باب العلم حضرت علی کا ایک وسیح و موفصل خطبہ جسکو خطبہ معجزہ بھی کہا جاتا ہے. عقل انسانی کی وسعتوں سے بلاتر اور علم کی محراج کا مظہر ہے مولا کائنات کا یہ خطبہ فصاحت و بلاغت کی بلندیوں کی ایک روشن مثال ہے
خطبۂ امیرالمؤمنینؑ (خُطبة بلا ألف)
حمدت من عظمت منته، و سبغت نعمته، و سبقت غضبه رحمته، و تمت كلمته، و نفذت مشيته، و بلغت حجته (قضيته)، و عدلت قضيته. حمدته حمد مقر بربوبيته، متخضع لعبوديته، متنصل من خطيئته، معترف بتوحيده، مستعيذ من وعيده، مؤمل من ربه رحمة (مغفرة) تنجيه، يوم يشغل كل عن فصيلته و بنيه، و نستعينه و نسترشده و نستهديه، و نؤمن به و نتوكل عليه. و شهدت له تشهد عبد مخلص موقن، و فردته تفريد مؤمن متق و وحدته توحيد عبد مذعن، ليس له شريك في ملكه و لم يكن له ولي في صنعه؛ جل عن مشير و وزير، و تنزه عن مثل وعون و معين و نظير، علم فستر و بطن فخبر، و نظر فجبر، و ملك فقهر؛ و عصي فغفر، و عبد فشكر، و حكم فعدل، و تكرم و تفضل،. لن يزول و لم يزل، ليس كمثله شيء، و هو قبل كل شيء و بعد كل شيء رب متفرد بعزته، متمكن بقوته، متقدس بعلوه، متكبر بسموه، ليس يدركه بصر و لم يحط به نظر، قوي منيع، بصير سميع، حليم حكيم، رؤوف رحيم، عجز عن وصفه من وصفه، و ظل نعته من نعته، وصل به من نعمته من يعرفه، قرب فبعد، و بعد فقرب، يجيب دعوة من يدعوه، و يرزق عبده و يحبوه، ذو لطف خفي، و بطش قوي، و رحمة موسعة، و عقوبة موجعة، و رحمته جنة عريضة مونقة، و عقوبته جحيم موصدة موبقة (موثقة). و شهدت ببعث محمد (ص) عبده و رسوله، و نبيه و صفيه و حبيبه و خليله، صلة تحظيه، و تزلفه و تعليه، و تقربه و تدنيه، بعثه في خير عصر و حين فترة كفر، رحمة لعبيده و منة لمزيده، ختم به نبوته، و قوى (وضح) به حجته، فوعظ و نصح و بلغ و كدح، رؤوف بكل مؤمن رحيم، رضي ولي سخي زكي، عليه رحمة و تسليم و بركة و تكريم، من رب غفور رؤوف رحيم، قريب مجيب حكيم. وصيتكم معشر من حضرني بتقوى (بوصية) ربكم، و ذكرتكم بسنة نبيكم، فعليكم برهبة تسكن قلوبكم، و خشية تذرف دموعكم، و تقية تنجيكم يوم يذهلكم و يبليكم، يوم يفوز فيه من ثقل وزن حسنته، و خف وزن سيئته. لتكن مسألتكم مسألة (سؤل) ذل و خضوع و شكر و خشوع، و توبة و نزوع، و ندم و رجوع، و ليغتنم كل مغتنم منكم صحته قبل سقمه، و شبيبته قبل هرمه فكبره و مرضه، و سعته قبل فقره و خلوته (فرغته) قبل شغله، و ثروته قبل فقره، و حضره قبل سفره، و حيته قبل موته، ثم يكبر و يهن و يهرم و يمرض و يسقم و يمل طبيبه و يعرض عنه حبيبه، و ينقطع عمره و يتغير لونه، و يقل عقله، ثم قيل: هو موعوك و جسمه منهوك، قد جد في نزع شديد، و حضره قريب و بعيد، فشخص ببصره و طمح بنظره و رشح جبينه و خطف عرنينه و سكن حنينه و جنبت نفسه و