اسلام: امن و سلامتی کا دین

Syed

January 28, 2026 • 29 views

Share
اسلام: امن و سلامتی کا دین

اسلام: امن و سلامتی کا دین

(قرآن کی روشنی میں ایک جامع اور تحقیقی مطالعہ)

 

آج کی دنیا میں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن، برداشت، رواداری اور باہمی احترام ہے۔ بدقسمتی سے بعض لوگ اسلام کو — جو کہ سراسر امن اور رحمت کا دین ہے — غلط انداز میں پیش کرتے ہیں اور اسے تشدد، شدت پسندی اور عدم برداشت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ قرآنِ مجید، رسولِ اکرم کی تعلیمات اور اہلِ بیتؑ کی سیرت اس بات کی واضح گواہ ہے کہ اسلام امن، سلامتی، عدل اور رحمت کا علمبردار دین ہے۔

اسلام محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو فرد کی اصلاح سے لے کر معاشرے اور ریاست کی تشکیل تک، ہر مرحلے پر امن، توازن اور عدل کا درس دیتا ہے۔ اسلام انسان کو نہ صرف اپنے رب سے جوڑتا ہے بلکہ انسان کو انسان کے قریب بھی کرتا ہے۔

 

اسلام کا معنی اور اس کا فلسفہ

لفظ اسلام عربی زبان کے مادہ “س-ل-م” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں:

  • سلامتی
  • امن
  • اطاعت
  • خیر خواہی

اسی مادہ سے لفظ سلام بھی بنا ہے جس کا مطلب ہے: امن و عافیت۔ گویا اسلام کا بنیادی پیغام ہی امن اور سلامتی ہے۔ ایک مسلمان کا دوسروں سے پہلا تعارف بھی “السلام علیکم” کے الفاظ سے ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے: تم پر سلامتی ہو۔

یہ محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک دعائیہ اور عملی پیغام ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو دوسروں کے لیے امن کا ذریعہ بناتا ہے۔

 

قرآنِ مجید اور امن کا جامع تصور

قرآنِ مجید میں جگہ جگہ امن، عدل، صلح اور انسانیت کی حرمت پر زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

“اور اللہ تمہیں سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے” (سورۃ یونس: 25)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام کا اصل مقصد انسان کو دارالسلام (امن کے گھر) تک پہنچانا ہے۔

 

انسانی جان کی حرمت

قرآنِ مجید میں انسانی جان کو بے حد محترم قرار دیا گیا ہے:

“جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا، اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا” (سورۃ المائدہ: 32)

یہ آیت اسلام کے عالمگیر انسانی تصور کی بہترین مثال ہے۔ یہاں صرف مسلمان کی نہیں بلکہ ہر انسان کی جان کی بات کی گئی ہے۔

 

عدل اور انصاف — امن کی بنیاد

اسلام کے نزدیک امن کی بنیاد عدل ہے۔ قرآن کہتا ہے:

“اے ایمان والو! عدل پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، چاہے وہ گواہی خود تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو” (سورۃ النساء: 135)

یہ تعلیم بتاتی ہے کہ اسلام میں انصاف صرف دوستوں کے لیے نہیں بلکہ دشمنوں کے لیے بھی لازم ہے۔

 

اسلام میں صلح اور درگزر کی اہمیت

قرآنِ مجید جنگ کو پسندیدہ عمل کے طور پر نہیں بلکہ آخری مجبوری کے طور پر بیان کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

“اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہو جاؤ” (سورۃ الانفال: 61)

اسی طرح فرمایا:

“برائی کا بدلہ بھلائی سے دو، پھر تم دیکھو گے کہ تمہارا دشمن بھی تمہارا گہرا دوست بن جائے گا” (سورۃ فصلت: 34)

یہ اسلام کا وہ انقلابی اخلاقی اصول ہے جو نفرت کو محبت میں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔

 

مذہبی آزادی اور رواداری

اسلام جبر اور زبردستی کا قائل نہیں:

“دین میں کوئی زبردستی نہیں” (سورۃ البقرہ: 256)

یہ آیت اسلامی تاریخ کی بنیاد ہے۔ اسلام لوگوں کے دل فتح کرنا چاہتا ہے، تلوار کے زور پر مذہب مسلط کرنا اس کی تعلیم نہیں۔

 

غیر مسلموں کے حقوق

قرآنِ مجید غیر مسلموں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک اور انصاف کا حکم دیتا ہے:

“اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی” (سورۃ الممتحنہ: 8)

یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ اسلام کا تعلق صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی اخلاقی نظام ہے۔

 

جنگ کا اسلامی تصور (ابتدائی اصول)

اسلام میں جنگ کا مقصد:

