مقصدِ تخلیقِ کائنات
محبتِ اہلِ بیتؑ: کائنات کی تخلیق کا اصل مقصد
تخلیقِ کائنات قرآنِ حکیم، احادیثِ نبوی ﷺ اور تعلیماتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں ایک تحقیقی جائزہ
انسان جب آسمان کی وسعتوں میں جھانکتا ہے، ستاروں کی چمک کو دیکھتا ہے، زمین کی ترتیب، موسموں کی تبدیلی، اور اپنی ہی تخلیق پر غور کرتا ہے تو ایک بنیادی سوال اس کے ذہن میں ابھرتا ہے:
یہ سب کیسے وجود میں آیا؟
اسلام اس سوال کا محض عقیدتی نہیں بلکہ فکری، روحانی اور حکیمانہ جواب دیتا ہے۔ قرآنِ مجید، سنتِ رسول ﷺ اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ کائنات ایک با مقصد، منظم اور الٰہی حکمت کا مظہر ہے۔
قرآنِ مجید کی روشنی میں تخلیقِ کائنات
1. تخلیق کا مقصد: عبث نہیں بلکہ حکمت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِينَ"
(الانبیاء: 16)
ترجمہ:
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے طور پر پیدا نہیں کیا۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کائنات کسی کھیل یا اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک عظیم مقصد اور منصوبہ ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
"أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا"
(المؤمنون: 115)
ترجمہ:
کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟
یعنی انسان کی تخلیق بھی بے مقصد نہیں بلکہ جواب دہی اور امتحان کے لیے ہے۔
2. تخلیق کا ابتدائی مرحلہ
قرآن کہتا ہے:
"أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا"
(الانبیاء: 30)
ترجمہ:
کیا کافروں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کر دیا؟
"رتق" یعنی جُڑا ہوا، اور "فتق" یعنی جدا کرنا۔
3. چھ مراحل میں تخلیق
"إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ"
(الاعراف: 54)
ترجمہ
بیشک تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔
اہلِ تفسیر کے مطابق یہاں "ایام" سے مراد چھ ادوار یا مراحل ہیں، نہ کہ ہمارے زمینی چوبیس گھنٹے والے دن۔
سورہ فصلت (آیت 9 تا 12) میں ان چھ دنوں کی تقسیم اس طرح بیان کی گئی ہے:
زمین کی تخلیق (2 دن):
ابتدائی دو مراحل میں زمین کی مادی ساخت تیار کی گئی۔
زمین کی برکات اور وسائل (2 دن):
پہاڑ، معدنیات، خوراک کے ذرائع اور زمین کی ضرورت کی چیزیں طے کی گئیں۔
آسمانوں کی تکمیل (2 دن):
دھوئیں (گیسوں) کی شکل میں موجود مادے سے سات آسمانوں کو ترتیب دیا گیا اور انہیں ستاروں سے مزین کیا گیا۔
4. کائناتی نظم اور توازن
"الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ"
(الرحمن: 5)
سورج، چاند، ستارے اور کہکشائیں ایک دقیق حساب کے تحت گردش کر رہی ہیں۔
قرآن بار بار "میزان" اور "تقدیر" کا ذکر کرتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات مکمل نظم و ضبط پر قائم ہے۔
نظامِ گردش (Orbit System)
سورج اور چاند کی گردش
"وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ"
(الانبیاء: 33)
ترجمہ: وہی ہے جس نے رات، دن، سورج اور چاند کو پیدا کیا — سب اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں۔
سورج کا مخصوص راستہ
"وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا"
(یٰس: 38)
سورج اپنے مقررہ مقام کی طرف چل رہا ہے۔
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ سورج بھی ساکن نہیں بلکہ حرکت میں ہے۔
آسمان کی حفاظت
"وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا"
(الانبیاء: 32)
ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔
توازن اور میزان
"وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ"
(الرحمن: 7)
اللہ نے آسمان کو بلند کیا اور توازن قائم کیا۔
زمین کی ساخت
"وَالْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا"
(النازعات: 30)
اس نے زمین کو پھیلایا۔
"دحاھا" کے بارے میں بعض لغوی تشریحات میں گولائی اور پھیلاؤ کا مفہوم بھی ذکر ہوا ہے۔
پہاڑوں کا نظام
"وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ"
(الانبیاء: 31)
ہم نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیے تاکہ وہ ہل نہ جائے۔
یہ زمین کے استحکام کی طرف اشارہ ہے۔
بارش اور آبی نظام
"وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ"
(المؤمنون: 18)
ہم نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی برسایا۔
کائنات کی وسعت
"وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ"
(الذاریات: 47)
ہم نے آسمان کو اپنی قدرت سے بنایا اور ہم اسے وسعت دینے والے ہیں۔
ہر چیز کا جوڑا
"وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ"
(الذاریات: 49)
ہم نے ہر چیز کو جوڑوں میں پیدا کیا۔
یہ اصول حیاتیات، نباتات اور حتیٰ کہ مادّی سطح پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
تقدیر اور حساب
"إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ"
(القمر: 49)
ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے کے مطابق پیدا کیا۔
نورِ محمدی ﷺ کے سبب تخلیق
ایک روایت میں منقول ہے:
"لولاك لما خلقتُ الأفلاك"
ترجمہ: اے محمد ﷺ! اگر آپ نہ ہوتے تو میں افلاک کو پیدا نہ کرتا۔
یہ روایت اہلِ بیتؑ کے مکتب میں زیادہ معروف ہے
اس کا مفہوم یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضور ﷺ اور اہلِ بیتؑ ہدایت کا مرکز ہیں، اور کائنات کا مقصد ہدایت و معرفت ہے۔
حدیثِ کِساء میں تخلیقِ کائنات کا بیان
حدیثِ کِساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"يا ملائكتي ويا سكان سماواتي، إني ما خلقت سماءً مبنية، ولا أرضاً مدحية، ولا قمراً منيراً، ولا شمساً مضيئة، ولا فلكاً يدور، ولا بحراً يجري، ولا فلكاً يسري، إلا في محبة هؤلاء الخمسة الذين هم تحت الكساء."