بكته عرسه و حفر رمسه و يتم منه ولده و تفرق عنه عدده (عدوه و صديقه)، و قسم جمعه و ذهب بصره و سمعه، و لقن و مدد، و وجه و جرد، و غسل و عري و نشف و سجي، و بسط له و هيئ، و نشر عليه كفنه، و شدد منه ذقنه، و قبض و ودع ، و قمص و عمم و لف و سلم و حمل فوق سرير و صلي عليه بتكبير بغير سجود و تعفير و نقل من دور مزخرفة و قصور مشيدة و حجر منضدة، فجعل في ضريح ملحود، ضيق مرصود، بلبن منضود، مسقف بجلمود، و هيل عليه عفره و حثي عليه مدره، فتحقق حذره، و تخفق صدره، و نسي خبره، و رجع عنه وليه و صفيه و نديمه و نسيبه و حميمه، و تبدل به قرينه و حبيبه، فهو حشو قبر و رهين قفر، يسعى في جسمه دود قبره، و يسيل صديده في منخره على صدره و نحره، تسحق تربته لحمه و ينشف دمه و يرق عظمه و يقم في قبره حتى يوم حشره و نشره، فينشر من قبره و ينفخ في صوره و يدعى لحشره و نشوره، فثم بعثرت قبور و حصلت سريرة في صدور و جئ بكل نبي و صديق و شهيد و نطيق، و وقف لفصل حكمه عند رب قدير بعبيده خبير بصير، فكم من زفرة تضفيه و حسرة تنضيه (تقصيه)، في موقف مهول و مشهد جليل، بين يدي ملك عظيم، بكل صغيرة و كبيرة عليم، يلجمه عرقه و يجفوه قلقه، فعبرته غير مرحومة و صرخته (حجته) غير مقبولة، و برزت صحيفته و تبينت جريرته، و نطق كل عضو منه بسوء عمله، فشهدت عينه بنظره و يده ببطشه و رجله بخطوه و جلده بلمسه و فرجه بمسه، و يهدده منكر و نكير، و كشف له حيث يسير، فسلسل جيده و غلت يده و سيق يسحب وحده، فورد جهنم بكرب و شده، فظل يعذب في جحيم، و يسقى من حميم، يشوي وجهه و يسلخ جلده، يضربه زبانيته بمقمع من حديد، و يعود جلده بعد نضجه كجلد جديد، يستغيث فتعرض عنه خزنة جهنم، و يستصرخ فيلبث حقبة بندم، فلم يجده ندمه، و لم ينفعه حينئذ ندمه. نعوذ برب قدير من شر كل مصير، و نطلب منه عفو من رضى عنه، و مغفرة من قبل منه، فهو ولي سؤلي و منجح طلبتي، فمن زحزح عن تعذيب ربه سكن في جنته بقربه و خلد في قصور مشيده، و ملك حور عين و حفدة، و طيف عليه بكؤوس و سكن حضير فردوس، و تقلب في نعيم، و سقي من تسنيم و شرب من عين سلسبيل ممزوجة بزنجبيل، مختومة بمسك و عبير، مستديم للسرور و مستشعر للحبور، يشرب من خمور، في روضة مغدق ليس يصدع من شربه و ليس ينزف، هذا منقلب من خشى ربه و حذر ذنبه و نفسه، و تلك عقوبة من عصى منشئه و سولت له نفسه معصية مبدئه، ذلك قول فصل، و حكمة حكم عدل، قص قصص، و وعظ نص، تنزيل من حكيم حميد، نزل به روح قدس مبين (متين) من عند رب كريم على نبي مهتد مهدي رشيد رحمة للمؤمنين، مبين من عند رب كريم، و سيد حلت عليه سفرة، مكرمون بررة. عذت برب عليم حكيم، قدير رحيم، من شر عدو و لعين رجيم، فليتضرع متضرعكم، و يبتهل مبتهلكم، و يستغفر رب كل مربوب لي و لكم.