  • ظلم کا خاتمہ
  • مظلوم کا دفاع
  • اور فتنہ و فساد کو روکنا ہے

قرآن کہتا ہے:

“اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے” (سورۃ البقرہ: 193)

لیکن ساتھ ہی سختی سے یہ حکم بھی ہے:

“زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” (سورۃ البقرہ: 190)

یعنی اسلام میں جنگ بھی اخلاقی حدود کے اندر ہے۔

 

اسلام: امن و سلامتی کا دین

(نبی کریم کی سیرتِ طیبہ کی روشنی میں)

 

رسولِ اکرم — رحمۃٌ للعالمین

قرآنِ مجید نے رسول اللہ کو صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا:

“اور (اے نبی ) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا” (سورۃ الانبیاء: 107)

یہ ایک ایسی ہمہ گیر گواہی ہے جو ثابت کرتی ہے کہ نبی کریم کی بعثت کا مقصد انسانیت کو ظلم، نفرت اور جہالت سے نکال کر امن، اخلاق اور ہدایت کی طرف لانا تھا۔

آپ کی پوری زندگی امن، برداشت، حلم، درگزر اور حسنِ سلوک کا عملی نمونہ ہے۔

 

مکہ مکرمہ کا دور — ظلم کے مقابل صبر اور اخلاق

جب نبی کریم نے مکہ میں توحید کا پیغام پیش کیا تو قریش نے:

  • آپ پر الزامات لگائے
  • آپ پر اور صحابہؓ پر تشدد کیا
  • سماجی بائیکاٹ کیا
  • راستوں میں کانٹے بچھائے
  • پتھر مارے

اس کے باوجود رسول اللہ نے بددعا کے بجائے دعا کا راستہ اختیار کیا۔ طائف کے سفر میں جب آپ کو لہولہان کیا گیا تو فرشتے نے عرض کیا کہ اگر آپ کہیں تو ان لوگوں کو پہاڑوں کے نیچے دبا دیا جائے، مگر آپ نے فرمایا:

“اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، یہ مجھے پہچانتے نہیں”

یہ ہے اسلام کا اصل چہرہ۔

 

مسلمان کون ہے؟ — ایک عظیم اخلاقی تعریف

نبی کریم نے مسلمان کی تعریف یوں بیان فرمائی:

“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں”

یہ تعریف صرف عبادت گزار کی نہیں بلکہ پرامن انسان کی ہے۔

ایک اور حدیث میں فرمایا:

“مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے جان و مال کے بارے میں بے خوف ہوں”

 

دشمنوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک

رسول اللہ نے دشمنوں کے ساتھ بھی انتقام کے بجائے اخلاق اور عدل کا راستہ اختیار کیا۔

ایک یہودی عورت جو روزانہ آپ کے راستے میں کوڑا پھینکتی تھی، جب ایک دن وہ نہ آئی تو آپ اس کی خیریت پوچھنے اس کے گھر تشریف لے گئے۔ اس حسنِ اخلاق سے متاثر ہو کر وہ اسلام لے آئی۔

یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ اسلام دلوں کو فتح کرتا ہے، گردنوں کو نہیں۔

 

فتح مکہ — تاریخ کا عظیم ترین اعلانِ عام معافی

جب رسول اللہ مکہ فاتح بن کر داخل ہوئے تو وہی لوگ سامنے تھے جنہوں نے:

  • آپ کو وطن سے نکالا
  • آپ کے ساتھیوں کو شہید کیا
  • آپ پر ہر ظلم کیا

لیکن آپ نے فرمایا:

“آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو”

یہ وہ لمحہ ہے جس نے ثابت کر دیا کہ اسلام انتقام نہیں، رحمت کا دین ہے۔

جنگ کے میدان میں بھی اخلاق

جب جنگ ناگزیر ہو جاتی تو بھی رسول اللہ سختی سے یہ ہدایات دیتے:

  • عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کیا جائے
  • عبادت گاہوں کو نہ گرایا جائے
  • فصلوں اور درختوں کو نہ جلایا جائے
  • لاشوں کی بے حرمتی نہ کی جائے

یہ وہ اصول ہیں جنہیں آج کی دنیا جنگی اخلاقیات کہتی ہے مگر اسلام نے اسے چودہ سو سال پہلے نافذ کیا

 

معاہدات اور اقلیتوں کے حقوق

میثاقِ مدینہ دنیا کا پہلا تحریری آئین تھا جس میں:

  • مسلمانوں اور یہودیوں کو برابر کے شہری حقوق دیے گئے
  • مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی
  • اجتماعی امن کا اصول قائم کیا گیا

 

رحم، شفقت اور خدمتِ خلق

نبی کریم نے فرمایا:

“جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا”

اور فرمایا:

“بہترین انسان وہ ہے جو انسانوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو”

 

 

اسلام: امن و سلامتی کا دین

(اہلِ بیتؑ اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں)

 

اہلِ بیتؑ — اخلاق، عدل اور انسانیت کا عملی نمونہ

اہلِ بیتِ رسول کی زندگی اسلام کی حقیقی تصویر ہے۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے طاقت، حکومت اور اقتدار کے باوجود انصاف، رحم، رواداری اور انسان دوستی کو کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔

رسول اللہ نے فرمایا:

“میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میرے اہلِ بیت”

یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات قرآن کے عملی نمونے ہیں۔

 

حضرت علیؑ — عدل کا ایسا معیار جو تاریخ میں بے مثال ہے

حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کا دورِ خلافت انصاف اور انسانی حقوق کی اعلیٰ مثال ہے۔

آپؑ فرماتے ہیں:

“لوگ دو قسم کے ہیں: یا تو تمہارے دینی بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے جیسے ہیں۔”

یہ فرمان آج بھی انسانی حقوق کے تمام عالمی منشوروں اور چارٹروں سے زیادہ بلند، جامع اور انسانیت نواز ہے۔

 

ایک مرتبہ ایک یہودی اور حضرت علیؑ کا مقدمہ عدالت میں آیا۔ قاضی نے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؑ کو عام شہری کی طرح کھڑا کیا اور جب گواہ پورے نہ ہوئے تو فیصلہ یہودی کے حق میں ہوا۔ حضرت علیؑ نے اسے دل سے قبول کیا۔ یہ ہے اسلام کا عدل۔

 

امام حسنؑ — صلح کے ذریعے امت کو بچانے والا کردار

امام حسنؑ نے اپنی خلافت قربان کر کے خونریزی کو روکا۔ یہ فیصلہ بظاہر اقتدار سے دستبرداری تھا مگر حقیقت میں یہ اسلام اور مسلمانوں کے امن کی خاطر عظیم قربانی تھی۔

یہ ثابت کرتا ہے کہ اسلام میں امن جنگ سے زیادہ قیمتی ہے۔

 

امام حسینؑ — ظلم کے خلاف قیام، نہ کہ فساد کے لیے

امام حسینؑ کا قیام کسی اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ دین کو بچانے کی تحریک تھی۔

کربلا ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ:

  • ظلم کے سامنے خاموش رہنا جائز نہیں
  • مگر بے گناہوں کو قتل کرنا، دہشت پھیلانا اسلام نہیں

امام حسینؑ نے خود فرمایا:

“میں امتِ محمد کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں”

 

اسلامی حکومت کا عدالتی اور فلاحی نظام

(حضرت امیرالمؤمنین علیؑ کے دورِ خلافت کی روشنی میں)

 

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا دورِ حکومت اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس میں عدل، انصاف، انسانی حقوق، مساوات اور فلاحِ عامہ کو عملی شکل دی گئی۔ آپؑ کی حکومت کا بنیادی مقصد اقتدار نہیں بلکہ اللہ کی مخلوق کے حقوق کی حفاظت اور معاشرے سے ظلم و استحصال کا خاتمہ تھا۔

 

حضرت علیؑ فرماتے ہیں:

خدا کی قسم! اگر مجھے سات اقلیم بھی دے دیے جائیں کہ میں کسی چیونٹی سے اس کے منہ سے جو کی چھلکا چھین لوں تو میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا۔”

یہ فرمان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپؑ کے نزدیک انصاف اور حق تلفی سے بچنا حکومت سے بھی زیادہ اہم تھا۔

 

جنگیں — مگر اخلاقی حدود کے ساتھ

اسلامی تاریخ کی جنگیں:

  • دفاع کے لیے تھیں
  • ظلم کے خاتمے کے لیے تھیں
  • نہ کہ لوٹ مار یا جبر کے لیے

کسی بھی اسلامی لشکر کو اجازت نہ تھی کہ:

  • عام شہریوں کو نقصان پہنچائے
  • عبادت گاہیں گرائے
  • عورتوں اور بچوں کو قتل کرے

 

اسلام کا عالمی انسانی پیغام

اسلام کا مقصد کسی ایک قوم یا خطے پر قبضہ نہیں بلکہ:

  • انسان کو انسان کی غلامی سے آزاد کرنا
  • اور اللہ کی بندگی میں دینا ہے

 

 

اسلام: امن و سلامتی کا دین

(شدت پسندی، نفرت اور دہشت گردی کے خلاف اسلام کا واضح مؤقف)

 

