حضرت عباس علمدارؑ
وفا، شجاعت اور بصیرت کا پیکر (ایک جامع جائزہ)
حضرت عباس بن علی علیہ السلام، جنہیں تاریخ انسانیت "وفا کا امام" تسلیم کرتی ہے، صرف ایک جنگجو نہیں بلکہ معرفتِ الٰہی اور اطاعتِ امام کا وہ بلند ترین معیار ہیں جس کی مثال نہیں ملتی۔
1. ولادت اور تربیت
حضرت عباسؑ کی ولادت 4 شعبان 26 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ محترمہ جنابِ ام البنینؑ (فاطمہ بنتِ حزام) تھیں، جن کا انتخاب مولا علیؑ نے اپنی زوجہ سیدہ فاطمہؑ کی اس وصیت پر کیا تھا کہ "میرے بعد ایسی خاتون سے عقد کرنا جس کے بطن سے بہادر اولاد پیدا ہو جو کربلا میں حسینؑ کی نصرت کرے۔" آپ کی تربیت خود مولا علیؑ نے فرمائی، یہی وجہ ہے کہ آپ کو "بابِ مدینۃ العلم" کی گود کا علمِ لدنی حاصل تھا۔
2. بصیرت اور مقامِ علمی
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "ہمارے چچا عباسؑ بلند بصیرت اور مضبوط ایمان کے مالک تھے۔" آپ معصوم نہیں تھے، لیکن آپ کا علم اور تقویٰ معصومیت کے قریب تھا۔ آپ نے پوری زندگی کبھی امام حسینؑ کو "بھائی" کہہ کر نہیں پکارا بلکہ ہمیشہ "آقا" یا "مولا" کہا، جو آپ کی مکمل معرفتِ ولایت کی دلیل ہے۔
3. کربلا سے پہلے کی شجاعت
اگرچہ آپ کا اصل جوہر کربلا میں کھلا، لیکن جنگِ صفین میں آپ نے نقاب پوش ہو کر جس بہادری سے دشمن کے بڑے سورماؤں کو واصلِ جہنم کیا، اس نے لشکرِ شام پر دھاک بٹھا دی تھی۔ آپ کو "قمرِ بنی ہاشم" (بنی ہاشم کا چاند) کہا جاتا تھا کیونکہ آپ کا چہرہ نورانیت اور جلال کا مجموعہ تھا۔
4. کربلا میں ایثار کی انتہا
کربلا میں آپ لشکرِ حسینی کے علمدار اور سقاء (پانی پلانے والے) تھے۔ آپ کی شجاعت کا عروج وہ لمحہ تھا جب آپ فرات پر قابض ہوئے، پانی چلو میں لیا، لیکن پیاسے امام اور بچوں کی یاد میں اسے واپس گرا دیا اور فرمایا: "اے نفس! حسینؑ کے بعد تیری زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔
5. خاندانِ وفا کی قربانی (چار برادران)
حضرت عباسؑ تنہا نہیں تھے، بلکہ ان کے ساتھ ان کے تین سگے بھائی (عبداللہؑ، جعفرؑ اور عثمانؑ) بھی تھے۔ حضرت عباسؑ نے اپنی ماں کی وصیت پوری کرنے کے لیے پہلے اپنے بھائیوں کو امام پر قربان کیا اور پھر خود آخری سانس تک مشکیزہ اور علم کی حفاظت کرتے ہوئے دونوں بازو کٹوا کر شہید ہوئے۔
6. روضہ مبارک اور معجزات
کربلا میں حضرت عباسؑ کا مزار امام حسینؑ کے مزار سے تھوڑے فاصلے پر الگ مقام پر ہے، جو آپ کی انفرادی شان (علمداری) کو ظاہر کرتا ہے۔
سرداب کا پانی: آپ کی قبرِ اطہر کے گرد آج بھی پانی طواف کرتا ہے، جو ایک زندہ معجزہ ہے۔
باب الحوائج: آپ کا در وہ ہے جہاں سے کوئی سائل خالی نہیں لوٹتا۔ دنیا بھر کے حاجت مند آپ کے وسیلے سے دعائیں مانگتے ہیں۔
7. ائمہؑ کی نظر میں مقام
قیامت کے دن حضرت عباسؑ کا وہ مقام ہوگا کہ تمام شہداء اس پر رشک کریں گے۔ سیدہ فاطمہ زہراؑ محشر میں شفاعت کے لیے حضرت عباسؑ کے کٹے ہوئے بازو پیش کریں گی، جو اس قربانی کی قبولیت کی سب سے بڑی سند ہے۔
حضرت عباسؑ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کا اصل استعمال اپنے امام کی اطاعت اور مظلوم کی حمایت میں ہے۔ آپ وفا کے وہ مینار ہیں جس کی روشنی رہتی دنیا تک حق پرستوں کو راستہ دکھاتی رہے گی۔
حضرت عباس علمدار علیہ السلام کی شخصیت اور ان کی شان تشیع میں بے مثال وفاداری، شجاعت اور اطاعتِ امام کا استعارہ ہے۔ عقائد کی روشنی میں ان کی شان کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:
1۔ باب الحوائج
حضرت عباسؑ کو اللہ نے وہ مقام عطا کیا ہے کہ آپ کی توسل سے مانگی گئی دعائیں رد نہیں ہوتیں، اسی لیے آپ کو "باب الحوائج" (حاجتیں پوری ہونے کا دروازہ) کہا جاتا ہے۔
2۔ معرفتِ امام اور اطاعت
آپ کی شان کا سب سے بڑا پہلو امامِ وقت (امام حسین علیہ السلام) کی غیر مشروط اطاعت ہے۔ آپ نے کبھی امام کو بھائی کہہ کر نہیں پکارا بلکہ ہمیشہ "آقا" یا "مولا" کہا، جو کہ ولایت کی مکمل معرفت کی دلیل ہے۔
3۔ علمدارِ لشکر اور محافظِ اہل بیتؑ
کربلا میں آپ کو "سقائے سکینہؑ" اور "علمدارِ کربلا" کے القابات سے نوازا گیا۔ آپ کا علم صرف ایک جھنڈا نہیں بلکہ استقامت کی علامت تھا۔ آپ کی موجودگی تک مخدراتِ عصمت (خواتینِ اہل بیتؑ) خود کو محفوظ تصور کرتی تھیں۔
4۔ ایثار و قربانی کی انتہا
نہرِ فرات پر پہنچ کر پانی نہ پینا، جبکہ آپ سخت پیاسے تھے، ایثار کی وہ بلندی ہے جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ آپ نے اپنے بھائی اور امام کی پیاس کو اپنی پیاس پر مقدم رکھا۔
