🌿 شکر: نعمتوں کے دوام، ایمان کی تکمیل اور اللہ کی رضا کا عظیم راز

Syed

January 10, 2026 • 5 views

Share
🌿 شکر: نعمتوں کے دوام، ایمان کی تکمیل اور اللہ کی رضا کا عظیم راز

🌿 شکر: نعمتوں کے دوام، ایمان کی تکمیل اور اللہ کی رضا کا عظیم راز

قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جامع، تحقیقی اور ایمان افروز مضمون


📖 تمہید

اسلام ایک ایسا مکمل اور جامع دین ہے جو انسان کو صرف چند عبادات یا رسومات تک محدود نہیں کرتا بلکہ انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک مکمل نظام عطا کرتا ہے۔ اسلام انسان کی انفرادی زندگی، خاندانی نظام، معاشرت، معیشت، اخلاق اور روحانیت — ہر شعبے میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان ہی بنیادی اور عظیم تعلیمات میں سے ایک نہایت اہم اور مرکزی صفت “شکر” ہے۔

شکر دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنے والی ایک عظیم روحانی کیفیت کا نام ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شعور عطا کرتی ہے، اسے غرور، تکبر اور ناشکری سے بچاتی ہے اور عاجزی، محبت اور اطاعت کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔

قرآنِ مجید میں جگہ جگہ انسان کو اللہ کی نعمتیں یاد دلائی گئی ہیں: زندگی، صحت، عقل، ایمان، رزق، اولاد، امن، سکون، ہوا، پانی، زمین، سورج، چاند — غرض کون سی نعمت ہے جو اللہ نے ہمیں عطا نہیں فرمائی؟ مگر افسوس! انسان ان نعمتوں کا عادی ہو کر اکثر انہیں بھول جاتا ہے اور شکر ادا کرنے کے بجائے شکایت اور ناشکری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

قرآنِ مجید اور احادیثِ رسولِ اکرم ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہارؑ میں شکر کو ایمان کی بنیاد، نعمتوں کے دوام کا راز، اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا سب سے آسان اور طاقتور ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ شکر صرف “الحمدللہ” کہہ دینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ زندگی، ایک مستقل سوچ اور ایک ہمہ وقت جاری رہنے والا عمل ہے۔


🕌 شکر کا مفہوم اور حقیقت

لغوی اعتبار سے شکر کے معنی ہیں:

کسی کی نعمت کو پہچاننا، اس کا اعتراف کرنا اور اس کا ذکر کرنا۔

اصطلاحِ شریعت میں:

شکر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو دل سے مانے، زبان سے اللہ کی حمد و ثنا کرے، اور ان نعمتوں کو اللہ کی اطاعت اور بندگی میں استعمال کرے۔

علماء اخلاق فرماتے ہیں کہ:

شکر صرف زبان سے ادا ہونے والا کلمہ نہیں بلکہ یہ دل کی معرفت، زبان کی حمد اور اعضاء کی اطاعت کا مجموعہ ہے۔

یعنی:

  • دل مانے کہ نعمت اللہ کی طرف سے ہے

  • زبان کہے: الحمدللہ

  • اور عمل اس نعمت کو اللہ کی نافرمانی میں نہیں بلکہ فرمانبرداری میں استعمال کرے

اگر ان تینوں میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو شکر ادھورا رہ جاتا ہے۔


📜 قرآنِ مجید میں شکر کی عظمت اور اہمیت

قرآنِ مجید میں شکر کا ذکر درجنوں مقامات پر آیا ہے۔ بعض مقامات پر شکر کا حکم ہے، بعض جگہ شکر کے فوائد بیان ہوئے ہیں اور بعض جگہ ناشکری کے ہولناک انجام سے خبردار کیا گیا ہے۔

🌟 1. شکر نعمتوں میں اضافہ کا یقینی ذریعہ ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ
(سورہ ابراہیم: 7)

ترجمہ:
“اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔”

یہ آیت دراصل اللہ کا اٹل وعدہ ہے کہ شکر نعمتوں کو بڑھاتا ہے — نہ صرف مادی نعمتوں کو بلکہ:

  • ایمان کو

  • سکون کو

  • برکت کو

  • عزت کو

  • اور روحانی ترقی کو بھی


🌟 2. شکر اللہ کی رضا اور اجر کا سبب ہے

وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
(آل عمران: 144)

ترجمہ:
“اور اللہ شکر کرنے والوں کو ضرور جزا دے گا۔”


🌟 3. شکر ایمان کی پہچان ہے

مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ
(النساء: 147)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر اور ایمان لازم و ملزوم ہیں۔


