قرآن و اہلِ بیتؑ کی روشنی میں رِبا (سود) اور جدید مالیاتی نظام

Syed

February 8, 2026 • 18 views

Share
قرآن و اہلِ بیتؑ کی روشنی میں رِبا (سود) اور جدید مالیاتی نظام

قرآن و اہلِ بیتؑ کی روشنی میں رِبا (سود) اور جدید مالیاتی نظام

 

اسلام میں رِبا (سود) کی حرمت قطعی اور مسلمہ حکم ہے۔ قرآنِ مجید اور اہلِ بیتؑ کی احادیث کی روشنی میں رِبا کو کبیرہ گناہ شمار کیا گیا ہے۔ ائمہ معصومینؑ نے رِبا کو نہ صرف معاشی ظلم بلکہ روحانی تباہی کا سبب قرار دیا ہے۔

 

امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

"ایک درہم رِبا کھانا اللہ کے نزدیک ستر مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔"
(وسائل الشیعہ)

یہ شدت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ شیعہ فقہ میں سود سے بچنا نہایت اہم دینی فریضہ ہے۔

 

اسلام میں رِبا کی اقسام

رِبا کی بنیادی طور پر دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں:

 

1. رِبا القرض (قرض پر سود)

جب کوئی شخص کسی کو قرض دے اور شرط رکھے کہ اصل رقم سے زیادہ واپس لی جائے — چاہے اضافہ کم ہو یا زیادہ — تو یہ رِبا ہے اور حرام ہے۔

 

مثال:
10,000 روپے قرض دے کر 11,000 واپس لینے کی شرط رکھنا۔

یہ مطلقاً حرام ہے، خواہ لینے والا راضی ہو۔

 

2. رِبا المعاملہ (لین دین میں سود)

ہم وزن یا ہم جنس اشیاء کے تبادلے میں زیادتی کرنا۔

 

مثلاً:

  • 1 کلو گندم کے بدلے 1.2 کلو گندم لینا (اگر دونوں ایک ہی جنس اور پیمائش کے ہوں)
  • سونا سونے کے بدلے زیادہ مقدار میں لینا

یہ بھی اسلام میں حرام ہے۔

 

1. روایتی بینکوں کا سود

 

اکثر مراجعِ تقلید (جیسے آیت اللہ سیستانی، آیت اللہ خامنہ ای وغیرہ) کے فتاویٰ کے مطابق:
 

  • روایتی بینک سے لیا گیا قرض اگر سودی شرط پر ہو تو حرام ہے۔
  • سود لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔

 

البتہ بعض تفصیلات میں فرق پایا جاتا ہے، مثلاً:

 

غیر مسلم یا غیر اسلامی حکومت کے بینک
 

بعض فقہی آراء کے مطابق اگر بینک غیر مسلم حکومت کا ہو تو سود لینے کے احکام میں کچھ تفصیل بیان کی گئی ہے، لیکن سودی قرض لینا پھر بھی جائز نہیں۔

لہٰذا اپنے مرجعِ تقلید کے فتوے کی طرف رجوع ضروری ہے۔

 

اسلامی بینکاری پر اسلامی نقطۂ نظر
 

اگر معاہدہ حقیقتاً شرعی عقود (مشارکہ، مضاربہ، مرابحہ وغیرہ) کے مطابق ہو اور محض نام بدلنے کی حد تک نہ ہو، تو وہ جائز ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر معاہدہ ظاہراً اسلامی اور باطناً سودی ہو، تو وہ جائز نہیں۔

 

کریڈٹ کارڈ اور لیٹ فیس
 

  • اگر تاخیر کی صورت میں سود کی شرط موجود ہو تو وہ شرط باطل اور حرام ہے۔
  • اگر انسان پختہ ارادہ رکھتا ہو کہ تاخیر نہیں کرے گا اور سود ادا نہیں کرے گا، تو بعض صورتوں میں کارڈ رکھنا جائز ہو سکتا ہے (تفصیل مرجع کے فتوے پر منحصر ہے)۔

 

 

اضطرار (مجبوری) کا مسئلہ
 

اصول ہے کہ:

"الضرورات تبیح المحظورات"
شدید اضطرار بعض حرام چیزوں کو وقتی طور پر جائز بنا سکتا ہے۔

لیکن:

  • صرف سہولت اضطرار نہیں۔
  • حقیقی جان، مال یا بنیادی ضرورت کا خطرہ ہو تو فقہی حکم بدل سکتا ہے۔

اس لیے ہر کیس میں اپنے مرجعِ تقلید سے رجوع ضروری ہے۔


 