5۔ مقامِ بلند (جنت میں پرواز)
امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام زین العابدین علیہ السلام کی روایات کے مطابق:
"قیامت کے دن حضرت عباسؑ کا وہ مقام ہوگا کہ تمام شہداء آپ کی منزلت پر رشک کریں گے۔ اللہ نے آپ کو کٹے ہوئے بازوؤں کے بدلے دو پر عطا کیے ہیں جن سے آپ فرشتوں کے ساتھ جنت میں پرواز کریں گے۔"
حضرت عباسؑ صرف ایک جنگجو نہیں تھے، بلکہ وہ "وفا کے امام" ہیں۔ ان کا روضہ آج بھی حق پرستوں کے لیے جائے پناہ اور غیرت و شجاعت کا مرکز ہے۔
حضرت عباس علیہ السلام کی شجاعت اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی بیان کردہ زیارت کے اہم نکات روایات کی روشنی میں درج ذیل ہیں:
1۔ حضرت عباسؑ کی شجاعت اور کربلا کا واقعہ
حضرت عباسؑ کی شجاعت محض جسمانی طاقت کا نام نہیں تھی، بلکہ وہ "حیدری جلال" کا عکس تھے۔ کربلا میں آپ کی شجاعت کا سب سے نمایاں پہلو نہرِ فرات پر قبضہ کرنا ہے۔
تنہا فوج پر حملہ:
جب پیاس سے بچے نڈھال ہوئے تو آپ امام حسینؑ سے اجازت لے کر مشکیزہ اٹھا کر فرات کی طرف بڑھے۔ روایت ہے کہ نہر پر ہزاروں کا لشکر پہرہ دے رہا تھا، لیکن جب آپ نے غضبِ الٰہی کی طرح حملہ کیا تو صفیں الٹ گئیں اور دشمن ایسے بھاگے جیسے شیر کو دیکھ کر بکریاں بھاگتی ہیں۔
نفس پر قابو:
شجاعت کی انتہا یہ تھی کہ طاقت کے عروج پر جب آپ نے فرات کے پانی کو چلو میں لیا، تو اپنے سوکھے ہونٹوں اور امام حسینؑ کی پیاس یاد آ گئی۔ آپ نے پانی واپس نہر میں پھینک دیا اور فرمایا: "اے نفس! حسینؑ کے بعد تیری زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔" یہ اپنی خواہشات پر فتح پانے کی سب سے بڑی شجاعت تھی۔
آخری سانس تک مقابلہ:
بازو قلم ہونے کے باوجود آپ نے مشکیزے کو دانتوں سے پکڑے رکھا، جو آپ کی غیرت اور بہادری کی لازوال مثال ہے۔
2۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی بیان کردہ زیارت کے نکات
امام جعفر صادقؑ نے حضرت عباسؑ کی جو زیارت تعلیم فرمائی ہے، وہ آپ کی عظمت کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کے چند اہم ترین نکات یہ ہیں:
تسلیم اور تصدیق:
زیارت کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے: "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے (اپنے امام کے سامنے) سرِ تسلیم خم کیا، ان کی تصدیق کی اور وفاداری نبھائی۔" یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا سب سے بڑا کمال آپ کی بصیرت تھی۔
نافذ البصیرہ (گہری بصیرت):
امام جعفر صادقؑ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں: "ہمارے چچا عباسؑ بلند بصیرت اور مضبوط ایمان کے مالک تھے۔" یعنی آپ جذباتی ہو کر نہیں بلکہ عقل اور حق کی پہچان کے ساتھ امام کے ساتھ کھڑے تھے۔
صلابتِ ایمان:
امامؑ فرماتے ہیں کہ آپ نے امام حسینؑ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وہ جہاد کیا جو اللہ کو پسند آیا۔ آپ کا ایمان اتنا مضبوط تھا کہ بڑی سے بڑی آزمائش بھی آپ کے قدموں کو متزلزل نہ کر سکی۔
شہداء کا رشک:
امامؑ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن تمام شہداء حضرت عباسؑ کے مرتبے کو دیکھ کر رشک کریں گے۔
حضرت عباسؑ کی شخصیت میں شجاعت اور بندگی کا ایسا سنگم ہے کہ آپ معصوم نہ ہونے کے باوجود معصومینؑ کے لیے مایہ ناز بنے۔
حضرت عباس علیہ السلام کی زندگی کے وہ پہلو جو کربلا سے پہلے ان کی عظمت کی بنیاد بنے، درج ذیل ہیں:
1۔ حضرت فاطمہؑ کی وصیت اور شادی کا پس منظر
روایات کے مطابق، سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنی شہادت سے قبل مولا علی علیہ السلام کو وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد ایسی خاتون سے عقد کیجیے گا جو بہادر اور غیرت مند قبیلے سے ہوں، تاکہ ان کے بطن سے ایک ایسا فرزند پیدا ہو جو کربلا میں امام حسینؑ کی نصرت کرے۔
ام البنینؑ کا انتخاب:
مولا علیؑ نے اپنے بھائی جنابِ عقیل سے مشورہ کیا جو عرب کے قبائل کے حسب و نسب کے ماہر تھے۔ انہوں نے بی بی فاطمہ بنتِ حزام (ام البنینؑ) کا نام تجویز کیا جن کا خاندان اپنی شجاعت میں مشہور تھا۔
بچپن ہی سے تربیت:
حضرت عباسؑ کی پیدائش پر مولا علیؑ نے ان کے بازو چومے اور رو کر فرمایا کہ "یہ بازو کربلا میں حسینؑ کی مدد کریں گے"۔ آپ کی پوری تربیت ہی "محافظِ حسینؑ" کے طور پر کی گئی۔
2۔ کربلا سے پہلے کی جنگوں میں شرکت
حضرت عباسؑ نے اپنے والدِ گرامی مولا علیؑ کے زیرِ سایہ جنگی فنون میں مہارت حاصل کی۔ اگرچہ آپ اس وقت کمسن تھے، لیکن آپ کی شجاعت نے بڑے بڑے سورماؤں کو حیران کر دیا۔