🕋 انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں میں شکر

🔹 حضرت نوحؑ

إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا
(بنی اسرائیل: 3)

حضرت نوحؑ کی پوری زندگی قربانی، صبر اور شکر کا نمونہ تھی۔

🔹 حضرت ابراہیمؑ

قرآن کہتا ہے:

شَاكِرًا لِأَنْعُمِهِ
(النحل: 121)

🔹 حضرت سلیمانؑ

هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ
(النمل: 40)


 

🌙 رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت میں شکر

رسول اللہ ﷺ اتنی عبادت کرتے کہ پاؤں مبارک سوج جاتے۔
عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ تو معصوم ہیں؟
فرمایا:
“کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟” (بخاری)

یہ حدیث بتاتی ہے کہ شکر کا اعلیٰ ترین درجہ عبادت کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔


🌹 اہلِ بیتؑ کی تعلیمات میں شکر

امام علیؑ:

“شکر نعمت کو باقی رکھتا ہے اور ناشکری نعمت کو چھین لیتی ہے۔”

امام جعفر صادقؑ:

“شکر یہ ہے کہ اللہ کی نعمت کو گناہ میں استعمال نہ کیا جائے۔”

امام زین العابدینؑ:

“اے اللہ! میں تیری ہر حال میں حمد کرتا ہوں، چاہے راحت ہو یا تکلیف۔”


🤲 شکر کی تین اقسام (تفصیل سے)

1️⃣ دل کا شکر

یہ سب سے بنیادی شکر ہے — نعمت کو اپنی عقل، محنت یا کسی اور کی طرف منسوب نہ کرنا بلکہ صرف اللہ کی طرف سمجھنا۔

2️⃣ زبان کا شکر

الحمدللہ، سبحان اللہ، اللہ اکبر کہنا — مگر شعور کے ساتھ۔

3️⃣ عمل کا شکر

آنکھ ملی تو حرام نہ دیکھیں
کان ملے تو حرام نہ سنیں
مال ملا تو حرام میں خرچ نہ کریں


💎 شکر کے روحانی، نفسیاتی اور معاشرتی فوائد

  • دل کا سکون

  • ذہنی اطمینان

  • ڈپریشن سے نجات

  • نعمتوں میں اضافہ

  • رزق میں برکت

  • دعاؤں کی قبولیت

  • مصیبتوں میں آسانی

  • اللہ کی محبت


⚠️ ناشکری کے خطرناک نقصانات

قرآن کہتا ہے:

وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً... (النحل: 112)

ناشکری کے نتائج:

  • نعمتوں کا چھن جانا

  • دل کا اندھا ہو جانا

  • بے سکونی

  • خوف اور فقر

  • اللہ کی ناراضی


🌱 مصیبت، بیماری اور تنگی میں شکر

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ:

مومن ہر حال میں یا تو شکر کرتا ہے یا صبر — اور دونوں میں اجر ہے۔


🧠 شکر اور قناعت کا گہرا تعلق

شکر قناعت پیدا کرتا ہے، اور قناعت دل کو بادشاہ بنا دیتی ہے۔


🏡 اگر پورا معاشرہ شکر گزار بن جائے؟

  • کرپشن ختم ہو جائے

  • حسد کم ہو جائے

  • سکون عام ہو جائے

  • اللہ کی رحمت نازل ہو


🕊 شکر پیدا کرنے کے عملی طریقے (تفصیل سے)

  • روز نعمتیں گنیں

  • قبروں کو یاد کریں

  • بیماروں کو دیکھیں

  • روز سجدہ شکر کریں

  • شکر کی دعائیں مانگیں


📿 شکر کی جامع دعا

اَللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ


📌 خلاصہ

شکر صرف ایک اخلاقی صفت نہیں بلکہ:

شکر ایمان کی روح، بندگی کی پہچان اور کامیابی کی کنجی ہے۔

جو شکر گزار ہے وہ:

  • دنیا میں بھی مطمئن

  • اور آخرت میں بھی کامیاب ہے۔

🌿 شکر نعمت کو بڑھاتا ہے، اور ناشکری نعمت کو چھین لیتی ہے۔

About the Author

Syed

A passionate storyteller and contributor to ShahBlogs, exploring the intersection of technology and lifestyle.

Conversation (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Search

Stay Inspired

Get the latest insights and stories delivered directly to your inbox.

Advertisement

Premium Ad Space

Cookie Consent

Privacy Matters

We use cookies to enhance your experience, analyze site traffic, and serve personalized content. By clicking "Accept", you agree to our use of cookies.