رِبا کے روحانی اثرات
 

اہلِ بیتؑ کی روایات میں آیا ہے کہ:

  • رِبا مال میں برکت کو ختم کر دیتا ہے۔
  • دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بنتا ہے۔
  • معاشرے میں ظلم کو فروغ دیتا ہے۔

اسلام میں اقتصادی نظام کا مقصد صرف منافع نہیں بلکہ عدل اور انصاف ہے۔

 

 سود لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔
 قرض پر مشروط اضافہ رِبا ہے۔
 جدید بینکاری میں داخل ہونے سے پہلے شرعی تحقیق ضروری ہے۔
 اپنے مرجعِ تقلید کے فتوے پر عمل کرنا واجب ہے۔

 

آج کے پیچیدہ مالی نظام میں سب سے اہم چیز تقویٰ، احتیاط اور شعور ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ معاشی زندگی بھی عبادت کا حصہ ہے، اور حلال و حرام کی تمیز ہر حال میں مقدم ہے۔

 

 

قرآنِ مجید میں سود (رِبا) کی مذمت
 

آیاتِ قرآنی مع ترجمہ

 

سورۃ البقرہ – آیت 275

اَلَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا...

ترجمہ:
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جسے شیطان نے چھو کر دیوانہ بنا دیا ہو۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔

 

سورۃ البقرہ – آیت 276

يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ

ترجمہ:
اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ کسی ناشکرے گناہگار کو پسند نہیں کرتا۔

 

سورۃ البقرہ – آیت 278–279

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود میں سے باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو، اگر تم مؤمن ہو۔

 

فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ...

ترجمہ:
اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔

یہ آیت سود کی حرمت پر سب سے سخت تنبیہ شمار ہوتی ہے۔

 

سورۃ البقرہ – آیت 280

وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ ۚ وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ

ترجمہ:
اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے خوشحالی تک مہلت دو، اور اگر (قرض) معاف کر دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔

یہ آیت سودی ذہنیت کے برعکس ہمدردی اور رعایت کا درس دیتی ہے۔

 

سورۃ آلِ عمران – آیت 130

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

ترجمہ:
اے ایمان والو! دوگنا چوگنا بڑھا کر سود مت کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔

 

سورۃ النساء – آیت 161

وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ...

ترجمہ:
اور (ان پر عذاب اس لیے آیا کہ) وہ سود لیتے تھے حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔

 

قرآنِ مجید میں سود:

  • واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے
  • اسے اللہ اور رسولؐ سے جنگ کے مترادف کہا گیا ہے
  • اسے مال کی برکت ختم کرنے والا بتایا گیا ہے
  • اور اس کے مقابلے میں صدقہ و احسان کو فروغ دیا گیا ہے

 

 

قرآنِ مجید میں رِبا کی مذمت

تفسیرِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں ایک تفصیلی تحقیقی جائزہ

 

 

اسلامی تعلیمات میں معاشی نظام کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ معیشت صرف لین دین کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی تعلقات، عدلِ اجتماعی اور روحانی پاکیزگی سے جڑی ہوئی ہے۔ قرآنِ مجید نے جہاں تجارت، کسبِ حلال اور انفاق کو سراہا ہے، وہیں رِبا (سود) کو سخت ترین الفاظ میں ممنوع قرار دیا ہے۔

رِبا کی مذمت محض ایک معاشی اصلاح نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور اعتقادی اصلاح بھی ہے۔ مکتبِ اہلِ بیتؑ میں اس مسئلے کو نہایت شدت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اور ائمہؑ نے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے۔ زیرِ نظر مقالہ قرآن کی آیات اور تفسیرِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں رِبا کے مفہوم، اس کی اقسام، حکمتِ حرمت اور عصرِ حاضر میں اس کے اطلاق کا جامع جائزہ پیش کرتا ہے۔

 

رِبا کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم
 

"رِبا" عربی زبان میں "زیادتی" اور "اضافہ" کے معنی میں آتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں رِبا اس اضافے کو کہتے ہیں جو کسی قرض یا ہم جنس اشیاء کے تبادلے میں بلا عوض اور مشروط طور پر لیا جائے۔
 

اسلام میں رِبا کی دو بنیادی اقسام بیان کی جاتی ہیں:
 

  1. رِبا القرض

قرض پر مشروط اضافہ
 

  1. رِبا المعاملہ

ہم جنس اشیاء کے تبادلے میں زیادتی
 

یہ دونوں صورتیں قرآن و سنت کی رو سے حرام ہیں۔

 

قرآنِ مجید میں رِبا کی مذمت
 

1. سورۃ البقرہ (275)

"الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ..."
 

