شبِ برات کی فضیلت و اعمال
اور
امامِ زمانہؑ سے توسل اور عریضہ
"برات" کے معنی "چھٹکارا پانے" یا "بیزاری" کے ہیں۔ اسلامی روایات کے مطابق یہ وہ رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم کی آگ سے نجات عطا فرماتا ہے اور ان کے گناہوں کو معاف کرتا ہے، اسی لیے اسے 'شبِ برات' یعنی گناہوں سے بریت کی رات کہا جاتا ہے۔
شان و شوکت اور اہمیت
اس رات کی اہمیت دو بنیادی وجوہات سے بہت زیادہ ہے:
لیلة القدر کے بعد عظیم ترین رات:
امام جعفر صادق (ع) سے روایت ہے کہ جس طرح اللہ نے پیغمبر اکرم (ص) کو 'شبِ قدر' عطا کی، اسی طرح ہم اہلِ بیت (ع) کے لیے '15 شعبان' کی رات قرار دی ہے۔ یہ رات رزق کی تقسیم اور عمروں کے تعین کی رات بھی کہلاتی ہے۔
امامِ زمانہ (عج) کی ولادت:
اس رات کی سب سے بڑی شان یہ ہے کہ 255 ہجری میں اسی رات آخری حجتِ خدا، حضرت امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی ولادتِ با سعادت ہوئی۔ اس مناسبت سے یہ رات امید اور عدل کے قیام کی علامت ہے۔
قبولیتِ دعا:
روایات کے مطابق اس رات اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ پر لازم کیا ہے کہ وہ کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا (بشرطیکہ وہ گناہ کی دعا نہ مانگے)۔
مخصوص اعمال (مفاتیح الجنان کے مطابق)
اس رات کے اعمال بہت سے ہیں، جن میں سے اہم ترین یہ ہیں:
غسل:
گناہوں کی دھلائی اور پاکیزگی کی نیت سے غسل کرنا (جس سے اعمال کے ثواب میں اضافہ ہوتا ہے)۔
شب بیداری:
پوری رات عبادت، نماز، تلاوتِ قرآن اور دعا میں گزارنا۔ منقول ہے کہ جو اس رات بیدار رہے گا، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جب لوگوں کے دل مردہ ہو جائیں گے۔
زیارتِ امام حسین (ع):
اس رات کا افضل ترین عمل مولا حسین (ع) کی زیارت ہے۔ روایت ہے کہ اس رات تمام انبیاء (ع) کی ارواح امام حسین (ع) کی زیارت کے لیے آتی ہیں۔ (مختصر زیارت: السلام علیک یا ابا عبد اللہ، السلام علیک و رحمۃ اللہ و برکاتہ)۔
دعائے کمیل:
یہ دعا اصل میں حضرت خضر (ع) کی ہے جو مولا علی (ع) نے حضرت کمیل کو اسی رات کی مناسبت سے سکھائی تھی۔ اسے پڑھنا رزق میں اضافے اور گناہوں کی معافی کا سبب ہے۔
تسبیحاتِ اربعہ:
100 مرتبہ سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر، اور لا الہ الا اللہ پڑھنا۔ اس سے پچھلے گناہ معاف ہوتے ہیں اور حاجات پوری ہوتی ہیں۔
امامِ زمانہ (عج) کے لیے دعا:
چونکہ یہ آپ کی ولادت کی رات ہے، لہذا 'دعائے فرج' (اللہم کن لولیک...) کا کثرت سے ورد کرنا اور آپ کے ظہور کے لیے دعا کرنا۔
نمازِ جعفرِ طیار:
اس رات اس نماز کی ادائیگی کی بھی بہت تاکید کی گئی ہے۔
سجدوں میں دعا:
رسول خدا (ص) سے مروی ہے کہ اس رات سجدوں میں لمبی دعائیں مانگنا سنتِ نبوی ہے۔
یہ رات توبہ، رجوع الی اللہ اور امامِ وقت سے تجدیدِ عہد کی رات ہے۔ اس میں کی جانے والی عبادت بندے کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے۔
شبِ برات (15 شعبان کی رات) اسلام میں انتہائی فضیلت والی رات ہے، اسے امامِ وقت، حضرت امام مہدی (عج) کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے عظیم الشان مقام حاصل ہے۔
اس رات کے اہم ترین اعمال درج ذیل ہیں:
1. غسل اور نمازِ عشاء
اس رات کے اعمال کے لیے غسل کرنا مستحب ہے۔
نمازِ مغرب و عشاء کی اول وقت میں ادائیگی اور کثرت سے استغفار۔