ثم قرأ بعدها قوله تعالى: {تلك الدار الآخرة نجعلها للذين لا يريدون علوا في الأرض ولا فسادا والعاقبة للمتقين} (القصص:83).
[1] بحار الانوار- العلامة المجلسي، ج74، ص342، رواية28، باب14.
[2] مصباح الكفعمي- الشيخ تقي الدين ابراهيم العاملي الكفعمي، ج2، ص849- 852.

ترجمه خطبه معجزه بقید بلا الف
خطبه بغير الف (خطبه موفقی) یہ خطبہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے معجزات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس خطبہ میں اول تا آخر ایک لفظ بھی اب نہیں جس میں الف ہو حالانکہ زبان عربی میں الف الیسا حرف ہے جو سب سے زیادہ مستعمل ہے۔ مطالب السئول میں لکھا ہے کہ ایک روز رسول کریم اور چند اصحاب ایک مقام پر جمع تھے اور بحث شروع ہوئی کہ حروف تہجی میں کون سا حرف ایسا ہے جس کے بغیر کوئی جملہ پورا نہیں ہو سکتا اور الفاظ میں جس کا سب سے زیادہ استعمال ہو سب نے اتفاق کیا کہ الف کے بغیر کلام کرنا ناممکن ہے۔ اس محفل میں حضرت علی علیہ السلام بھی موجود تھے۔ یہ سنتے ہی آپ نے فی البدیہ یہ خطبہ ارشاد فرمایا :-
حمد کرتا ہوں میں اس کی جس کا احسان عظیم ہے اس کی نعمت وسیع و کامل ہے اور اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے اس کی حجت پہونچ چکی ہے اور اس کا فیصلہ مبنی بر عدل ہے ۔ اس کی حمد اس طرح کرتا ہوں جس طرح اس کی ربوبیت کا اقرار کرنے والا اس کی عبودیت میں فردینی کرنے والا خطاؤں سے پر ہیز کرنے والا اس کی توحید کا اعتراف کرنے والا اور اس کے قہر سے پناہ مانگنے والا کرتا ہے۔ اپنے رب سے مغفرت اور نجات کا امیدوار ہوں اس روز جب کہ ہر شخص اپنی اولاد اور عزیزوں سے بے پرواہ ہوگا ہم اس سے مدد و ہدایت چاہتے ہیں اور اس پر ایمان لائے ہیں اور اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ میں اس بندہ خالص کی طرح گواہی دیتا ہوں جو اس کے وجود کا یقین رکھتا ہو اور مثل اس مومن کے جو اس کی وحدانیت کا تین رکھتا ہو۔ اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک اور اس کی کائنات میں کوئی اس کا ولی یا حصہ دار نہیں۔ اس کی شان اس سے ارفع و اعلیٰ ہے کہ اس کا کوئی مشیر، وزیر مدد گار معین یا نظیر ہو۔ وہ سب کا حال جانتا ہے اور عیب پوشی کرتا ہے وہ باطن کی حالت سے واقف ہے اس کی بادشاہت سب پر غالب ہے۔ اگر گناہ کیا گیا تو وہ معاف کر دیتا ہے اور عدل کے ساتھ حکم دیتا ہے۔ وہ فضل و کرم کرتا ہے نہ اس کو کبھی زوال آیا نہ آئے گا اور کوئی اس کے مثل نہیں وہ ہر شے کے پہلے سے پروردگار ہے وہ اپنی ہی عزت و بزرگی سے غالب ہے اور اپنی قوت سے ہر شے پر مکن ہے اپنی عالی مرتبی سے مقدس ہے اپنی رفعت کی وجہ اس میں کبریائی ہے۔ نہ آنکھ اس کو دیکھ سکتی ہے نہ نظر اس کا احاطہ کر سکتی ہے وہ قوی برتر ، بصیر ہر بات کا سننے والا اور مہربان و رحیم ہے۔ جس شخص نے بھی اس کا وصف کرنا چاہا عاجزہ ہو گیا نہ کر سکا جس نے را جس نے اپنے فہم میں) اس کو پہچانا اس نے خطا کی وہ با وجود نزدیک وصف کرنا چاہا عاجزہ ہو گیا نہ کر سکا جس نے (اپنے فہم میں) اس کو پہچانا اس نے خطا کی وہ با وجہ دنزدیک ہونے کے دور ہے۔ اور دور ہونے کے باوجود قریب ہے جو اس سے دعا کرتا ہے وہ قبول کرتا ہے۔ اور روزی دیتا ہے اور محبت کرتا ہے وہ صاحب لطف خفی ہے اس کی گرفت قوی ہے اور عنایت بہت بڑی ہے اس کی رحمت وسیع ہے اس کا عذاب دردناک ہے اس کی رحمت جنت ہے جو وسیع اور حیرت انگیز ہے اس کا عذاب دوزخ ہے جو مہلک اور پھیلا ہوا ہے ۔ گواہی دیتا ہوں میں کہ محمد اس کے رسول بندہ صفی نبی محبوب دوست اور برگزیدہ ہیں ان کو ایسے وقت مبعوث بہ رسالت کیا جبکہ زمانہ نبی سے خالی تھا اور کفر کا دور دورہ تھا وہ اس کے بندوں پر رحمت ہیں مزید براں اپنی نبوت کو ان پر ختم اور اپنی حجت کو مضبوط کر دیا۔ پس انہوں نے وعظ فرمایا اور نصیحت کی اور حکم خدا بندوں کو پہنچایا اور ہر طرح کی کوشش کی وہ ہر مومن پر مہربان ہیں وہ رحیم سخی اور اس کے پسندیدہ اور پاکیزہ دلی ہیں ان پر خدا کی جانب سے جانب سے رحمت در و سلام، برکت و عظمت و اکرام ہو جو بخشنے والا قریب اور دعا قبول کرنے والا ہے۔ اسے حاضرین مجلس میں تمہیں تمہارے پروردگار کا حکیم سناتا ہوں جو مجھے پہونچا ہے اور دمیت کرتا ہوں اور تمہیں تمہارے پیغمبر کی سنت یاد دلاتا ہوں تمہیں چاہیئے کہ خدا سے ڈرو تاکہ تمہیں اطمینان قلب حاصل ہو اور خدا سے ایسا ڈرو کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں اور ایسی پرہیزگاری اختیار کردو کہ جو تم کو نجات دلا کے قبل اس کے کہ آزمائش کا دن آجائے اور تم پریشانی میں گم ہو جاؤ۔ اس روز وہی شخص رستگار ہو گا جس کے تو اب کا پلہ بھاری اور گناہوں کا پلہ ہلکا ہو گا تم کو چاہیتے کہ جب بھی اس سے دعا کر دے تو بہت ہی عاجزی اور گڑ گڑا کے تو یہ اور خوشامد اور ذلت کے ساتھ کرو اور دل سے گناہوں کا خیال دور کر کے ندامت کے ساتھ خدا کی طرف رجوع ہو۔ دے تم کو چاہتے کہ بیماری سے قبل صحت کو اور بڑھا؟ سے پہلے جوانی کو فقر سے پہلے فراغ بانی کو اور سفر سے پہلے حضر کو اور کام میں مشغول ہونے سے پہلے فراغت کو نیمت جانو ایسا نہ ہو کہ پیری آجائے اور تم سب کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو جاؤ یا مرض عادی ہو جائے اور طبیب رنج میں مبتلا کرے اور احباب رو گردانی کریں عمر منقطع ہو جائے اور عقل میں فتور آجائے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ بخار کی شدت سے حالت خراب ہو گئی اور جسم لاغر ہو گیا۔ پھر جان کنی کی سختی ہوتی ہے اور قریب و بعید کا ہر شخص اس کے پاس آتا ہے اور اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں پتلیاں پھر جاتی ہیں پیشانی پر پسینہ آتا ہے ناک ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور روح قبض ہو جاتی ہے اس کی زوجہ رونے پیٹنے لگتی ہے قبر کھودی جاتی ہے اور اس کے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ (یعنی ساتھی، متفرق ہو جاتے ہیں۔ اعضا شکستہ ہو جاتے ہیں اور بنیائی و سماعت جاتی رہتی ہے پھر اس کو سیدھا ٹا دیتے ہیں اور لباس اتار کر غسل کیا جاتا ہے اور کپڑے سے جسم پو نچھتے ہیں اور خشک کرکے اس پر ایک چادر ڈال دی جاتی ہے اور ایک بھاری جاتی ہے اور کفن لایا جاتا ہے اور اس کی ٹھڑی باندھ دی جاتی ہے اور تمہیں پہنایا جاتا ہے اور عمامہ باندھ کر رخصت کر دیتے ہیں اور پھر جنازہ اٹھایا جاتا ہے اور بغیر سجدہ و تغیر کے صرف تکبیر کے ساتھ اس پر نماز پڑھی ہی جاتی ہے آراستہ طلا کار اور مضبوط محلوں سے نفیس فرش والے کروں سے لا کر اس کو تنگ محمد میں ڈال دیتے ہیں اور تہ بہ تہ انیٹوں سے قبر بنا کر پتھر سے پاٹ کر اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے اور ڈھیلوں سے پر کر دی جاتی ہے۔ میت پر دہشت چھا جاتی ہے مگر کسی کو معلوم نہیں ہوتا۔ درست و عزیز اس کو چھوڑ کر پلٹ جاتے ہیں اور سب بدل جاتے ہیں اور مردہ قبر میں پڑا رہتا ہے اور مٹی ہونے لگتا ہے اور اس کے بدن پر کیڑے دوڑتے پھرتے ہیں اس کی ناک سے پیپ بہتے لگتی ہے اور اس کا گوشت خاک ہونے لگتا ہے اس کا خون دونوں پہلوؤں میں خشک ہو جاتا ہے اور ہڈیاں بوسیدہ ہو کر مٹی ہونے لگتی ہیں وہ روز قیامت تک اسی طرح رہتا ہے یہاں تک کہ خدا پھر اس کو زندہ کر کے قبر سے اٹھاتا ہے۔
جب صور پھونکا جائے گا تو وہ قبر سے اٹھے گا۔ اور میدان حشر و نشر میں بلایا جائے گا اور اس وقت اہل قبور زندہ ہوں گے اور قبر سے نکالے جائیں گے اور ان کے سینہ کے راز ظاہر کئے جائیں گے اور ہر نبی صدیق و شہید حاضر کیا جائے گا اور فیصلہ کے لئے رب قدیر جو اپنے بندوں کے حالات سے آگاہ ہے جدا جدا کھڑا کرے گا۔ پھر بہت سی آوازیں اس کو پریشانی میں ڈال دیں گی اور خوف وحسرت سے وہ لاغر ہو جاتے گا اور اس بادشاہ عظیم کے سامنے جو ہر چھوٹے اور بڑے گناہ کو جانتا ہے ڈرتا ہوا حاضر ہو گا۔ اس وقت گناہوں کی شرم سے اس قدر پسینہ بہے گا کہ منہ تک آجائے گا اور اس کو اس سے قلق ہو گا۔ وہ بہت کچھ آہ و فریاد کرے گا مگر کوئی شنوائی نہ ہو گی اور اس کے سب گناہ ظاہر کر دیتے جائیں گے اور اس کا نامہ اعمال پیش کیا جائے گا پس وہ اپنے اعمال بد کو دیکھے گا اور اس کی بد نظری کی اور ہاتھ بیجا مارنے کی اور پاؤں (برے کام کے لئے جانے کی اور شرم گاہ بد کاری کی اور جلد مس کرنے کی گواہی دیں گے۔ پس اس کی گردن میں زنجیر ڈال دی جائے گی اور مشکیں باندھ دی جائیں گی۔ پھر کھینچ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور وہ روتا پیتا داخل جہنم ہوگا ۔ جہاں اس پر سخت عذاب کیا جائے گا۔ جہنم کا کھوتا ہوا پانی اس کو پینے کو ملے گا جس سے اس کا منہ جل جائے گا۔ اور کھال نکل جائے گی۔ فرشتے آہنی گرزوں سے اس کو ماریں گے اور کھال نکل جائے گی۔ فرشتے آہنی گرزوں سے اس کو ماریں گے اور کھال اڑ جانے کے بعد نئی کھال پھر پیدا ہو گی وہ بہت کچھ اورہ فریاد کرے گا مگر تنہا نہ جہنم کے فرشتے اس کی طرف سے منہ پھیر لیں گے ۔ اسی طرح ایک مدت دراز تک دہ غذا میں مبتلا اور نادم رہے گا اور استغاثہ کرتا رہے گا۔ میں پروردگار قدیر سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھے ہر مفرشتے کے شر سے محفوظ رکھے اور میں اس سے ایسی معانی کا خواستگار ہوں جیسے اس نے کسی شخص سے راضی ہو کر اس کو عطا کی ہوا اور ایسی مغفرت چاہتا ہوں جو اس نے قبول فرمائی ہو۔ پس دہی میری خواہشیں پوری کرنے والا اور طلب کا بہ لانے والا ہے جو شخص مشخحق عذاب نہیں ہے وہ بہشت کے مضبوط محلوں میں ہمیشہ رہے گا اور حور عین دو خادم اس کی ملک ہوں گے جام ہائے کوثر سے سیراب ہو گا اور خطیرہ قدس میں مقیم ہو گا۔ نعمت ہائے بہشت میں متصرف رہے گا اور نہر تسنیم کا پانی پیے گا اور چشم سلسبیل ہے جس میں سونٹہ ملی ہوتی ہے اور مشک دعبیر کی مہر لگی ہوتی ہے سیراب ہو گا اور وہاں کا دائمی مالک ہو گا وہ معطر شراب پتے گا مگر اس سے خمار ہو گا اور نہ تو اس میں فتوریہ منزلت اس شخص کی ہے جو خدا سے ڈرتا اور گنا ہوں سے بچتا ہے اور وہ عذاب اس شخص کے لئے ہے جو اپنے خالق کی نافرمانی کرتا اور خواہشات نفانی سے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے پس یہی قول فیصل اور عادلانہ حکم ہے اور بہترین قصہ د نصیحت ہے جس کی صراحت خدا وند حکیم وحمید نے اس کتاب میں فرمائی ہے جو روح القدس نے ہدایت یافتہ راست باز پیغمبر کے قلب پر نازل کیا میں پروردگار علیم و رحیم و کریم سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھ کو ہر دشمن یعین درحیم کے شر سے بچا ہے پس اس کی بارگاہ میں عاجزی کرنے دانوں کو چاہیئے کہ اور عاجزی کریں اور دعا کرنے والے دعا کریں اور تم میں سے ہر شخص میرے اور اپنے لئے استغفار کرے میرا پروردگار تنہا میرے لئے لیس ہے۔
(شرح نہج البلاغہ ج ٤)
نوٹ : یہ خطیہ ان کتب میں بھی مرقوم ہے۔ جمع الجوامع (سیوطی) کفایت الطالب محمد بن مسلم شافعی ، کشف الغمه اس کے رجال میں ابو الحسن الخلال - احمد بن محمد ثابت بن بندار جری بن کلب وغیرہ نہیں ہ اسے سہ تک یہ - خطبہ جامعہ دمشق کے درمیان ادبیہ عربیہ میں شریک تھا۔