مومن بھائی کے دل کو خوش کرنا اور اس کی حاجت پوری کرنا: قرآن و اہلِ بیتؑ کی روشنی

Syed

February 4, 2026 • 42 views

Share
مومن بھائی کے دل کو خوش کرنا اور اس کی حاجت پوری کرنا: قرآن و اہلِ بیتؑ کی روشنی

مومن بھائی کے دل کو خوش کرنا اور اس کی حاجت پوری کرنا

قرآنِ مجید اور روایاتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں

                                                             

اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو انسان کے باطن کے ساتھ ساتھ اس کے معاشرتی رویّوں کو بھی سنوارتا ہے۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ میں مومن کی عزت، اس کے دل کی خوشی اور اس کی ضرورت پوری کرنا نہایت عظیم عبادت شمار ہوتا ہے۔ کسی مومن کے دل کو خوش کرنا دراصل اللہ کو راضی کرنے کا ذریعہ ہے۔


 

قرآنِ مجید کی روشنی میں

 

1. نیکی اور تقویٰ میں تعاون

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو"
(سورۃ المائدہ: 2)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا، خصوصاً مومن بھائی کی حاجت پوری کرنا، نیکی کے اعلیٰ درجے میں شامل ہے۔


 

2. احسان اور بھلائی کا حکم

قرآن کہتا ہے:

"بیشک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے"
(سورۃ النحل: 90)

احسان صرف مالی مدد نہیں بلکہ دل خوش کرنا، دکھ بانٹنا اور سہارا بننا بھی ہے۔


 

3. مومنوں کا باہمی رشتہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں"
(سورۃ الحجرات: 10)

جب مومن بھائی ہیں تو ایک بھائی کی ضرورت پوری کرنا ایمان کا عملی اظہار ہے۔


 

روایاتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں

 

1. مومن کا دل خوش کرنا افضل عبادت

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

"اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل کسی مومن کے دل کو خوش کرنا ہے"

یہ خوشی کسی مشکل کو آسان کر کے، قرض اتار کر، یا محض عزت و محبت کے ساتھ پیش آنے سے بھی حاصل ہو سکتی ہے۔


 

2. حاجت پوری کرنا ہزار عبادتوں سے بہتر

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:

"اگر میں اپنے کسی مومن بھائی کی ایک حاجت پوری کر دوں تو یہ میرے نزدیک ہزار رکعت نماز سے بہتر ہے"

یہ روایت بتاتی ہے کہ معاشرتی خدمت کس قدر بلند مقام رکھتی ہے۔


 

3. مومن کی عزت، کعبہ سے بڑھ کر

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

"ایک مومن کی حرمت، کعبہ کی حرمت سے زیادہ ہے"

لہٰذا اس کے دل کو توڑنا عظیم گناہ اور اس کے دل کو خوش کرنا عظیم عبادت ہے۔


 

4. مومن کی مدد، اللہ کی مدد

رسولِ خدا سے روایت ہے:

"جو اپنے مومن بھائی کی حاجت پوری کرتا ہے، اللہ اس کی بہت سی حاجات پوری فرما دیتا ہے"

یہ عمل دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔


 

اہلِ بیتؑ کی سیرت سے عملی نمونے

 

  • امام علیؑ راتوں کو یتیموں اور مسکینوں کے گھروں میں راشن پہنچاتے تھے۔
  • امام حسنؑ نے سائل کی عزت کی خاطر نماز مختصر کر دی۔
  • امام زین العابدینؑ خاموشی سے لوگوں کی مالی مدد کرتے تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔

یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ اہلِ بیتؑ کے نزدیک مومن کا دل رکھنا عبادت کی روح ہے۔


 

مومن بھائی کے دل کو خوش کرنا، اس کی حاجت اور ضرورت پوری کرنا نہ صرف اخلاقی فریضہ ہے بلکہ ایک عظیم عبادت ہے جس کا اجر اللہ خود عطا فرماتا ہے۔ قرآن اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ اگر ہم واقعی اہلِ ایمان بننا چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنی ہوگی۔

جو مومنوں کے لیے رحمت بنتا ہے، اللہ اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔

 

 

مومن بھائی کے دل کو خوش کرنا اور آیاتِ “حال آتا” کا واقعہ

الحمدللہ، نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم، وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔


 

اے عزیزانِ اسلام!
قرآنِ مجید اور اہلِ بیت
ؑ کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ مومن بھائی کے دل کو خوش کرنا، اس کی حاجت پوری کرنا اور اس کے دکھ درد کو دور کرنا صرف معاشرتی فریضہ نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت ہے۔
یہی درس ہمیں آیاتِ حال آتا کے نزول کے واقعے سے بھی ملتا ہے۔