جنگِ صفین اور نقاب پوش شجاع:
جنگِ صفین کے دوران ایک کمسن نقاب پوش جنگجو میدان میں نکلا اور دشمن کے بڑے پہلوانوں (جیسے ابنِ شعثاء اور اس کے ساتوں بیٹوں) کو باری باری واصلِ جہنم کیا۔ لشکرِ شام میں کھلبلی مچ گئی کہ یہ کون ہے؟ جب اس جوان نے نقاب الٹائی تو وہ حضرت عباسؑ تھے۔
جنگِ جمل:
بعض روایات کے مطابق آپ جنگِ جمل میں بھی موجود تھے، جہاں آپ نے حسنینِ کریمینؑ کے ساتھ مل کر لشکرِ حق کی حفاظت کی۔ آپ کو میدانِ جنگ میں دیکھ کر دشمن کو حضرت علیؑ کی جوانی یاد آ جاتی تھی۔
3۔ مولا حسنؑ کے دور میں وفاداری
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی امامت کے دوران، حضرت عباسؑ نے ان کی اطاعت میں وہی مقام پایا جو مولا علیؑ کے لیے جنابِ جعفرِ طیارؑ کا تھا۔
جب امام حسنؑ کے جنازے پر تیر برسائے گئے، تو غضبِ الٰہی سے حضرت عباسؑ کا ہاتھ تلوار کے دستے پر پہنچ گیا تھا، لیکن امام حسینؑ نے انہیں روک دیا کہ میرے بھائی (امام حسنؑ) کی وصیت ہے کہ جنازے پر خون کا قطرہ نہ گرے۔ یہ آپ کے صبر اور اطاعت کا امتحان تھا۔
4۔ فضائل و القابات
آپ کی زندگی کے دیگر پہلوؤں میں آپ کے علمی اور روحانی القابات شامل ہیں:
قمرِ بنی ہاشم:
آپ اتنے حسین تھے کہ آپ کو بنی ہاشم کا چاند کہا جاتا تھا۔
عالمِ غیر معلم:
آپ نے کسی دنیاوی استاد سے تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ آپ کا علم لدنی (خدا داد) تھا جو آپ کو بابِ مدینۃ العلم (مولا علیؑ) کی گود میں ملا۔
حضرت عباسؑ کی پوری زندگی ایک "تیاری" تھی اس ایک دن (عاشور) کے لیے۔ آپ نے بچپن سے جوانی تک صرف اس بات پر توجہ دی کہ کس طرح اپنے امام کا دفاع کرنا ہے۔
جنابِ ام البنینؑ اور حضرت عباسؑ کا رشتہ محض ماں بیٹے کا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک "استاد اور شاگرد" اور "کنیز اور محافظِ امام" کا رشتہ تھا۔ بی بی ام البنینؑ نے اپنی پوری زندگی حضرت عباسؑ کی اس طرح تربیت کی کہ وہ خود کو امام حسینؑ کا بھائی نہیں بلکہ غلام سمجھیں۔
اس حوالے سے چند اہم اور رقت آمیز پہلو درج ذیل ہیں:
1۔ نام کی تبدیلی اور ادبِ اہل بیتؑ
روایات میں آتا ہے کہ جب بی بی ام البنینؑ بیاہ کر مولا علیؑ کے گھر آئیں، تو انہوں نے کہا کہ مجھے "فاطمہ" کے نام سے نہ پکارا جائے، کیونکہ شہزادی کونینؑ کے یتیم بچوں (حسنینؑ و زینبؑ) کو اپنی ماں کا نام سن کر دکھ ہوگا۔ انہوں نے حضرت عباسؑ کو بچپن ہی سے یہ سکھایا کہ تم حسنؑ و حسینؑ کے بھائی نہیں، بلکہ ان کے خادم ہو۔
2۔ کربلا روانگی کے وقت وصیت
جب امام حسینؑ مدینہ سے کربلا کے لیے روانہ ہو رہے تھے، تو بی بی ام البنینؑ نے اپنے چاروں بیٹوں (عباسؑ، عبداللہؑ، جعفرؑ، عثمانؑ) کو جمع کیا اور جو تاریخی نصیحت کی، وہ تاریخ کا سنہرا باب ہے:
انہوں نے حضرت عباسؑ کا ہاتھ پکڑ کر امام حسینؑ کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا: "اے عباس! خبردار، حسینؑ پر آنچ نہ آئے۔ یہ تمہارے امام بھی ہیں اور تمہارے آقا بھی۔ تم میری قربانی ہو جو میں نے سیدہ فاطمہؑ کے بچوں کے لیے تیار کی ہے۔"
آپ نے فرمایا: "عباس! اگر تم حسینؑ پر قربان ہو گئے تو میں سمجھوں گی کہ میرا حقِ نمک ادا ہو گیا، ورنہ میں تم سے راضی نہیں ہوں گی۔"
3۔ بشیر کی مدینہ واپسی اور بی بی کا ردِعمل
کربلا کے واقعے کے بعد جب بشیر بن جذلم مدینہ پہنچا اور امام حسینؑ کی شہادت کی خبر دی، تو بی بی ام البنینؑ نے اپنے چاروں بیٹوں کی شہادت کا نہیں پوچھا۔
انہوں نے بشیر سے پہلا سوال یہ کیا: "مجھ سے میرے بیٹوں کا حال نہ پوچھ، مجھے بتاؤ کہ میرا حسینؑ کیسا ہے؟"
جب بشیر نے بتایا کہ آپ کے چاروں بیٹے شہید ہو گئے اور عباسؑ کے شانے قلم ہو گئے، تو بی بی نے رو کر فرمایا: "اے بشیر! تو نے میرے دل کی رگیں کاٹ دیں، میرے بیٹے اور جو کچھ آسمان تلے ہے وہ سب حسینؑ پر فدا ہے۔"
4۔ بقیع میں ماتم اور غمِ عباسؑ
بی بی ام البنینؑ مدینہ کے قبرستان "بقیع" میں چار فرضی قبریں بنا کر ماتم کرتی تھیں۔ روایات میں ہے کہ آپ کی گریہ و زاری اتنی دردناک ہوتی تھی کہ مروان بن حکم جیسے سخت دل دشمن بھی رونے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ آپ فرماتی تھیں:
"اب مجھے ام البنین (بیٹوں والی) نہ کہو، کیونکہ اب میرے وہ شیر نہیں رہے جو مجھے یہ نام دیتے تھے۔"
جنابِ ام البنینؑ وہ عظیم خاتون ہیں جنہوں نے حضرت عباسؑ کو "وفا کا مجسمہ" بنایا۔ آج بھی بی بی ام البنینؑ کا مقام اتنا بلند ہے کہ مشکل وقت میں ان کی نذر (سفرہ) دی جاتی ہے اور ان کے واسطے سے حضرت عباسؑ کو پکارا جاتا ہے۔