2. شب بیداری (جاگنا)
اس پوری رات کو عبادت، دعا اور استغفار میں گزارنا بہت بڑی سعادت ہے۔ روایات کے مطابق، جو اس رات عبادت کے لیے جاگتا ہے، اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن لوگوں کے دل (قیامت میں) مردہ ہو جائیں گے۔
3. زیارتِ امام حسین (علیہ السلام)
15 شعبان کی رات امام حسین (ع) کی زیارت پڑھنا اس رات کا سب سے افضل عمل ہے۔ اگر کربلا جانا ممکن نہ ہو تو اپنے گھر کی چھت پر یا کسی بلند جگہ پر جا کر مختصر زیارت (السلام علیک یا ابا عبد اللہ...) پڑھی جا سکتی ہے۔
4. دعائے کمیل
اس رات دعائے کمیل پڑھنے کی خاص تاکید کی گئی ہے، کیونکہ یہ دعا مولا علی (ع) نے اسی رات کی مناسبت سے حضرت کمیل کو سکھائی تھی۔
5. مخصوص نمازیں
100 رکعت نماز: ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد 10 مرتبہ سورہ توحید (قُلْ هُوَ اللَّهُ) پڑھنا۔
4 رکعت نماز: ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد 100 مرتبہ سورہ توحید پڑھنا (یہ نماز بہت فضیلت کی حامل ہے)۔
6. تسبیحاتِ اربعہ
اس رات 100 مرتبہ درج ذیل تسبیحات پڑھنے کا بہت ثواب ہے:
سبحان اللہ (100 بار)
الحمد للہ (100 بار)
اللہ اکبر (100 بار)
لا الہ الا اللہ (100 بار)
7. دعائے امامِ زمانہ (عج)
چونکہ یہ امام مہدی (عج) کی ولادت کی رات ہے، لہذا دعاِ فرج (اللہم کن لولیک...) اور امام کی سلامتی کی دعائیں کثرت سے مانگیں۔
اہم نوٹ: ان تمام اعمال کا مقصد اللہ سے تقرب اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنا ہے۔ اگر آپ مکمل اعمال نہ بھی کر سکیں تو جتنا ممکن ہو سکے ذکرِ خدا اور توبہ میں وقت گزاریں۔
کتبِ ادعیہ (جیسے تحفۃ الزائر اور بحار الانوار) کے مطابق عریضہ لکھنا اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجات طلب کرنے اور امامِ وقت (عج) کو اپنا وسیلہ قرار دینے کا ایک خوبصورت طریقہ ہے۔
عریضہ لکھنے کی ضرورت اور مقصد
عریضہ دراصل ایک خط یا عرضی ہے جو بندہ اپنے معبود کو لکھتا ہے اور اسے امامِ زمانہ (عج) کی خدمت میں پیش کرتا ہے۔ اس کی ضرورت درج ذیل وجوہات سے ہے:
اظہارِ بندگی اور توسل:
یہ اللہ سے اپنی حاجت بیان کرنے کا ایک رسمی اور عقیدت مندانہ طریقہ ہے، جس میں ہم امام (عج) کو اپنا "شفیع" (سفارشی) بناتے ہیں۔
امام سے رابطہ:
عریضہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مومن اپنے امام کو غائب ہونے کے باوجود اپنے حال پر ناظر اور حاضر سمجھتا ہے۔
نفسیاتی سکون:
اپنی پریشانیوں کو لکھ کر اللہ اور امام کے سپرد کر دینے سے انسان کو قلبی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
روایتی اہمیت:
معصومین (ع) سے منقول ہے کہ جب تمہاری حاجات پوری نہ ہو رہی ہوں تو عریضہ لکھ کر پانی (دریا یا کنویں) میں ڈالو تاکہ وہ امامِ وقت تک پہنچ جائے۔
عریضہ لکھنے کے آداب
باوضو ہونا:
عریضہ لکھتے وقت پاک و پاکیزہ اور باوضو ہونا ضروری ہے۔
سفید کاغذ:
کوشش کریں کہ عریضہ سادہ سفید کاغذ پر لکھیں۔
تنہائی:
اسے لکھتے وقت خلوصِ دل اور تنہائی اختیار کریں تاکہ آپ کی توجہ صرف اللہ اور امام (عج) کی طرف ہو۔
عریضہ کا مکمل عربی متن