 

آیاتِ حال آتا کا واقعہ

 

یہ واقعہ مدینۂ منورہ کا ہے جب بی بی فاطمہؑ، مولا علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ بیمار ہوئے۔
رسول اللہ
ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا کہ اگر یہ صحت یاب ہو جائیں تو اللہ کی رضا کے لیے کوئی منّت مانگو۔

اس پر مولا علیؑ اور بی بی فاطمہؑ نے منّت کی کہ اگر بچے صحت مند ہو گئے تو وہ تین دن روزے رکھیں گے۔

اللہ کے فضل سے بچے صحت یاب ہو گئے اور اہلِ خانہ نے اپنی منّت پوری کرنے کے لیے روزے رکھنا شروع کیے۔


 

تین دن کی قربانی

 

پہلا دن:
روزہ کھولنے کا وقت آیا، گھر میں صرف تھوڑی سی روٹی تھی۔
اسی وقت ایک مسکین دروازے پر آیا۔ گھر والوں نے سارا کھانا مسکین کو دے دیا اور خود صرف پانی سے افطار کیا۔

دوسرا دن:
افطار کے وقت ایک یتیم آیا۔ اس بار بھی پورا کھانا یتیم کو دے دیا گیا اور گھر والے خود بھوکے رہے۔

تیسرا دن:
افطار کے وقت ایک قیدی (اسیر) مدد کے لیے آیا۔ اس دن بھی کھانا قیدی کو دے دیا گیا اور تین دن مسلسل بھوک اور کمزوری کے باوجود کسی نے شکوہ نہ کیا۔


 

اللہ کا عظیم انعام

 

رسول اللہ نے یہ حالات دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔
اسی وقت حضرت جبرائیل
ؑ اللہ کا پیغام لے کر آئے اور سورۃ انسان کی آیات نازل ہوئیں:

“یہ لوگ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہم انہیں صرف اللہ کے لیے کھلاتے ہیں، نہ بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکرگزاری”

یہ آیات ہمیں اخلاص، قربانی اور خدمتِ خلق کی بلندی کی تعلیم دیتی ہیں۔


 

سبق آموز نکات

 

  1. مومن بھائی کا دل خوش کرنا عبادت ہے:
    اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں کسی مومن کی مدد کرنا اور اس کے دکھ کو دور کرنا سب سے اعلیٰ عمل ہے۔

 

  1. حاجت پوری کرنا ثواب کا ذریعہ ہے:
    امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ کسی مومن کی حاجت پوری کرنا ہزار عبادتوں سے افضل ہے۔

 

 

  1. اخلاص میں عظمت ہے:
    جو کچھ بھی اللہ کے لیے دیا جائے، خواہ مال ہو یا وقت یا محنت، وہی حقیقی قربانی ہے۔

 

  1. معاشرتی خدمت عبادت ہے:
    صرف نماز اور روزہ نہیں بلکہ دوسروں کی خدمت بھی اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے۔

 

اے مؤمن بھائیو!


آیاتِ حال آتا اور اہلِ بیتؑ کے اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:

  • مومن کی خدمت، اس کے دل کو خوش کرنا اور اس کی حاجت پوری کرنا سب سے اعلیٰ عبادت ہے۔
  • اللہ کے راستے میں دیا ہوا ہر کھانا، ہر مدد، ہر قربانی قیامت تک اجر کا سبب بنتی ہے۔
  • جو لوگ اخلاص کے ساتھ دوسروں کی خدمت کرتے ہیں، اللہ تعالی ان کے لیے دنیا و آخرت میں آسانیاں پیدا کرتا ہے۔

 

آئیے ہم سب اس سنت پر عمل کریں، مومن بھائی کے دل کو خوش کرنے کی کوشش کریں، مسکین، یتیم اور محتاج کی خدمت کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائیں، تاکہ ہم بھی اہلِ بیتؑ کے نقش قدم پر چل سکیں۔

 

اللہم اجعلنا من المتحابین فیك، و اجعلنا من الذین یسعون لرضاك و یفرحون قلوب المؤمنین۔ آمین۔

 

About the Author

Syed

A passionate storyteller and contributor to ShahBlogs, exploring the intersection of technology and lifestyle.

Conversation (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Search

Stay Inspired

Get the latest insights and stories delivered directly to your inbox.

Advertisement

Premium Ad Space

Cookie Consent

Privacy Matters

We use cookies to enhance your experience, analyze site traffic, and serve personalized content. By clicking "Accept", you agree to our use of cookies.