کربلا کے میدان میں حضرت عباس علیہ السلام کے ساتھ ان کے تین سگے بھائی بھی موجود تھے، جو جنابِ ام البنینؑ کے بطن سے اور مولا علیؑ کے فرزند تھے۔ ان چاروں بھائیوں کو مجموعی طور پر "چار برادرانِ وفا" کہا جاتا ہے۔
ان کے نام اور شہادت کے مختصر حالات درج ذیل ہیں:
1۔ حضرت عباسؑ بن علی (عمر: تقریباً 34 سال)
آپ چاروں بھائیوں میں سب سے بڑے اور لشکرِ حسینی کے علمدار تھے۔ آپ نے اپنے تینوں چھوٹے بھائیوں کو خود میدانِ جنگ کے لیے تیار کیا اور انہیں اپنے سامنے شہید ہوتے دیکھا تاکہ قیامت کے دن اپنی ماں اور سیدہ فاطمہؑ کو سرخرو ہو کر جواب دے سکیں کہ میں نے اپنے بھائیوں کو امام پر قربان کر دیا۔
2۔ حضرت عبداللہ بن علیؑ (عمر: تقریباً 25 سال)
جب جنگ شباب پر تھی، تو حضرت عباسؑ نے اپنے بھائی عبداللہ سے فرمایا: "اے میرے بھائی! آگے بڑھو تاکہ میں تمہیں خدا کی راہ میں شہید ہوتے دیکھوں اور تمہارے صبر پر ثواب حاصل کروں۔" آپ میدان میں گئے، بہادری سے لڑے اور "ہانی بن ثبیت الحضرمی" کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
3۔ حضرت جعفر بن علیؑ (عمر: تقریباً 19 یا 21 سال)
آپ کا نام مولا علیؑ نے اپنے بھائی جنابِ جعفرِ طیارؑ کی یاد میں رکھا تھا۔ حضرت عباسؑ نے انہیں بھی نصرتِ امام کے لیے رخصت کیا۔ آپ نے میدان میں رجز پڑھتے ہوئے دشمن کو للکارا اور بہادری کی وہ مثال قائم کی جو حیدری خون کا خاصہ تھی۔ آپ کو "خولی بن یزید لعین" نے شہید کیا۔
4۔ حضرت عثمان بن علیؑ (عمر: تقریباً 21 یا 23 سال)
آپ کا نام مولا علیؑ نے اپنے ایک عزیز صحابی "عثمان بن مظعون" کی محبت میں رکھا تھا۔ آپ بھی شجاعت کا پیکر تھے۔ روایت ہے کہ میدانِ جنگ میں ایک تیر آپ کے پہلو میں لگا جس سے آپ گھوڑے سے گرے اور دشمنوں نے گھیر کر آپ کو شہید کر دیا۔
خاص پہلو: حضرت عباسؑ کی قربانی
روایات میں یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ حضرت عباسؑ نے اپنے بھائیوں کو پہلے میدان میں کیوں بھیجا؟
پہلی وجہ: وہ چاہتے تھے کہ ان کا کوئی بھائی ان کے بعد زندہ نہ رہے جو یتیموں اور بیواؤں کی بے بسی دیکھے۔
دوسری وجہ: وہ اپنی ماں (ام البنینؑ) کی وصیت پوری کرنا چاہتے تھے کہ ان کی پوری اولاد امام حسینؑ پر نثار ہو جائے۔
تیسری وجہ: وہ خود بھائیوں کی شہادت کا صدمہ اٹھا کر اپنے صبر و اجر میں اضافہ کرنا چاہتے تھے۔
"امان نامہ" کا واقعہ
ان چاروں بھائیوں کی ایک مشترکہ فضیلت یہ بھی ہے کہ شمر (جو ان کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا) نے انہیں "امان نامہ" (جان کی امان) پیش کی تھی کہ تم حسینؑ کا ساتھ چھوڑ دو تو تمہاری جان بخشی جائے گی۔ لیکن ان چاروں غیرت مند بھائیوں نے اس امان نامہ کو ٹھکرا دیا اور فرمایا:
"خدا کی لعنت ہو تجھ پر اور تیرے امان نامہ پر! ہمیں امان دیتے ہو جبکہ رسولؐ کا بیٹا امان میں نہیں؟"
حضرت عباسؑ اور ان کے بھائیوں کی شہادت کے بعد جنابِ زینبؑ کا ردِعمل اور ان شہداء کے مزارات کی تفصیلات تاریخ کا ایک نہایت غمگین مگر باعظمت حصہ ہیں۔
1۔ جنابِ زینبؑ کے کلمات اور گریہ
جنابِ زینبؑ کے لیے حضرت عباسؑ صرف ایک بھائی نہیں بلکہ ان کی "قوتِ بازو" اور "چادر کے محافظ" تھے۔
عباسؑ کی شہادت پر بین:
جب امام حسینؑ نے خیمہ گاہ میں آ کر حضرت عباسؑ کی شہادت کی خبر دی اور خیمے کی وہ چوب (لکڑی) گرا دی جس پر علم بندھا ہوتا تھا، تو جنابِ زینبؑ نے تڑپ کر فریاد کی: "وا اخاہ! وا عباساہ! وا ضیعتنا بعدک" (ہائے میرا بھائی! ہائے عباس! آپ کے بعد ہم لٹ گئے)۔
ام البنینؑ سے ملاقات:
کربلا سے واپسی پر جب جنابِ زینبؑ مدینہ پہنچیں اور بی بی ام البنینؑ سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے حضرت عباسؑ کی وفاداری کی گواہی دی اور فرمایا: "ام البنین! آپ کے بیٹوں نے وہ حق ادا کیا کہ تاریخ ویسا بھائی نہ دیکھ سکے گی۔ عباسؑ نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دیے لیکن علم اور مشکیزہ نہیں چھوڑا۔"
دربارِ یزید میں تذکرہ:
روایات کے مطابق جب دربارِ یزید میں شہداء کے سر لائے گئے، تو جنابِ زینبؑ کی نظر جب اپنے بھائی عباسؑ کے سرِ مبارک پر پڑی تو آپ نے ان کی غیرت اور شجاعت کو یاد کر کے ظالموں کو جھنجھوڑا۔
2۔ شہداء کے مزارات کی تفصیل
کربلا میں شہداء کے مزارات کی تقسیم حضرت عباسؑ کی منفرد شان کو ظاہر کرتی ہے:
حضرت عباسؑ کا روضہ (حرمِ ابوالفضل العباسؑ):
تمام شہداءِ کربلا (سوائے حضرت حرؑ کے) امام حسینؑ کے پاؤں کی طرف ایک ہی گنجِ شہیداں میں مدفون ہیں، لیکن حضرت عباسؑ کا مزار امام حسینؑ کے روضے سے تھوڑے فاصلے پر الگ مقام پر ہے۔