اسلام اور شدت پسندی — ایک بنیادی غلط فہمی

آج کے دور میں اسلام کو بعض مغرض عناصر اور جاہل گروہ تشدد، دہشت گردی اور نفرت سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ یہ اسلام کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔

اسلام:

  • بے گناہوں کے قتل کو حرام قرار دیتا ہے
  • فساد فی الارض کو سخت ترین جرم کہتا ہے
  • خوف اور دہشت پھیلانے کو اللہ سے جنگ قرار دیتا ہے

قرآنِ مجید فرماتا ہے:

“جو لوگ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ انہیں قتل کیا جائے یا سولی دی جائے…” (سورۃ المائدہ: 33)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اسلام دہشت گردوں اور فساد پھیلانے والوں کے خلاف ہے، نہ کہ ان کا حامی۔

دہشت گردی اور خودکش حملے — اسلام میں قطعی حرام

قرآن کہتا ہے:

“اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو” (سورۃ البقرہ: 195)

اور:

“اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے” (سورۃ النساء: 29)

یہ آیات ہر قسم کے خودکش حملوں کی صاف ممانعت کرتی ہیں۔

 

نبی کریم نے فرمایا:

“جس نے خود کو کسی چیز سے قتل کیا، وہ قیامت کے دن اسی عذاب میں مبتلا ہوگا”

 

اسلام میں جہاد کا اصل تصور

جہاد کا مطلب:
 بے گناہوں کو مارنا نہیں
 دہشت پھیلانا نہیں
 زبردستی مذہب مسلط کرنا نہیں

بلکہ:
 ظلم کے خلاف جدوجہد
 دفاعِ مظلوم
 اور نفس کی اصلاح

 

نبی نے فرمایا:

“سب سے بڑا جہاد اپنے نفس کے خلاف جہاد ہے”

 

شدت پسند گروہ — اسلام کے باغی

جو گروہ:

  • مساجد میں دھماکے کرتے ہیں
  • بازاروں میں بے گناہ مارتے ہیں
  • عورتوں، بچوں، بوڑھوں کو قتل کرتے ہیں

وہ اسلام کے نمائندے نہیں بلکہ اسلام کے دشمن ہیں۔

 

حضرت علیؑ نے فرمایا:

“باطل کو حق کے لباس میں پیش کرنا سب سے بڑا فتنہ ہے”

 

مغرب اور میڈیا کا کردار

یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض عالمی طاقتیں اسلام کو بدنام کرنے کے لیے چند مجرموں کے اعمال کو پورے دین سے جوڑ دیتی ہیں، جو سراسر ناانصافی ہے۔

اگر کوئی عیسائی جرم کرے تو اسے عیسائیت نہیں کہا جاتا، اگر کوئی یہودی جرم کرے تو اسے یہودیت نہیں کہا جاتا، مگر اگر کوئی مسلمان جرم کرے تو فوراً اسلام کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔

 

مسلمانوں کی ذمہ داری

آج امتِ مسلمہ پر فرض ہے کہ:

  • اپنے کردار سے اسلام کا اصل چہرہ دکھائے
  • علم، اخلاق اور خدمت کے ذریعے دین کا تعارف کرائے
  • شدت پسند سوچ کا علمی اور فکری رد کرے

 

قرآن کہتا ہے:

“بھلائی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو” (سورۃ المائدہ: 2)

 

اسلام کا حتمی پیغام — امن، محبت اور انسانیت

اسلام دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے:

  • نفرت چھوڑو
  • انصاف اپناؤ
  • انسان کو انسان سمجھو
  • اور اللہ کے بندوں پر رحم کرو

 

نبی کریم نے فرمایا:

“تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا”

 

حاصل ماخذ

اسلام ایک ایسا عظیم دین ہے جو:
 امن کو بنیاد بناتا ہے
 عدل کو ستون بناتا ہے
 رحم کو روح بناتا ہے
 اور انسانیت کو مقصد بناتا ہے

 

اسلام نفرت، دہشت گردی اور شدت پسندی کا نہیں بلکہ سلامتی، محبت اور رواداری کا دین ہے۔
جو لوگ قتل و غارت کو اسلام سے جوڑتے ہیں وہ یا تو جاہل ہیں یا دین کے دشمن۔

اسلام کا پیغام یہی ہے: سلام — سلامتی — اور امن۔

 

About the Author

Syed

A passionate storyteller and contributor to ShahBlogs, exploring the intersection of technology and lifestyle.

Conversation (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Search

Stay Inspired

Get the latest insights and stories delivered directly to your inbox.

Advertisement

Premium Ad Space

Cookie Consent

Privacy Matters

We use cookies to enhance your experience, analyze site traffic, and serve personalized content. By clicking "Accept", you agree to our use of cookies.