ترجمہ:
اے میرے فرشتو اور آسمانوں کے رہنے والو!
میں نے نہ کوئی بلند آسمان پیدا کیا، نہ پھیلی ہوئی زمین، نہ چمکتا ہوا چاند، نہ روشن سورج، نہ گردش کرتا ہوا فلک، نہ بہتا ہوا سمندر — مگر ان پانچ ہستیوں کی محبت کی خاطر جو اس چادر کے نیچے ہیں۔
یہ پانچ ہستیاں کون ہیں؟
- رسول اللہ ﷺ
- حضرت علیؑ
- حضرت فاطمہؑ
- امام حسنؑ
- امام حسینؑ
اس فرمان کی وضاحت
محبتِ اہلِ بیتؑ بطورِ مقصدِ تخلیق
اس روایت کے مطابق کائنات کی تخلیق کا ایک روحانی مقصد اہلِ بیتؑ کی عظمت اور محبت کا اظہار ہے۔
یہ مفہوم اس تصور سے جڑا ہے کہ اہلِ بیتؑ ہدایتِ الٰہی کے مرکز ہیں، اور کائنات کا مقصد ہدایت و معرفت ہے۔
نورانیت اور مرکزیت
روایات میں بیان ہوتا ہے کہ اللہ نے سب سے پہلے نورِ محمد و آلِ محمدؑ کو خلق فرمایا، اور پھر اسی نور کے طفیل باقی کائنات کو وجود دیا۔
یہ مفہوم بعض دیگر روایات میں بھی آتا ہے جیسے:
"لولاك لما خلقت الأفلاك"
تخلیق اور ہدایت کا تعلق
اگر کائنات کا مقصد انسان کی آزمائش اور ہدایت ہے،
اور ہدایت کا کامل نمونہ اہلِ بیتؑ ہیں،
تو گویا تخلیق کا مقصد انہی کے ذریعے معرفتِ الٰہی تک پہنچنا ہے۔
روحانی پیغام
یہ روایت ہمیں بتاتی ہے:
- کائنات صرف مادّی حقیقت نہیں
- اس کے پیچھے نورانی نظام ہے
- اہلِ بیتؑ اس نظام کا مرکز ہیں
- محبتِ اہلِ بیتؑ دراصل معرفتِ خدا کا راستہ ہے
حدیثِ کِساء کی روشنی میں:
- کائنات کی تخلیق اہلِ بیتؑ کی محبت اور مقام کے اظہار کے لیے ہوئی
- اہلِ بیتؑ ہدایتِ الٰہی کا مرکز ہیں
- تخلیق کا اصل مقصد معرفتِ خدا ہے، اور اس معرفت کا دروازہ اہلِ بیتؑ ہیں
احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
بعض روایات میں منقول ہے:
"أول ما خلق الله نوري"
ترجمہ:
اللہ نے سب سے پہلے میرے (محمد ﷺ) نور کو پیدا کیا۔
- نورِ محمد ﷺ کائنات کی تخلیق میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
- اہلِ بیتؑ کے مطابق اس نور کی موجودگی سے باقی مخلوقات وجود میں آئیں۔
- اس مفہوم کی بنیاد حدیثِ کساء اور مختلف تراجم میں ملتی ہے۔
تعلیماتِ اہلِ بیتؑ میں تخلیقِ کائنات
امام علیؑ (نہج البلاغہ)
نہج البلاغہ کے خطبہ اول میں امام علیؑ تخلیق کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ نے بغیر کسی نمونے اور مشابہت کے مخلوق کو پیدا کیا۔
آپؑ آسمانوں کی بلندی، سمندروں کی گہرائی، اور زمین کے استحکام کو الٰہی قدرت کی نشانیاں قرار دیتے ہیں۔
نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے کائنات کی تخلیق کی جو منظر کشی فرمائی ہے، وہ علم اور فصاحت کا شاہکار ہے۔ ذیل میں اس کے اہم حصوں کا اردو ترجمہ اور خلاصہ پیش ہے:
1. فضا اور پانی کی تخلیق
امام علی (ع) فرماتے ہیں:
"اللہ نے فضاؤں کو شگافتہ کیا، اس کے گوشے کھولیے اور ہوا کی تہیں بنائیں، پھر اس میں تلاطم خیز اور موجیں مارتا ہوا پانی بہایا، جس کی موجیں ایک دوسرے پر چڑھ رہی تھیں۔"
اس سے مراد وہ ابتدائی مادہ ہے جس سے کائنات کی بنیاد رکھی گئی۔
2. ہوا کا نظام اور مائع مادے کا تلاطم
