قرآنِ مجید کو سننا
روحانی اور ذہنی فوائد
اہلِ بیتؑ کی روایات کی روشنی میں مفصل بیان
قرآنِ مجید اہلِ بیتِ اطہارؑ کی نگاہ میں صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی کا دستور، روح کی غذا اور دلوں کی شفا ہے۔ اہلِ بیتؑ نے قرآن کو “حبلُ اللہ” (اللہ کی رسی) قرار دیا اور اس کے ساتھ مضبوط تعلق رکھنے کی تاکید فرمائی۔ حدیث جیسے Al-Kafi، Man La Yahduruhu al-Faqih، Tahdhib al-Ahkam اور Bihar al-Anwar میں قرآن کی تلاوت اور سماعت کی عظیم فضیلت بیان ہوئی ہے۔
ذیل میں قرآنِ مجید کو سننے کے روحانی اور ذہنی فوائد کو کتبِ شیعہ اور اقوالِ ائمہؑ کی روشنی میں تفصیل سے بیان کیا جا رہا ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ
قرآنِ مجید کو سننا محض ایک سماعتی عمل نہیں بلکہ ایک عبادت، ایک روحانی تجربہ اور دل کی اصلاح کا ذریعہ ہے۔ اہلِ بیتؑ کی روایت کردہ احادیثِ نبوی ﷺ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ قرآن سے تعلق چاہے تلاوت کے ذریعے ہو یا سماعت کے ذریعے انسان کی دنیا و آخرت سنوار دیتا ہے۔
1. قرآن اور اہلِ بیتؑ کا باہمی تعلق
قرآن اور اہلِ بیتؑ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ کی حدیثِ ثقلین کے مطابق قرآن اور اہلِ بیتؑ دونوں ہدایت کے سرچشمے ہیں۔ اس بنا پر جب کوئی شخص قرآن سنتا ہے تو درحقیقت وہ اسی نورانی سلسلے سے وابستہ ہو جاتا ہے جس کی رہنمائی اہلِ بیتؑ فرماتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
“قرآن ظاہر میں خوبصورت اور باطن میں گہرا ہے، اس کے عجائب ختم نہیں ہوتے۔”
(نقل شدہ در: نہج البلاغہ و بحار الانوار)
یہ ارشاد ظاہر کرتا ہے کہ قرآن کو سننا محض الفاظ سننا نہیں بلکہ اس کے معانی میں ڈوب جانا ہے۔
سولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
“میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور اپنی عترت اہلِ بیتؑ۔ جب تک تم ان دونوں سے متمسک رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔”
یہ حدیث متعدد اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن اور اہلِ بیتؑ دونوں ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ لہٰذا جب کوئی شخص قرآن سنتا ہے تو وہ درحقیقت اسی نورانی راستے سے وابستہ ہوتا ہے جس کی طرف رسول اللہ ﷺ نے رہنمائی فرمائی۔
2. قرآن سننے کی فضیلت: الکافی کی روایات
Al-Kafi میں باب “فضل القرآن” کے تحت متعدد روایات ملتی ہیں جن میں قرآن کی تلاوت اور سماعت کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
(الف) دلوں کی بہار
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
“قرآن دلوں کی بہار ہے۔ جس دل میں قرآن کی آواز گونجتی ہے وہ مردہ نہیں رہتا۔”
یہ روایت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قرآن سننا روحانی حیات کا سبب ہے۔ جیسے بارش زمین کو زندہ کرتی ہے ویسے ہی قرآن دلوں کو زندہ کرتا ہے۔
(ب) نورانیت میں اضافہ
امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ جو شخص قرآن کو غور سے سنتا ہے، اللہ اس کے دل کو نور سے بھر دیتا ہے۔
یہ نور دراصل بصیرت ہے، جس سے انسان حق و باطل میں فرق پہچانتا ہے۔
3. من لا یحضره الفقیہ میں قرآن کی تاثیر