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَتَبْتُ إليك يا مولاي صلوات اللهِ عَلَيْكَ مُسْتَغِيثًا وَ شَكُوتُ مَا نَزَلَ بِي مُسْتَجِيْرًا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ بِكَ مِنْ أَمْرِ قَدْ دَهَمَنِي وَ أَشْغَلَ قَلْبِي وَ أَطَالَ فِكْرِي وَ سَلَبَنِي بَعْضَ بِي وَ غَيْرَ خَطِيرِ نِعْمَةِ اللَّهِ عِنْدِي أَسْلَمَنِي عِنْدَ تَخَ لِ وُرُودِهِ الْخَلِيلُ وَتَبَرَّةٌ مِنِّي عِنْدَ تَرَائِي إِقْبَالِهِ إِلَى الْحَمِيمِ وَ عَجَزَتْ عَنْ دِفَاعِهِ حِيْلَتِي وَ خَانَنِي فِي تَحَمَلِهِ صَبْرِي وَ قَوَّتِي فَلْجَاتُ فِيهِ إِلَيْكَ وَتَوَكَّلْتُ فِي الْمَسْأَلَةِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَنَاؤُهُ عَلَيْهِ وَ عَلَيْكَ وَ فِي دِفَاعِهِ عَنِّي عَلْمَا بِمَكَانِكَ مِنْ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلِيَّ التَّدْبِيرِ وَ مَالِكِ الْأُمُورِ وَائِقًا بِكَ فِي الْمَسَارَعَةِ فِي السَّفَاعَةِ إِلَيْهِ جَلَّ ثَنَاؤُهُ فِي أَمْرِي مُتَيَقِنَا لِإِجَابَتِهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى إِيَّاكَ بِإِعْطَانِي سُوْلِي وَ أَنْتَ يَا مَولاي جَدِيرٌ بِتَحْقِيقِ ظَنِي وَ تَصْدِيقٍ أَمَلِي فِيكَ فِي أَمْرِ كَذا وكذا
(اس کے بعد اپنی حاجت اردو یا کسی بھی زبان میں لکھیں، مثلاً: "اے میرے مولا، میری فلاں مشکل حل فرما دیں یا مجھے رزقِ حلال عطا کریں")
پھر آخر میں یہ لکھیں:
فِيمَا لَا طَاقَةَ لِي بِحَمْلِهِ وَلَا صَبْرَ لِي عَلَيْهِ وَ إِنْ كُنْتُ مُسْتَحِقًا لَهُ وَ لِأَضْعَافِهِ بِقَبِيْحِ أَفْعَالِي وَ تَفْرِيطِي فِي الْوَاجِبَاتِ الَّتِي لِلَّهِ عَزَّوَ جَلَّ فَأَغِثْنِي يَا مَولاي صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْكَ عِنْدَ اللَّهْفِ وَقَدِّمِ الْمَسْأَلَةَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَمْرِي قَبْلَ حُلُولِ التَّلَفِ وَ شَمَانَةِ الأَعْدَاءِ فَبِكَ بُسِطَتِ النِّعْمَةُ عَلَيَّ وَأَسْأَلَ اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ لِي نَصْراً عَزِيزاً وَ فَتْحَاً قَريبا فِيهِ بُلُوْ الأَمَالِ وَ خَيْرُ الْمُبَادِي وَ خَوَاتِيمُ الأَعْمَالِ وَالْأَمْنُ مِنَ الْمَخَاوِفِ كُلِّهَا فِي كُلِّ حَالِ إِنَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ لِمَا يَشَاءُ فَعَالَ وَهُوَ حَسْبِي وَنِعْمَ الْوَكِيلُ فِي الْمَبْدَ وَ الْآلِ --- مَا شَاءَ اللَّهُ لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِي العظيم
………………….یہاں اپنا نام لکھیں
یہ ٹکڑا کاٹ کر علیحدہ رکھئیے اور دریا میں ڈالتے وقت پڑھیے:
يَا حُسَيْنَ بْنَ رَوْحٍ سَلَامٌ عَلَيْكَ أَشْهَدُ أَنَّ وَفَاتَكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ انَّكَ حَيٌّ عِنْدَ اللَّهِ مَرْرُوقُ وَ قَدْ خَاطَبْتَكَ فِي حَيَاتِكَ اللَّتِي لَكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَ هَذِهِ رُقْعَتِي وَ حَاجَتِي إِلَى مَولانا صَاحِبَ الْأَمْرِ عَلَيْهِ السَّلامُ فَسَلَّمَهَا الَيْهِ فَأَنْتَ الْ قَةُ الْآمِين

عربی متن کا اردو ترجمہ
"شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔
اے میرے آقا (ع)، میں آپ سے مدد طلب کرتے ہوئے فریاد کر رہا ہوں، اور اس مصیبت کی شکایت آپ سے کرتا ہوں جو مجھ پر نازل ہو چکی ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں اور پھر آپ کی پناہ میں، اس معاملے سے جو اچانک مجھ پر ٹوٹ پڑا، جس نے میرے دل کو مشغول کر دیا، میرے ذہن کو پریشان کر دیا، میری قوتِ باطن کا کچھ حصہ مجھ سے چھین لیا، اور اللہ کی وہ عظیم نعمتیں جو میرے ساتھ تھیں، ان کو بدل کر رکھ دیا۔