یہ آیت سود خور کی قیامت کے دن کی حالت کو بیان کرتی ہے۔ اہلِ بیتؑ کی تفاسیر (مثلاً تفسیر نورالثقلین، تفسیر عیاشی) میں امام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ یہ کیفیت اس باطنی اضطراب کا نتیجہ ہے جو دنیا میں سود خوری سے اس کے نفس میں پیدا ہوا تھا۔

اہلِ بیتؑ کے مطابق سود خور دراصل انسانی ہمدردی سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کا دل سخت ہو جاتا ہے، جس کا ظہور قیامت میں دیوانگی کی صورت میں ہوگا۔

 

2. سورۃ البقرہ (276)

"يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ"
 

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ "محق" سے مراد صرف مال کی کمی نہیں بلکہ برکت کا ختم ہو جانا ہے۔ بظاہر سود مال میں اضافہ کرتا ہے، مگر اس سے سکون، خیر اور روحانی برکت ختم ہو جاتی ہے۔

اس کے مقابلے میں صدقہ بظاہر مال کم کرتا ہے مگر اللہ اسے بڑھا دیتا ہے — چاہے دنیا میں ہو یا آخرت میں۔

 

3. سورۃ البقرہ (278–279)

"فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ"
 

یہ اعلانِ جنگ قرآن کی سب سے سخت وعیدوں میں شمار ہوتا ہے۔ وسائل الشیعہ میں روایات موجود ہیں کہ ائمہؑ نے فرمایا کہ سود ایسا گناہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے براہِ راست جنگ کا اعلان کیا ہے۔

یہ جنگ صرف اخروی نہیں بلکہ دنیاوی آثار بھی رکھتی ہے — معاشی بحران، عدم مساوات اور سماجی بے چینی۔

 

4. سورۃ البقرہ (280)

"وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ"
 

اہلِ بیتؑ نے اس آیت کو اسلامی معاشی اخلاقیات کی بنیاد قرار دیا ہے۔ امام صادقؑ فرماتے ہیں کہ مقروض کو مہلت دینا قیامت کے دن عرشِ الٰہی کے سایہ کا سبب بنے گا۔

یہ آیت سودی نظام کے مقابلے میں ہمدردی اور تعاون کا ماڈل پیش کرتی ہے۔

 

5. سورۃ آلِ عمران (130)

"لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً"
 

ائمہؑ نے واضح کیا کہ یہاں دوگنا چوگنا بطور مثال ذکر ہوا ہے، نہ کہ حرمت کی شرط کے طور پر۔ لہٰذا ہر قسم کا مشروط اضافہ رِبا ہے، خواہ کم ہو یا زیادہ۔

 

 

اہلِ بیتؑ کی روایات میں رِبا کی شدت
 

روایات میں سود کی مذمت نہایت شدید انداز میں آئی ہے:
 

امام جعفر صادقؑ:

 "ایک درہم رِبا اللہ کے نزدیک ستر مرتبہ زنا سے زیادہ شدید ہے۔" (وسائل الشیعہ)
 

امام علیؑ:

 "جب کسی قوم میں سود عام ہو جائے تو وہ ہلاکت کے قریب ہو جاتی ہے۔"
 

یہ تعبیرات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ رِبا صرف مالی جرم نہیں بلکہ ایمان اور تقویٰ کے منافی عمل ہے۔

 

رِبا کے معاشرتی اور اقتصادی اثرات
 

اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی روشنی میں سود کے چند اہم اثرات:

  1. دولت کا ارتکاز
  2. غریب کا استحصال
  3. معاشی غلامی
  4. سماجی بے اعتمادی
  5. روحانی قساوت

اسلامی نظام اس کے مقابلے میں مشارکہ، مضاربہ، قرضِ حسنہ اور صدقات کو فروغ دیتا ہے۔

 

عصرِ حاضر میں رِبا کا اطلاق
 

آج کا عالمی مالیاتی نظام سود پر قائم ہے۔ بینکنگ، قرضہ جات، کریڈٹ کارڈ، حکومتی بانڈز — اکثر معاملات سودی ڈھانچے میں بندھے ہوئے ہیں۔
 

اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق:

  • قرض پر مشروط اضافہ حرام ہے۔
  • سود لینا اور دینا دونوں گناہ ہیں۔
  • اضطرار کی صورت میں بھی حدود کا تعین مرجعِ تقلید کی رہنمائی سے ہوگا۔