وجہ:
علماء فرماتے ہیں کہ چونکہ آپ "لشکر کے علمدار" تھے، اس لیے آپ کا مزار الگ رکھا گیا تاکہ زائرین کو دور سے ہی علمِ عباسؑ نظر آئے اور آپ کی "باب الحوائج" والی شان نمایاں رہے۔
نہرِ علقمہ:
آپ کا مزار اسی جگہ ہے جہاں آپ گرے تھے۔ اج بھی آپ کی قبرِ مبارک کے گرد ایک تہہ خانے میں پانی (نہرِ علقمہ کا حصہ) موجود ہے جو قبر کا طواف کرتا ہے، لیکن قبر کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ قدرت کا ایک معجزہ سمجھا جاتا ہے۔
تینوں بھائیوں کے مزارات:
حضرت عباسؑ کے تینوں بھائی (عبداللہؑ، جعفرؑ اور عثمانؑ) امام حسینؑ کے روضے کے اندر "گنجِ شہیداں" (مقامِ شہداء) میں دیگر اصحابِ حسینؑ کے ساتھ مدفون ہیں۔ ان کی انفرادی قبریں الگ سے نہیں ہیں بلکہ ایک ہی جگہ اجتماعی طور پر تمام شہداء کے نام کندہ ہیں۔
3۔ جنابِ ام البنینؑ کا مزار
بی بی ام البنینؑ کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی اور آپ کا مزار جنت البقیع میں واقع ہے۔
آپ کا مزار آئمہؑ (امام حسنؑ، امام سجادؑ، امام باقرؑ اور امام صادقؑ) کے مزارات کے قریب ہی ہے۔ زائرین جب مدینہ جاتے ہیں تو بی بی ام البنینؑ کی قبر پر جا کر حضرت عباسؑ کا واسطہ دے کر دعائیں مانگتے ہیں۔
حضرت عباسؑ کی زندگی اور موت دونوں "ایثار" کا درس دیتی ہیں۔ ان کے کٹے ہوئے بازو آج بھی اسلام کے پرچم کو بلند رکھنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ جنابِ زینبؑ کی زبان سے نکلا ہوا لفظ "کفیل" (سرپرست) حضرت عباسؑ کی شخصیت کا سب سے بڑا خلاصہ ہے۔
حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کے معجزات اور وہاں کی مخصوص روایات درج ذیل ہیں:
1۔ سرداب (تہہ خانہ) اور پانی کا معجزہ
حضرت عباسؑ کے روضہ مبارک کا سب سے حیرت انگیز پہلو وہ پانی ہے جو آپ کی قبرِ اطہر کے گرد چکر لگاتا ہے۔
پانی کی سطح: روضے کے نیچے ایک قدیم سرداب (تہہ خانہ) ہے جہاں اصل قبر موجود ہے۔ وہاں پانی ایک خاص سطح تک رہتا ہے، نہ بڑھتا ہے اور نہ ہی کم ہوتا ہے۔
معجزہ:
یہ پانی بالکل صاف اور میٹھا ہے، حالانکہ وہاں نکاس کا کوئی راستہ نہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دہائیوں سے پانی میں رہنے کے باوجود عمارت کی بنیادوں یا قبر کی اینٹوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ زائرین اسے "وفائے عباسؑ" کا معجزہ قرار دیتے ہیں کہ فرات کا پانی آج بھی آپ کی چوکھٹ پر پہرہ دے رہا ہے۔
2۔ پرچم کی تبدیلی کی تقریب
ہر سال یکم محرم الحرام کو ایک بہت بڑی تقریب منعقد ہوتی ہے جس میں لاکھوں سوگوار شریک ہوتے ہیں۔
سرخ سے سیاہ پرچم: سال بھر آپ کے گنبد پر سرخ پرچم لہراتا ہے، جو عرب روایات کے مطابق "خونِ ناحق" اور "انتقام" کی علامت ہے (یعنی جب تک امامِ زمانہؑ آ کر اس خون کا بدلہ نہ لے لیں، یہ سرخ رہے گا)۔
ایامِ غم:
محرم کا چاند نظر آتے ہی سرخ پرچم اتار کر سیاہ پرچم لہرایا جاتا ہے، جو سوگ اور غمِ حسینؑ کا اظہار ہے۔
3۔ باب الحوائج اور شفاء کے واقعات
حضرت عباسؑ کے روضے کو "جائے شفاء" مانا جاتا ہے۔
زنجیر سے بندھنا:
روضہ مبارک میں ایک خاص جگہ ہے جہاں لوگ شفاء کی امید میں خود کو یا اپنے مریضوں کو علامتی طور پر ایک زنجیر سے باندھتے ہیں۔ تاریخ میں سینکڑوں ایسے مستند واقعات موجود ہیں جہاں لاعلاج مریضوں، نابیناؤں اور معذوروں نے یہاں سے شفاء پائی۔
غیر مسلموں کی عقیدت:
عراق اور گرد و نواح کے عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی حضرت عباسؑ کی "غیرت" اور "سخاوت" کی قسم کھاتے ہیں اور اپنی مرادیں پاتے ہیں۔
4۔ ضریحِ مبارک کی خصوصیات
آپ کی حالیہ ضریح مبارک خالص چاندی اور سونے سے تیار کی گئی ہے، جسے کربلا ہی میں ماہر کاریگروں نے تیار کیا۔
اس ضریح پر قرآنی آیات کے ساتھ ساتھ آپ کے القابات (جیسے العبد الصالح) اور آپ کی شجاعت کے اشعار کندہ ہیں۔
روضے کا سنہرا گنبد اور دو بلند مینار دور سے ہی وفاداری کا استعارہ نظر آتے ہیں۔
5۔ حرم کی مخصوص خوشبو
جو لوگ حرمِ عباسؑ کی زیارت کر چکے ہیں، وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہاں ایک خاص قسم کی خوشبو محسوس ہوتی ہے جو دنیا کی کسی عطر یا خوشبو سے مشابہت نہیں رکھتی۔ اسے "خوشبوئے بہشت" کہا جاتا ہے۔
خلاصہ: حضرت عباسؑ کا روضہ محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کی پناہ گاہ ہے۔ یہاں آ کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وفا کبھی مرتی نہیں، بلکہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتی ہے۔