میرا قریبی دوست مجھے اس وقت چھوڑ گیا جب یہ مصیبت مجھ پر آئی، اور جب اس نے اسے میری طرف بڑھتے دیکھا تو اس نے مجھ سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ میری تدبیریں اسے دور کرنے میں ناکام رہیں، اور نہ میرا صبر اور نہ ہی میری طاقت اسے برداشت کر سکی۔
پس میں نے اس (مشکل) میں آپ کی پناہ لی ہے، اور اللہ سے مانگنے کے معاملے میں میں نے اللہ تعالیٰ پر اور آپ پر توکل کیا ہے، اس چیز سے حفاظت طلب کرتے ہوئے جو مجھے اذیت دے رہی ہے۔ میں اللہ سے—جو قریب کرنے والا ہے اور تمام امور کا مالک ہے—آپ کے مقام و مرتبے کے واسطے سے سوال کرتا ہوں۔ میں اپنے معاملات میں آپ کی اللہ کے حضور تیز شفاعت پر بھروسا رکھتا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ اللہ میرے حاجات کے بارے میں آپ کی دعا قبول فرمائے گا۔
اے میرے آقا! آپ اس بات کے اہل ہیں کہ میرے خیالات کو حقیقت میں بدل دیں، اور میرے معاملات کے بارے میں آپ سے وابستہ امیدوں کو عزت و تکمیل عطا فرمائیں۔
(اس کے بعد اپنی حاجت اردو یا کسی بھی زبان میں لکھیں، مثلاً: "اے میرے مولا، میری فلاں مشکل حل فرما دیں یا مجھے رزقِ حلال عطا کریں")
اس (حاجت) کو برداشت کرنے کی مجھ میں نہ طاقت ہے اور نہ صبر، جبکہ آپ اس کو حل کرنے پر قادر ہیں، اگرچہ یہ صورتِ حال میرے اپنے برے اعمال اور اللہ تعالیٰ کی واجب عبادات میں میری کوتاہی کی وجہ سے ہے۔ پس اے میرے آقا (ع)، میری پریشانیوں میں میری مدد فرمائیں، اور میری حاجات کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں، مصیبتوں کے شروع ہونے اور دشمنوں کے تمسخر سے پہلے، کیونکہ آپ کے ذریعے ہی مجھ پر نعمتوں کی فراوانی ہے۔
اور میں اللہ تعالیٰ سے میرے لیے باعزت فتح اور قریب کامیابی کا سوال کرتا ہوں، جو مجھے میری امیدوں تک پہنچائے، اچھے اصولوں پر قائم رکھے، میرے اعمال کو کامل کرے، اور ہر حالت میں ہر قسم کے خوفناک امور سے مجھے محفوظ رکھے۔ بے شک وہ (اللہ) جو چاہتا ہے کرتا ہے، اور وہی مجھے کافی ہے—ابتدا میں بھی اور انتہا میں بھی—اور وہی بہترین کارساز ہے جس پر بھروسا کیا جاتا ہے۔
………………….یہاں اپنا نام لکھیں
پانی میں ڈالنے کا طریقہ
جب آپ عریضہ لکھ لیں، تو اسے تہہ کر کے کسی پاک مٹی یا آٹے کی گولی میں محفوظ کر لیں۔ پھر کسی بہتے ہوئے پانی (دریا یا نہر) پر جائیں اور امام کے نائبین میں سے ایک خاص نائب
" حسین بن روح" کو مخاطب کر کے یہ کہیں:
اے حسین بن روح! آپ پر سلام ہو۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کی وفات اللہ کی راہ میں ہوئی، اور بے شک آپ اللہ کے نزدیک زندہ ہیں اور رزق دیے جاتے ہیں۔
میں نے آپ سے اس زندگی کے ساتھ خطاب کیا ہے جو آپ کو اللہ عزّوجلّ کے حضور حاصل ہے۔
اور یہ میری عرضداشت (رقعہ) ہے اور میری حاجت ہمارے مولا، صاحبُ الامر علیہ السلام کی خدمت میں ہے،
پس اسے اُن تک پہنچا دیجیے،
کہ بے شک آپ ہی امین اور قابلِ اعتماد پہنچانے والے ہیں۔)
پھر وہ عریضہ پانی میں ڈال دیں۔
ایک اہم بات: عریضہ ایک دعا ہے، اور دعا کے لیے یقینِ کامل شرط ہے۔ اللہ آپ کی اور تمام مومنین کی حاجات کو امامِ زمانہ (عج) کے صدقے میں قبول فرمائے۔