لہٰذا ایک مومن کی ذمہ داری ہے کہ حتی المقدور سودی معاملات سے اجتناب کرے اور شرعی متبادل اختیار کرے۔

 

روحانی پہلو

رِبا دل کی سختی، دعا کی عدم قبولیت اور ایمان کی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔ اہلِ بیتؑ کے نزدیک حلال رزق عبادت کا حصہ ہے۔
 

امام صادقؑ فرماتے ہیں:

"جو شخص اپنے اہل و عیال کے لیے حلال کماتا ہے وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے۔"

یہ تعلیم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مالی معاملات بھی بندگی کا حصہ ہیں۔

 

قرآنِ مجید نے رِبا کو قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے اور اسے اللہ و رسولؐ سے اعلانِ جنگ کے مترادف کہا ہے۔ تفسیرِ اہلِ بیتؑ اس حرمت کو مزید واضح کرتی ہے اور اسے ایک ہمہ جہت مسئلہ قرار دیتی ہے — روحانی، اخلاقی، معاشرتی اور اقتصادی۔
 

اسلامی معاشی نظام کا مقصد محض منافع نہیں بلکہ عدل اور توازن ہے۔
رِبا سے اجتناب دراصل ایمان، تقویٰ اور اجتماعی ذمہ داری کا مظہر ہے۔

 

 

 

جدید بینکاری اور اہلِ بیتؑ

سودی نظام کے تناظر میں ایک فقہی و تحقیقی جائزہ

 

 

عصرِ حاضر کا عالمی مالیاتی نظام بنیادی طور پر سود  پر قائم ہے۔ بینکنگ، قرضہ جات، حکومتی بانڈز، کریڈٹ کارڈز، مائیکروفنانس اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے سب ایک ایسے ڈھانچے میں کام کرتے ہیں جس کی بنیاد “پیسے سے پیسہ کمانا” ہے۔
 

دوسری طرف فقہِ جعفریہ، جو قرآن و سنتِ اہلِ بیتؑ پر استوار ہے، رِبا کو قطعی طور پر حرام قرار دیتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شیعہ مسلمان جدید بینکاری نظام میں رہتے ہوئے اپنے مالی معاملات کو کس طرح شرعی حدود میں رکھ سکتا ہے؟

یہ مقالہ اسی سوال کا تحقیقی جائزہ پیش کرتا ہے۔

 

رِبا اور جدید بینکاری کا بنیادی تعلق
 

روایتی بینک کا بنیادی ماڈل یہ ہے:

  • ڈپازٹر سے رقم لے کر اسے سود پر قرض دینا
  • قرض لینے والے سے اصل رقم کے ساتھ مشروط اضافہ وصول کرنا
  • اسی فرق سے منافع کمانا
     

فقہِ جعفریہ کی رو سے:

قرض پر ہر مشروط اضافہ رِبا اور حرام ہے۔

لہٰذا روایتی سودی قرض، خواہ ذاتی ہو یا کاروباری، شرعاً جائز نہیں۔

 

بینک میں رقم جمع کروانا
 

سودی اکاؤنٹس

اگر کوئی شخص بینک میں رقم اس شرط پر رکھتا ہے کہ اسے متعین شرح سے سود ملے گا، تو:

  • یہ رِبا کے زمرے میں آئے گا
  • سود لینا اور دینا دونوں حرام ہیں

اکثر مراجعِ تقلید کے مطابق، اگر سود وصول ہو جائے تو وہ ذاتی ملکیت نہیں بنتا بلکہ اسے حاکمِ شرع کی اجازت سے فقراء کو دینا ہوتا ہے۔

 

غیر مسلم یا سرکاری بینک کا معاملہ

بعض فقہی آراء میں تفصیل بیان کی گئی ہے کہ اگر بینک غیر اسلامی حکومت کا ہو تو سود لینے کے حکم میں فرق ہو سکتا ہے، لیکن:

  • سودی قرض لینا پھر بھی جائز نہیں
  • تفصیلی حکم اپنے مرجعِ تقلید سے رجوع کے بعد طے ہوگا

یہ مسئلہ “معاملہ با کافر حربی” کے باب میں بحث ہوتا ہے۔

 

قرض لینا
 

ہاؤسنگ لون / کار لون
 

اگر معاہدہ اس بنیاد پر ہو کہ:

اصل رقم + متعین اضافہ واپس کرنا ہوگا

تو یہ رِبا القرض ہے اور فقہِ جعفریہ میں حرام ہے۔

چاہے اضافہ کم ہو یا زیادہ، فیصد ہو یا فکس رقم — حکم یکساں ہے۔

 