ائمہ معصومین علیہم السلام نے حضرت عباسؑ کی عظمت کو بیان کرنے کے لیے انہیں مختلف القابات سے نوازا، جو آپ کی شخصیت کے الگ الگ کمالات کو ظاہر کرتے ہیں۔ کتب میں مذکور اہم القابات درج ذیل ہیں:
1۔ ابوالفضل (فضیلتوں کا باپ)
یہ آپ کی سب سے مشہور کنیت ہے۔
مطلب: اس کا ایک مطلب تو آپ کے بیٹے کا نام "فضل" ہونا ہے، لیکن معنوی اعتبار سے اس کا مطلب ہے "تمام فضیلتوں کا مرکز"۔ ائمہؑ کے نزدیک آپ کی ذات میں وہ تمام انسانی کمالات (علم، تقویٰ، شجاعت، سخاوت) جمع تھے جو ایک کامل انسان میں ہونے چاہئیں۔
2۔ العبد الصالح (نیک بندہ)
یہ لقب امام جعفر صادق علیہ السلام نے آپ کی زیارت میں استعمال فرمایا: "السلام علیک ایھا العبد الصالح"۔
اہمیت: بظاہر یہ سادہ سا لفظ ہے، لیکن ائمہؑ کی اصطلاح میں "عبدِ صالح" وہ ہوتا ہے جو بندگی کی اس معراج پر ہو جہاں اس کی اپنی کوئی مرضی نہ رہے، بلکہ وہ صرف اللہ اور اس کے ولی کی مرضی پر چلے۔ یہ لقب قرآن میں انبیاءؑ کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔
3۔ قمرِ بنی ہاشم (بنی ہاشم کا چاند)
آپ اپنے دور میں حسن و جمال اور نورانیت کے حوالے سے مشہور تھے۔
جب آپ گھوڑے پر سوار ہوتے تھے تو آپ کا قد و قامت اور چہرہ چودہویں کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔ لوگ آپ کے چہرے کی نورانیت دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔
4۔ السقّاء (پانی پلانے والا)
یہ لقب کربلا سے پہلے ہی آپ کو مل چکا تھا۔
مدینہ اور مکہ کے راستے میں اور پھر کربلا کے پیاسے بچوں کے لیے پانی کا انتظام کرنے کی وجہ سے آپ کو "سقائے سکینہؑ" اور "سقائے کربلا" کہا جاتا ہے۔
5۔ اطلس (بہادر/جنگجو)
لغت میں اس کا مطلب ہے "وہ بہادر جس پر دشمن حملہ کرنے کی ہمت نہ کرے"۔ آپ کی ہیبت کا یہ عالم تھا کہ کربلا میں بڑے بڑے نامور جنگجو آپ کے سامنے آنے سے کتراتے تھے۔
6۔ نافذ البصیرہ (گہری بصیرت والا)
امام جعفر صادقؑ کا یہ فرمان آپ کی فکری بلندی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے امام حسینؑ کا ساتھ محض بھائی چارے کی بنا پر نہیں دیا، بلکہ آپ حق اور باطل کے فرق کو پوری گہرائی سے پہچانتے تھے۔ آپ کا ایمان اتنا مضبوط تھا کہ شک و شبہ کی وہاں گنجائش نہ تھی۔
7۔ باب الحوائج (حاجتیں پوری کرنے والا)
یہ وہ لقب ہے جو اللہ کی طرف سے آپ کو عوام کے دلوں میں عطا ہوا۔ دنیا بھر کے عقیدت مند آپ کو اللہ کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ بناتے ہیں اور ناامید نہیں لوٹتے۔
حضرت عباسؑ کی شخصیت ان تمام القابات کا مجموعہ ہے۔ وہ ایک طرف "علمدار" بن کر فوج کے ستون تھے، تو دوسری طرف "عبدِ صالح" بن کر بندگی کا نمونہ تھے۔
حضرت عباس علیہ السلام کی اولاد اور ان کی نسل کے بارے میں معلومات تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ ان کی نسل سے بہت سے نامور علماء، محدثین اور بہادر شخصیات پیدا ہوئیں۔
1۔ حضرت عباسؑ کی ازواج اور اولاد
تاریخی روایات (جیسے عمدۃ الطالب) کے مطابق، حضرت عباسؑ کا نکاح جنابِ لبابہ بنتِ عبید اللہ بن عباس سے ہوا تھا۔ جنابِ لبابہ، حضرت جعفرِ طیارؑ کی پوتی اور ایک نہایت فاضلہ خاتون تھیں۔
حضرت عباسؑ کے بیٹوں کے بارے میں مورخین کے مختلف اقوال ہیں، لیکن مشہور نام یہ ہیں:
عبید اللہ بن عباس:
یہ آپ کے سب سے نامور بیٹے ہیں جن سے آپ کی نسل چلی۔ ان کا نام امام حسینؑ کے والد (مولا علیؑ) کے چچا کے نام پر رکھا گیا تھا۔
فضل بن عباس:
ان کے نام پر آپ کی کنیت "ابوالفضل" مشہور ہوئی۔
قاسم بن عباس:
بعض روایات کے مطابق یہ کربلا میں شہید ہوئے تھے۔
محمد بن عباس:
ان کا ذکر بھی بعض کتبِ مقاتل میں ملتا ہے۔
2۔ عبید اللہ بن عباس اور نسلِ عباسؑ کا تسلسل
حضرت عباسؑ کی نسل صرف ان کے بیٹے عبید اللہ سے چلی۔ عبید اللہ ایک جلیل القدر عالم اور پروقار شخصیت تھے۔ امام سجاد علیہ السلام ان سے بہت محبت فرماتے تھے اور انہیں دیکھ کر اکثر رو پڑتے تھے، کیونکہ انہیں دیکھ کر اپنے وفادار بھائی عباسؑ کی یاد آتی تھی۔
3۔ اولادِ عباسؑ کے القابات اور کمالات
حضرت عباسؑ کی نسل میں پیدا ہونے والے افراد کو "بنو العباس" (علوی) کہا جاتا ہے۔ اس نسل میں پانچ اہم شاخیں ہوئیں جنہوں نے علم اور شجاعت میں نام پیدا کیا:
عبداللہ الخطیب:
یہ عبید اللہ کے بیٹے تھے اور اپنے وقت کے بہت بڑے خطیب اور عالم تھے۔
ابراہیم جردق:
یہ بھی علم و فضل میں مشہور ہوئے۔
حمزہ الشبیہ:
انہیں "الشبیہ" اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ یہ شکل و صورت میں اپنے دادا حضرت عباسؑ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔
عباس بن حسن:
یہ ایک نامور شاعر اور ادیب تھے۔
عبداللہ بن علی:
یہ بھی اس نسل کے نمایاں فرد تھے۔
4۔ اولادِ عباسؑ کا پھیلاؤ
حضرت عباسؑ کی اولاد دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئی، جن میں عراق (کربلا، بغداد)، ایران، یمن، شام اور برِصغیر (پاک و ہند) شامل ہیں۔
پاک و ہند میں بہت سے سادات گھرانے (علوی) اپنا شجرہ نسب حضرت عباسؑ سے جوڑتے ہیں۔ ان کو عام طور پر "علوی سادات" کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ مولا علیؑ کی اولاد ہیں لیکن حضرت فاطمہؑ کے بطن سے نہیں۔
5۔ امام سجادؑ کا اولادِ عباسؑ کے ساتھ سلوک
امام سجادؑ اپنے چچا عباسؑ کی قربانی کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ روایت ہے کہ جب بھی آپ کو مالِ غنیمت یا صدقات (جو بنو ہاشم کے لیے مخصوص تھے) ملتے، تو آپ اولادِ عباسؑ کو دیگر اقرباء پر مقدم رکھتے تھے اور فرماتے تھے: "میں ان کے چچا (عباسؑ) کی کربلا میں گزری ہوئی تکلیفوں کو نہیں بھول سکتا۔"
حضرت عباسؑ کی نسل نے علم، زہد اور شجاعت کے ذریعے اپنے اجداد کا نام روشن رکھا۔ آج بھی ان کی نسل کے افراد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور اپنے جد کی وفا اور عظمت کے گواہ ہیں۔
حضرت عباس علیہ السلام کے روضہ مبارک کی زیارت کے آداب، ائمہ معصومینؑ کی تعلیمات کی روشنی میں نہایت اہم ہیں۔ چونکہ آپ کا مقام "باب الحوائج" ہے، اس لیے وہاں کی حاضری کے آداب میں ادب اور عقیدت کا خاص پہلو ملتا ہے۔
زیارت کے اہم آداب درج ذیل ہیں:
1۔ طہارت اور غسل
حرم میں داخل ہونے سے پہلے غسلِ زیارت کرنا مستحب ہے۔ پاک و صاف لباس (ترجیحاً سفید یا سوگ کے دنوں میں سیاہ) پہننا اور باوضو ہونا ضروری ہے۔
2۔ اذنِ دخول (داخل ہونے کی اجازت)
حرم کے دروازے پر رک کر "اذنِ دخول" پڑھنا چاہیے۔ یہ اس بات کا اقرار ہے کہ آپ ایک ایسی ہستی کی بارگاہ میں جا رہے ہیں جو اللہ کے نزدیک بہت بلند مقام رکھتی ہے۔ یہ اجازت اللہ، رسولؐ، ائمہؑ اور خود حضرت عباسؑ سے مانگی جاتی ہے۔
3۔ عجز و انکساری اور باوقار چال
حرم کی طرف جاتے ہوئے چھوٹے قدم اٹھانا، سر جھکا کر چلنا اور دل میں اللہ کا ذکر کرنا مستحب ہے۔ حرم میں بلند آواز سے بات کرنا یا شور کرنا آداب کے خلاف ہے۔
4۔ ضریح مبارک کا بوسہ اور توسل
ضریحِ مبارک کے پاس پہنچ کر اسے بوسہ دینا اور اپنے سر کو ضریح سے لگا کر دعا مانگنا عقیدت کا اظہار ہے۔ حضرت عباسؑ کو ان کے بھائی امام حسینؑ اور ان کی والدہ بی بی ام البنینؑ کا واسطہ دے کر دعا مانگنا بہت جلد قبولیت کا سبب بنتا ہے۔
5۔ مخصوص زیارت پڑھنا
امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیم کردہ مخصوص زیارت (جو کتاب مفاتیح الجنان میں موجود ہے) پڑھنا سب سے افضل ہے۔ اس زیارت کے کلمات آپ کی بصیرت اور وفاداری کی گواہی دیتے ہیں۔
6۔ دو رکعت نمازِ زیارت
زیارت پڑھنے کے بعد دو رکعت نمازِ زیارت پڑھنا مستحب ہے، جس کا ثواب حضرت عباسؑ کی روحِ مبارک کو ہدیہ کیا جاتا ہے۔
7۔ امام حسینؑ کی زیارت کو مقدم رکھنا
ایک اہم ادب یہ ہے کہ پہلے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی جائے اور پھر ان کے علمدار حضرت عباسؑ کی بارگاہ میں جایا جائے۔ یہ اس ترتیب اور احترام کی یادگار ہے جو حضرت عباسؑ اپنی زندگی میں امام حسینؑ کے لیے رکھتے تھے۔
8۔ وداعی زیارت
جب وہاں سے رخصت ہونے لگیں، تو "زیارتِ وداع" پڑھیں، جس میں یہ دعا کی جاتی ہے کہ "اے اللہ! اس زیارت کو میری زندگی کی آخری زیارت قرار نہ دینا"۔
ایک خاص نکتہ:
روایات میں ہے کہ حضرت عباسؑ کے روضے پر جا کر انسان کو اپنی زبان اور ارادے پر قابو رکھنا چاہیے، کیونکہ آپ "غیرتِ خدا" ہیں۔ وہاں جھوٹ بولنے یا کسی غلط کام کا ارادہ کرنے سے بچنا چاہیے، کیونکہ آپ کی بارگاہ میں بے ادبی کا انجام بہت سخت بتایا گیا ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام نے حضرت عباسؑ کی جو زیارت تعلیم فرمائی ہے، وہ آپ کی عظمت کو پہچاننے کا مستند ترین ذریعہ ہے۔ اس زیارت کے چند خاص اور کلیدی جملے اردو ترجمہ کے ساتھ درج ذیل ہیں:
1. بصیرت اور ایمان کی گواہی
امامؑ فرماتے ہیں:
"كَانَ عَمُّنَا الْعَبَّاسُ نَافِذَ الْبَصِيرَةِ صُلْبَ الْإِيمَانِ"
"ہمارے چچا عباسؑ بلند بصیرت اور مضبوط ایمان کے مالک تھے۔"
(یہ جملہ ثابت کرتا ہے کہ آپ کا ہر قدم جذبات میں نہیں بلکہ مکمل معرفت کے ساتھ اٹھا تھا۔)
2. بندگی کا مقام (العبد الصالح)
زیارت کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:
"السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِيعُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ"
"سلام ہو آپ پر اے اللہ کے نیک بندے! جو اللہ، اس کے رسولؐ، امیر المومنینؑ، حسنؑ اور حسینؑ کے (کامل) فرمانبردار تھے۔"
("فرمانبرداری" کا یہ تسلسل آپ کے مقامِ ولایت کو ظاہر کرتا ہے۔)
3. ایثار اور جانثاری کی گواہی
امامؑ مزید فرماتے ہیں:
"أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ نَصَحْتَ لِلَّهِ وَ لِرَسُولِهِ وَ لِأَخِيكَ فَنِعْمَ الْأَخُ الْمُواسي"
"میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ، اس کے رسولؐ اور اپنے بھائی (حسینؑ) کی خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔ آپ کتنے بہترین ہمدرد اور قربانی دینے والے بھائی تھے۔"
4. بصیرتِ شہداء پر رشک
امامؑ آپ کی شہادت کے معیار کے بارے میں فرماتے ہیں:
"مَضَيْتَ عَلَى مَا مَضَى عَلَيْهِ الْبَدْرِيُّونَ"
"آپ اسی راستے پر دنیا سے گئے جس پر جنگِ بدر کے شہداء (جو اسلام کے پہلے اور عظیم ترین شہداء تھے) گئے تھے۔"
(یہ جملہ حضرت عباسؑ کی قربانی کو صدرِ اسلام کی عظیم قربانیوں کے برابر قرار دیتا ہے۔)
5. بازوؤں کے بدلے پر
امام سجاد علیہ السلام کی ایک روایت کے مطابق، جو زیارت کا حصہ سمجھی جاتی ہے:
"اللہ تعالیٰ نے عباسؑ کو وہ مقام دیا ہے کہ ان کے کٹے ہوئے بازوؤں کے بدلے انہیں دو پر عطا کیے ہیں جن سے وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے ہیں۔"
زیارت پڑھنے کا خاص طریقہ:
حضرت عباسؑ کی زیارت پڑھتے وقت جب آپ "السَّلامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْفَضْلِ الْعَبَّاسِ" کہیں، تو اپنے دل میں ان کی وفاداری کا تصور کریں اور ان سے اپنی حاجتوں کے لیے دعا کی درخواست کریں۔ مانا جاتا ہے کہ جو شخص شکستہ دل کے ساتھ ان کلمات کے ذریعے آپ کو پکارتا ہے، مولا اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے۔
حضرت عباس علیہ السلام سے توسل اور ان کے نام سے منسوب وظائف ثقافت اور عقائد میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور "توسلِ عباسؑ" اور "نمازِ حاجت" ہے، جو مشکل کشائی کے لیے اکسیر سمجھی جاتی ہیں۔
ذیل میں ان کا طریقہ اور ایک خاص واقعہ درج ہے:
1۔ توسلِ عباسؑ (مشہور وظیفہ)
علمائے اور بزرگوں سے منقول ہے کہ جب کوئی سخت مشکل درپیش ہو، تو حضرت عباسؑ کو اس مخصوص جملے کے ذریعے 133 مرتبہ پکارنا بہت مجرب (آزمودہ) ہے:
"يَا كَاشِفَ الْكَرْبِ عَنْ وَجْهِ الْحُسَيْنِ، اِكْشِفْ كَرْبِي بِحَقِّ اَخِيْكَ الْحُسَيْنِ"
(اے حسینؑ کے چہرے سے دکھوں کو دور کرنے والے، اپنے بھائی حسینؑ کے واسطے سے میرے دکھوں کو دور کر دے۔)
وجہ (133): ابجد کے حساب سے لفظ "عباس" کے اعداد 133 بنتے ہیں، اسی لیے یہ ورد اسی تعداد میں کیا جاتا ہے۔
2۔ نمازِ توسلِ حضرت عباسؑ
مشکلات کے حل کے لیے آپ سے منقول ایک نمازِ حاجت درج ذیل ہے:
دو رکعت نماز (جیسے صبح کی نماز ہے) برائے توسلِ حضرت عباسؑ پڑھیں۔
نماز کے بعد 133 مرتبہ مندرجہ بالا دعا پڑھیں۔
اس کے بعد 100 مرتبہ صلوات پڑھ کر ہدیہ کریں اور اپنی حاجت طلب کریں۔
3۔ ایک مشہور تاریخی واقعہ (سلطانِ ہند کا عقیدہ)
حضرت عباسؑ کی عظمت کا ایک واقعہ "غیرت اور وفاداری" کی مثال کے طور پر بہت مشہور ہے:
روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت عباسؑ کے روضے پر جا کر نہایت گستاخی کی اور آپ کی طاقت کا امتحان لینا چاہا۔ کہا جاتا ہے کہ اسی وقت اسے ایسی عبرتناک سزا ملی کہ وہ سب کے لیے نشانی بن گیا۔
علماء فرماتے ہیں کہ حضرت عباسؑ اللہ کے وہ ولی ہیں جنہیں "غیورِ خدا" کہا جاتا ہے۔ آپ اپنے زائر کی سچی پکار پر جتنی جلدی راضی ہوتے ہیں، اتنی ہی سختی سے اپنی بارگاہ کی بے ادبی یا کسی مظلوم پر ظلم کو ناپسند فرماتے ہیں۔
4۔ "باب الحوائج" ہونے کا ایک اور پہلو
روایات میں آتا ہے کہ قیامت کے دن جب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا محشر کے میدان میں تشریف لائیں گی، تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ آپ اپنی امت کی شفاعت کے لیے فدیہ میں کیا لائی ہیں؟
سیدہ فرمائیں گی:
"الکفّین المقطوعتین من ابنی العباس"
(میں اپنے بیٹے عباسؑ کے کٹے ہوئے بازو لائی ہوں۔)
یہ جملہ ظاہر کرتا ہے کہ حضرت عباسؑ کی قربانی بارگاہِ الٰہی میں اور شہزادیِ کونینؑ کی نظر میں کتنی عظیم ہے کہ اسے شفاعت کا وسیلہ بنایا جائے گا۔
حضرت عباسؑ سے جڑنے کا مطلب "حسینیت" سے جڑنا ہے۔ ان کا در وہ در ہے جہاں سے کوئی مایوس نہیں جاتا، بشرطیکہ دل میں سچی تڑپ اور امامِ وقت کی معرفت ہو۔