
کربلا محض ایک جنگ نہیں تھی؛ وہ قرآن کے اصولوں کی حفاظت کی جدوجہد تھی۔ جب ظلم نے اقتدار کی شکل اختیار کی اور دین کو ظاہری رسموں تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی، تو امام حسینؑ نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ آپؑ نے یہ ثابت کیا کہ کردار کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب حق پر قائم رہنے کی قیمت بہت زیادہ ہو۔
کربلا کا پیغام یہی ہے کہ اصول وقتی فائدے سے زیادہ قیمتی ہیں۔ اگر قرآن عدل، حق اور حریت کی دعوت دیتا ہے تو امام حسینؑ کی قربانی ان اقدار کی عملی تفسیر ہے۔ آپؑ نے اپنی جان، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے اصحاب کو قربان کر کے یہ سکھایا کہ سچا کردار مصلحت کا غلام نہیں ہوتا۔
اہلِ بیتؑ کی سیرت: اخلاق کی مکمل درسگاہ
اہلِ بیتؑ کی زندگی کے ہر پہلو میں قرآن کی جھلک نظر آتی ہے:
- عبادت میں خشوع
- دشمنوں کے ساتھ بھی اخلاق
- فقراء کے ساتھ ہمدردی
- علم کے میدان میں وسعت
امام جعفر صادق علیہ السلام کے علمی حلقے اس بات کی دلیل ہیں کہ قرآن فکری ارتقاء کی بھی دعوت دیتا ہے۔ آپؑ نے علم، دلیل اور مکالمے کے ذریعے قرآن کی گہرائی کو واضح کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ بیتؑ نے قرآن کو صرف عبادت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے علمی اور سماجی زندگی کا مرکز بنایا۔
نظریہ اور عمل کا اتصال
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی بنیادی خصوصیت یہی ہے کہ وہ نظریہ اور عمل کو جدا نہیں کرتا۔ قرآن اگر صبر کی تعلیم دیتا ہے تو اہلِ بیتؑ کی زندگی اس صبر کا مظہر ہے۔ اگر قرآن عفو کی دعوت دیتا ہے تو اہلِ بیتؑ کا کردار اس معافی کی عملی تصویر ہے۔
اس لیے اہلِ بیتؑ کو “قرآن کی زندہ تفسیر” کہا جاتا ہے — کیونکہ انہوں نے آیات کو زندگی میں ڈھال کر دکھایا۔ ان کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ بننے کی کتاب ہے۔
قرآن اور اخلاقی اقدار کی تشکیل
قرآن کردار سازی کے لیے چند بنیادی ستون قائم کرتا ہے:
1. عدل
قرآن ظلم کو سختی سے رد کرتا ہے۔ عدل صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ گھر، کاروبار، سیاست اور تعلقات میں بھی ضروری ہے۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ میں عدل کو اصولِ دین میں شامل کیا گیا، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
2. صدق و امانت
جھوٹ وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر اعتماد ختم کر دیتا ہے۔ قرآن سچائی کو ایمان کی علامت قرار دیتا ہے۔ اہلِ بیتؑ کی زندگی اس کا روشن نمونہ ہے۔
3. صبر و استقامت
مشکلات انسان کے کردار کو نکھارتی ہیں۔ امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ مومن کی مثال سونے کی مانند ہے، جتنا آگ میں ڈالا جائے اتنا ہی خالص ہوتا جاتا ہے۔
4. عفو و درگزر
انتقام لینا آسان ہے، معاف کرنا مشکل۔ قرآن معافی کو تقویٰ کے قریب قرار دیتا ہے۔ یہی صفت معاشرتی ہم آہنگی پیدا کرتی ہے۔
نوجوان نسل اور قرآنی کردار
آج کا نوجوان معلومات کے سیلاب میں گھرا ہوا ہے مگر رہنمائی کے فقدان کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا اور مادہ پرستی نے وقتی کامیابی کو اصل معیار بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں قرآن ایک متوازن شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔
نہج البلاغہ میں امام علیؑ نوجوانوں کو تقویٰ، علم اور خود احتسابی کی نصیحت کرتے ہیں۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ دل کو قرآن سے زندہ رکھو کیونکہ یہی دلوں کی بہار ہے۔
قرآن نوجوان کو مقصد دیتا ہے۔ وہ اسے یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف دنیاوی کامیابی کا نام نہیں بلکہ آخرت کی جواب دہی بھی حقیقت ہے۔ یہی احساس انسان کو ذمہ دار بناتا ہے۔
قرآن: محض تلاوت نہیں، عمل کی دعوت
مکتبِ اہلِ بیتؑ میں قرآن کو سمجھ کر پڑھنے پر زور دیا گیا ہے۔ صرف الفاظ کی تلاوت کردار نہیں بناتی، بلکہ مفہوم پر غور اور عملی اطلاق ضروری ہے۔ اگر قرآن ہمیں سچائی سکھاتا ہے مگر ہم کاروبار میں دھوکہ دیں، تو یہ تضاد ہماری روحانی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
کردار سازی کے لیے ضروری ہے کہ:
- روزانہ قرآن کا کچھ حصہ ترجمے اور تفسیر کے ساتھ پڑھا جائے۔
- اپنی کمزوریوں کو پہچان کر ان کی اصلاح کی جائے۔
- اہلِ بیتؑ کی سیرت کو عملی نمونہ بنایا جائے۔
- دعا اور ذکر کے ذریعے روحانی تعلق مضبوط کیا جائے۔
معاشرتی سطح پر قرآنی کردار
جب فرد قرآن کے اخلاق اپناتا ہے تو پورا معاشرہ تبدیل ہوتا ہے۔ ایک ایماندار تاجر، عادل حکمران، مہربان والدین اور بااخلاق نوجوان مل کر ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ یہی وہ معاشرہ ہے جس کا تصور مکتبِ اہلِ بیتؑ پیش کرتا ہے۔
عملی پیغام
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں قرآن کردار سازی کا بنیادی سرچشمہ ہے اور اہلِ بیتؑ اس کی عملی تفسیر۔ اگر انسان قرآن کو صرف ثواب کی کتاب نہ سمجھ کر زندگی کا دستور بنا لے تو اس کی شخصیت میں توازن، وقار اور روحانیت پیدا ہو جاتی ہے۔