حضرت علی (ع) مزید فرماتے ہیں:
"پھر اللہ نے ایک بانجھ ہوا (جس میں پیدا کرنے کی صلاحیت نہ تھی) چلائی جس نے اس پانی کو متحرک کر دیا اور اسے اس طرح مٹھا (جیسے دہی سے مکھن نکالا جاتا ہے) جس طرح مشکیزے کو حرکت دی جاتی ہے۔ اس ہوا نے پانی کو اچھالا اور اسے ایک ہی سمت میں دھکیلا، یہاں تک کہ اس پانی کی تہوں سے جھاگ اوپر آ گئی۔"
3. آسمانوں کی تشکیل
تخلیق کے اگلے مرحلے کے بارے میں ارشاد فرمایا:
"پھر اللہ نے اس جھاگ کو کھلی فضا اور وسیع ہوا میں بلند کیا اور اس سے سات آسمان بنائے۔ نچلے آسمان کو موجِ ساکن (ایک ٹھہری ہوئی لہر) کی طرح بنایا اور اوپر کے آسمانوں کو ایک محفوظ چھت اور بلند عمارت کی طرح بلند کیا۔"
4. ستاروں اور کہکشاؤں کی زینت
آسمان کی خوبصورتی کے بارے میں امام (ع) فرماتے ہیں:
"پھر اللہ نے نچلے آسمان کو چمکتے ہوئے ستاروں اور نور بکھیرتے ہوئے سیاروں سے آراستہ کیا اور اس میں ایک روشن چراغ (سورج) اور چمکتا ہوا چاند رواں کر دیا۔"
5. زمین اور پہاڑوں کا استحکام
زمین کے بارے میں آپؑ کا فرمان ہے:
"جب زمین کی موجیں ساکن ہوئیں اور وہ اپنے مقام پر ٹھہر گئی تو اللہ نے زمین کے کندھوں پر بڑے بڑے پہاڑ نصب کر دیے تاکہ زمین اپنے اوپر رہنے والوں کو لے کر جھک نہ جائے اور بوجھ کی وجہ سے دھنس نہ جائے۔"
انسان: عالمِ صغیر
قرآن فرماتا ہے:
"وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ"
(المؤمنون: 12)
انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا، مگر اسے عقل، ارادہ اور شعور عطا کیا گیا۔
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں انسان کو "عالمِ صغیر" کہا گیا ہے کیونکہ اس میں پوری کائنات کی جھلک موجود ہے۔
تخلیق اور جدید سائنس
قرآن بار بار سوال اٹھاتا ہے:
"أَفَلَا يَتَفَكَّرُونَ"
ترجمہ
کیا وہ غور و فکر نہیں کرتے؟
"أَفَلَا يَعْقِلُونَ"
ترجمہ
کیا وہ عقل نہیں استعمال کرتے؟
اسلام غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ فلکیات، کاسمولوجی اور حیاتیات کی جدید تحقیقات کائنات کی وسعت اور پیچیدگی کو مزید واضح کرتی ہیں۔
یہ سب اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ تخلیق ایک عظیم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، نہ کہ اندھا اتفاق۔
اختتامیہ
کائنات کی تخلیق اسلام کے نزدیک محض اتفاق یا بے مقصد واقعہ نہیں بلکہ ایک حکیم و علیم اللہ کی الٰہی منصوبہ بندی کا مظہر ہے۔ اہلِ بیتؑ کی محبت اور ان کے مقام کا اظہار اس تخلیق میں واضح طور پر نظر آتا ہے، کیونکہ وہ ہدایتِ الٰہی کے حقیقی مرکز ہیں۔ انسان کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا ہے، اور یہ معرفت اہلِ بیتؑ کی تعلیمات اور رہنمائی کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ یوں کائنات ہمیں صرف دیکھنے کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے، غور و فکر کرنے اور اپنے خالق کی پہچان کے لیے دی گئی ہے، تاکہ ہم اس نظام کی حکمت اور اللہ کی قدرت کو پہچان سکیں۔