Syed
January 10, 2026 • 5 views
کسی کی نعمت کو پہچاننا، اس کا اعتراف کرنا اور اس کا ذکر کرنا۔
شکر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو دل سے مانے، زبان سے اللہ کی حمد و ثنا کرے، اور ان نعمتوں کو اللہ کی اطاعت اور بندگی میں استعمال کرے۔
شکر صرف زبان سے ادا ہونے والا کلمہ نہیں بلکہ یہ دل کی معرفت، زبان کی حمد اور اعضاء کی اطاعت کا مجموعہ ہے۔
لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (سورہ ابراہیم: 7)
وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ (آل عمران: 144)
مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ (النساء: 147)
إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا (بنی اسرائیل: 3)
شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ (النحل: 121)
هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ (النمل: 40)
رسول اللہ ﷺ اتنی عبادت کرتے کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں؟ فرمایا: “کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟” (بخاری)
“شکر نعمت کو باقی رکھتا ہے اور ناشکری نعمت کو چھین لیتی ہے۔”
“شکر یہ ہے کہ اللہ کی نعمت کو گناہ میں استعمال نہ کیا جائے۔”
“اے اللہ! میں تیری ہر حال میں حمد کرتا ہوں، چاہے راحت ہو یا تکلیف۔”
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً... (النحل: 112)
مومن ہر حال میں یا تو شکر کرتا ہے یا صبر — اور دونوں میں اجر ہے۔
اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
شکر ایمان کی روح، بندگی کی پہچان اور کامیابی کی کنجی ہے۔
🌿 شکر نعمت کو بڑھاتا ہے، اور ناشکری نعمت کو چھین لیتی ہے۔
A passionate storyteller and contributor to ShahBlogs, exploring the intersection of technology and lifestyle.
No comments yet. Be the first to share your thoughts!
Get the latest insights and stories delivered directly to your inbox.
Premium Ad Space
More stories you might enjoy reading.
Privacy Matters
We use cookies to enhance your experience, analyze site traffic, and serve personalized content. By clicking "Accept", you agree to our use of cookies.