اضطرار کی صورت
 

اگر حقیقی اضطرار ہو (مثلاً جان کا خطرہ یا بنیادی ضرورت)، تو فقہی اصول:

“الضرورات تبیح المحظورات”

لاگو ہو سکتا ہے، لیکن:

  • سہولت اضطرار نہیں
  • معاشی ترقی اضطرار نہیں
  • صرف شدید مجبوری قابلِ بحث ہے

اور اس کا تعین مرجعِ تقلید کی رہنمائی سے ہوگا۔

 

کریڈٹ کارڈ کا مسئلہ
 

کریڈٹ کارڈ عام طور پر اس شرط پر جاری ہوتا ہے کہ تاخیر کی صورت میں سود لگے گا۔

فقہی تجزیہ:

  • اگر انسان پختہ ارادہ رکھتا ہو کہ تاخیر نہیں کرے گا
  • اور عملاً سود ادا نہ کرے

تو بعض مراجع کے نزدیک کارڈ رکھنا بذاتِ خود حرام نہیں،
لیکن سود کی ادائیگی حرام ہے۔

 

اسلامی بینکاری — کیا واقعی متبادل ہے؟
 

اسلامی بینکاری کے دعوے کے مطابق وہ درج ذیل عقود (معاہدے) پر کام کرتی ہے:

  • مرابحہ
  • مضاربہ
  • مشارکہ
  • اجارہ
  • سلم
     

فقہِ جعفریہ کے اصول کے مطابق اگر:
 

معاہدہ واقعی شرعی ہو
 منافع تجارت یا شراکت سے ہو
 قرض پر مشروط اضافہ نہ ہو

تو وہ جائز ہو سکتا ہے۔

لیکن اگر:

  • معاہدہ محض نام کی تبدیلی ہو
  • اور حقیقت میں قرض + اضافہ ہی ہو

تو وہ بھی سود شمار ہوگا۔

لہٰذا ہر معاہدہ کی نوعیت کو سمجھنا ضروری ہے۔

 

جدید مالیاتی آلات

سودی بانڈز

فکسڈ ریٹرن کی شرط کے ساتھ سرمایہ کاری = رِبا
 

شیئر مارکیٹ

اگر:

  • کمپنی کا کاروبار حلال ہو
  • سودی معاملات غالب نہ ہوں

تو سرمایہ کاری جائز ہو سکتی ہے۔
 

انشورنس

فقہِ جعفریہ میں تجارتی انشورنس کو اکثر مراجع جائز قرار دیتے ہیں، بشرطیکہ عقد صحیح ہو۔

 

معاشی فلسفہ — فقہِ جعفریہ کی روح
 

اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق:

  • سرمایہ خود بخود منافع کا مستحق نہیں
  • خطرہ (Risk) اور محنت منافع کی بنیاد ہیں
  • ظلم اور استحصال حرام ہیں
     

اسلامی معاشی نظریہ “Risk Sharing” پر قائم ہے،
جبکہ سودی نظام “Risk Transfer” پر قائم ہے۔

یہی بنیادی فرق ہے۔

 

عصرِ حاضر کے چیلنجز
 

آج مسلمان درج ذیل مسائل سے دوچار ہے:

  • سودی معیشت میں روزگار
  • بین الاقوامی تجارت
  • ڈیجیٹل بینکنگ
  • مہنگائی اور مالی دباؤ
     

ایسے میں مکمل اجتناب مشکل ضرور ہے، لیکن:

شعور
 احتیاط
 شرعی تحقیق
 مرجع کی رہنمائی

یہ سب مل کر راستہ آسان کر سکتے ہیں۔

 

نتیجہ

فقہِ جعفریہ کے مطابق:

  • سود قطعی حرام ہے
  • قرض پر مشروط اضافہ ناجائز ہے
  • جدید بینکاری کے اکثر روایتی ماڈلز سودی ہیں
  • اسلامی متبادل موجود ہیں، مگر ان کی حقیقت کو پرکھنا ضروری ہے

ایک مومن کے لیے اصل کامیابی دنیاوی سہولت نہیں بلکہ شرعی اطمینان ہے۔

 

About the Author

Syed

A passionate storyteller and contributor to ShahBlogs, exploring the intersection of technology and lifestyle.

Conversation (0)

No comments yet. Be the first to share your thoughts!

Search

Stay Inspired

Get the latest insights and stories delivered directly to your inbox.

Advertisement

Premium Ad Space

Cookie Consent

Privacy Matters

We use cookies to enhance your experience, analyze site traffic, and serve personalized content. By clicking "Accept", you agree to our use of cookies.