Man La Yahduruhu al-Faqih میں منقول ہے کہ قرآن قیامت کے دن نور کی صورت میں ظاہر ہوگا اور اپنے سننے اور پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا۔
یہ تصور انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دنیا میں قرآن سے تعلق قائم رکھے تاکہ آخرت میں کامیابی نصیب ہو۔
4. تہذیب الاحکام میں روحانی اثرات
Tahdhib al-Ahkam میں آیا ہے کہ گھر میں قرآن کی تلاوت اور سماعت سے شیطان دور ہو جاتا ہے اور گھر میں برکت نازل ہوتی ہے۔
یہ روایت واضح کرتی ہے کہ قرآن سننا نہ صرف فرد بلکہ پورے ماحول پر اثر انداز ہوتا ہے۔
5. بحار الانوار میں جامع بیانات
علامہ مجلسیؒ نے Bihar al-Anwar میں متعدد روایات نقل کی ہیں جن میں قرآن کو شفا، رحمت اور ہدایت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
امام باقرؑ کا ارشاد
“قرآن مومن کے لیے دوا ہے، اور منافق کے لیے اندھا پن۔”
اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تاثیر انسان کی نیت اور قلبی کیفیت پر منحصر ہے۔ اگر کوئی شخص اخلاص سے سنتا ہے تو اسے شفا ملتی ہے۔
6. قرآن سننے کے روحانی فوائد
1. قلبی اطمینان
ائمہؑ نے فرمایا کہ قرآن کی آواز دل میں سکون پیدا کرتی ہے۔ جو شخص پریشانی میں قرآن سنتا ہے اس کی گھبراہٹ کم ہو جاتی ہے۔
2. گناہوں کا کفارہ
روایات میں آیا ہے کہ قرآن کی تلاوت اور سماعت انسان کے گناہوں کے لیے کفارہ بنتی ہے، بشرطیکہ توبہ اور اخلاص شامل ہو۔
3. اہلِ بیتؑ سے قربت
چونکہ اہلِ بیتؑ قرآن کے حقیقی مفسر ہیں، لہٰذا قرآن سننا ان کی تعلیمات سے وابستگی کا ذریعہ بنتا ہے۔
4. دعا کی قبولیت
ائمہؑ فرماتے ہیں کہ قرآن سننے کے بعد دعا مانگنا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتا ہے، کیونکہ اس وقت دل نرم اور متوجہ ہوتا ہے۔
7. ذہنی اور نفسیاتی فوائد
روایات میں بارہا ذکر ہوا ہے کہ قرآن دل کی بیماریوں کا علاج ہے۔ دل کی بیماریاں صرف روحانی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہو سکتی ہیں، جیسے:
قرآن سننے سے یہ کیفیتیں کم ہوتی ہیں کیونکہ انسان کو اللہ کی قدرت، رحمت اور عدل کا یقین حاصل ہوتا ہے۔
8. عملی ہدایات (ائمہؑ کی روشنی میں)
- قرآن کو ادب سے سنیں۔
- جہاں رحمت کی آیت آئے وہاں دعا کریں۔
- جہاں عذاب کی آیت آئے وہاں استغفار کریں۔
- آیات پر غور کریں اور انہیں زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کریں۔
9. اجتماعی اثرات
گھر میں روزانہ قرآن سنانے سے:
- بچوں کے دل میں دین کی محبت پیدا ہوتی ہے۔
- گھر کا ماحول نورانی بنتا ہے۔
- اختلافات کم ہوتے ہیں۔
امام صادقؑ نے فرمایا کہ جس گھر میں قرآن پڑھا اور سنا جاتا ہے وہاں خیر و برکت میں اضافہ ہوتا ہے۔
حاصل ماخذ
اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں قرآنِ مجید کو سننا ایک عظیم روحانی عمل ہے۔ یہ دلوں کی شفا، ذہنی سکون، اخلاقی اصلاح اور اللہ سے قربت کا ذریعہ ہے۔
جو شخص اخلاص اور توجہ کے ساتھ قرآن سنتا ہے، اس کے دل میں نور پیدا ہوتا ہے، اس کی فکر پاکیزہ ہوتی ہے اور اس کی زندگی میں توازن آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات سے وابستہ رہنے اور قرآن کو سننے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